امام کے پیچھے مؤذن کا مصلی بچھانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
امام کے پیچھے مؤذن کے لیے مصلی بچھایا جا سکتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
سوال میں بیان کردہ مصلحت وحکمت کے پیش نظر امام صاحب کے پیچھے مؤذن صاحب کے لیے مصلی بچھایا جاسکتا ہے، اس میں کوئی حرج نہیں ہے جبکہ مصلی بچھانے کو شرعاً لازم وضروری نہ سمجھا جائے۔
تفصیل اس میں یہ ہے کہ جو شخص اذان دے اقامت کہنا بھی اسی کا حق ہے، مؤذن کے موجود ہوتے ہوئے اس کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کا اقامت کہنا، مکروہ و ناپسندیدہ ہے، جبکہ یہ بات مؤذن کو ناگوار گزرتی ہو لیکن اگر کوئی دوسرا شخص مؤذن کی اجازت سے اقامت کہے، یا بغیر اجازت کے کہے اور یہ اسے ناگوار محسوس نہ ہوتو کسی دوسرے کا اقامت کہنا بلا کراہت جائز ہے۔ اور جہاں تک اقامت کے درست ہونے کا معاملہ ہے وہ تو کسی بھی صف میں اور صف کے کسی بھی کونے میں پڑھنے سے درست ہوجاتی ہے لیکن اس میں سنت یہ ہے کہ امام کے بالکل پیچھے پہلی صف میں کھڑے ہوکر کہی جائے اور شرعاً بھی یہ محبوب ومطلوب ہے کہ امام کے قریب سمجھ دار اور دین دار لوگ کھڑے ہوں تاکہ بوقت ضرورت وہ امام کی نیابت وغیرہ کی ذمہ داری سر انجام دے سکیں اورفی زمانہ اس بات کو ملحوظ رکھ کر ہی مؤذن کا تقرر کیا جاتا ہے کہ وہ صحیح العقیدہ، باشرع اور مسائلِ اذان و اقامت ا وراحکام نماز سے خاطر خواہ واقف ہو تاکہ وہ اذان واقامت کو درست انداز میں پڑھ سکے اور بوقت ضرورت امام کی نیابت کا درست طریقے سے حق ادا کر سکےاور ہمارے یہاں یہی معمول ومروج ہے کہ مؤذن صاحب امام کے پیچھے پہلی صف میں ہی کھڑے ہوکر اقامت کہتے ہیں، لہٰذا ان مذکورہ مصالح کے پیش نظر امام کے پیچھے پہلی صف میں مؤذن کے لیے مصلی بچھانے میں کوئی حرج نہیں تاکہ وہی اقامت پڑھیں البتہ اگر کوئی شخص مؤذن صاحب سے بھی پہلے آکر اس جگہ پر بیٹھ جائے تو اب وہاں نماز پڑھنا اسی کا حق ہے اسے نرمی سے کہا جائے اگر وہ مان جائےتو مؤذن صاحب وہاں کھڑے ہوکر اقامت کہہ دیں ورنہ جہاں جگہ ملے وہیں سے اقامت کہہ دیں، اسے زبردستی وہاں سے نہیں اٹھایا جاسکتا۔
اقامت کہنا مؤذن کا حق ہے، چنانچہ حدیثِ پاک میں ہے: عن زياد بن الحارث الصدائي، قال: أمرني رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أن أؤذن في صلاة الفجر، فأذنت، فأراد بلال أن يقيم، فقال: رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: إن أخا صداء قد أذن، و من أذن فهو يقيم“ ترجمہ: حضرت زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اذان کہنے کا حکم دیا، میں نے اذان کہی، حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہناچاہی، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: صدائی (قبیلے سے تعلق رکھنے والے)بھائی نے اذان کہی اور جو اذان دے ،وہی اقامت کہے۔ (جامع الترمذي، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء أن من أذن فھو يقيم، جلد 1، صفحہ 148، مطبوعہ لاھور)
مذکورہ بالا حدیثِ پاک کے تحت المفاتیح شرح مصابیح میں ہے: يعني: الاقامة حقّ من أذّن، و يكره أن يقيم غير من أذّن إلا برضاه“ ترجمہ: یعنی اقامت کہنا اسی کا حق ہے جس نے اذان دی ، دوسرے شخص کا مؤذن کی اجازت کے بغیر اقامت کہنا مکروہ ہے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، کتا ب الصلاۃ، باب الاذان، جلد 2، صفحہ 44، مطبوعہ دار النوادر، الکویتیہ)
فتاوی عالمگیر ی میں ہے: و الأفضل أن یکون المؤذن هو المقیم، کذا في الکافي، و إن أذن رجل وأقام آخر، إن غاب الأول جاز من غیر کراهة، و إن کان حاضراً و یلحقه الوحشة بإقامة غیره یکره، و إن رضي به لایکره‘‘ ترجمہ: افضل یہی ہے کہ مؤذن ہی اقامت کہے، یونہی کافی میں ہے اوراگر ایک شخص اذا ن دے اور دوسرا اقامت کہے، تو اگر پہلا شخص ( یعنی مؤذن ) موجود نہ ہو، تو بلا کراہت جائز ہے اور اگر پہلا شخص (یعنی مؤذن) موجود ہواور اسے ناگوار بھی محسوس ہو، تو دوسرے کا اقامت کہنا مکروہ ہے اور اگر مؤذن راضی ہو، تو مکروہ بھی نہیں۔ (فتاوی عالمگیر ی، کتاب الصلاۃ، الباب الثاني في الأذان، الفصل الاول فی صفۃ الاذان، جلد 1، صفحہ 54، مطبوعہ کوئٹہ)
اقامت کسی بھی صف میں مناسب جگہ کھڑے ہوکر کہنا جائز ہے تاہم امام کے پیچھے کھڑے ہوکر کہنا سنت ہے چنانچہ اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: اقامت امام کی محاذات میں کہی جائے یہی سنّت ہے وہاں جگہ نہ ملے تو دہنی طرف لفضل الیمین عن الشمال (کیونکہ دائیں جانب کو بائیں پر فضیلت ہے۔ ت) ورنہ بائیں طرف لحصول المقصود بکل حال (کیونکہ مقصود ہر حال میں حاصل ہوتا ہے۔ ت) (فتاوی رضویہ، جلد 5، صفحہ 397، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
عمدۃ المحققین حضرت علامہ مفتی حبیب اللہ نعیمی صاحب رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: تکبیر و اقامت کے لیے زیادہ مناسب جگہ امام کے پیچھے یا داہنے طرف پہلی صف میں ہے لیکن ہر صف میں خواہ دوسری ہویاتیسری یا اور کوئی صف، تکبیر واقامت کہنا صحیح وجائز ہے۔ شرعا اس میں کوئی حرج نہیں۔ (حبیب الفتاوی، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 182، شبیر برادرز، لاہور)
مفتی حبیب اللہ نعیمی صاحب ایک دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: مؤذن اقامت پہلی صف میں کہے،یہی معمول و مروج ہے اس کے لیے مصلی اور جائے نماز بچھانا، جائز ہے اس میں کوئی حرج نہیں۔ (حبیب الفتاوی،کتاب الصلوۃ،جلد1،صفحہ 182، شبیر برادرز، لاہور)
عقل مند و اہل علم و تقوی کو امام کے قریب کھڑے ہونے کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ صحیح مسلم شریف میں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”ليلني منكم أولو الأحلام و النهى“ ترجمہ: تم میں سے عقل مند واہل علم کو میرے قریب ہونا چاہیے۔ (صحیح المسلم شریف، باب تسوية الصفوف، جلد 1، صفحہ 323، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی صف اول میں مجھ سے قریب فقہاء صحابہ ہوں جیسے خلفائے راشدین اور عبد اللہ ابن عباس و عبد اللہ ابن مسعود و غیرہم تاکہ وہ میری نماز دیکھیں اور نماز کی سنتیں وغیرہ یاد کرکے اوروں کو سمجھائیں اور بوقت ضرورت ہماری جگہ مصلے پر کھڑے ہو کر نماز پڑھا سکیں ان کے پیچھے وہ لوگ کھڑے ہوں جو علم و عقل میں ان کے بعد ہوں تاکہ ان صحابہ سے یہ نماز سیکھیں۔ (مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح، جلد 2، صفحہ 183، نعیمی کتب خانہ، لاہور)
اگر کوئی شخص مسجد میں پہلے سے آکر کسی مقام پر بیٹھ جائے تو اب مؤذن صاحب یا کوئی اور اسے زبردستی وہاں سے نہیں اٹھا سکتا، چنانچہ در مختار میں ہے”وليس له إزعاج غيره منه ولو مدرسا“ ترجمہ: اور کسی شخص کے لیے جائز نہیں ہے کہ مسجد میں کسی جگہ پہلے سے بیٹھے ہوئے بندے کو وہاں سے اٹھائے اگرچہ ایسا کرنے والا مدرس ہو۔ (در مختار، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 662، مطبوعہ بیروت)
اس عبارت کے تحت علامہ شامی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں: قال في القنية: له في المسجد موضع معين يواظب عليه و قد شغله غيره. قال الأوزاعي: له أن يزعجه، و ليس له ذلك عندنا اهـ أي لأن المسجد ليس ملكا لأحد بحر عن النهاية ۔ ۔ و في شرح السير الكبير للسرخسي: و كذا كل ما يكون المسلمون فيه سواء كالنزول في الرباطات، و الجلوس في المساجد للصلاة، و النزول بمنى أو عرفات للحج، حتى لو ضرب فسطاطه في مكان كان ينزل فيه غيره فهو أحق، و ليس للآخر أن يحوله“ ترجمہ: قنیہ میں ہے کہ کسی شخص کے لیے مسجد میں کوئی مخصوص جگہ ہوجہاں وہ ہمیشہ بیٹھا کرتا ہے اور وہاں کوئی دوسرا شخص بیٹھ جائے تو امام اوزاعی نے فرمایا" اگر وہ اس کو وہاں سے ہٹانا چاہے تو جائز ہے اورہمارے نزدیک اس کو ایسا کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ یعنی کیونکہ مسجد کسی کی ملکیت نہیں بحر میں نہایہ سے منقول ہے۔اور امام سرخسی کی سیر کبیر میں ہے کہ ایسے ہی ہر وہ مقام جس میں تمام مسلمان مساوی حق رکھتے ہوں، جیسا کہ سراؤں میں ٹھہرنا، نماز کےلئے مساجد میں بیٹھنا اور منٰی اور عرفات میں حج کے لئے اترنا، حتی کہ اگر کسی نے ایک جگہ وہاں خیمہ لگایا اور دوسرا شخص وہاں پہلے ٹھہرگیا تو پہلے کو یہ حق نہیں کہ اسے وہاں سے اٹھائے۔ (رد المحتار، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 662، مطبوعہ بیروت)
اعلی حضرت امام احمدرضاخان رحمۃاللہ علیہ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:” بہتریہ ہے کہ امام کے قریب دانشور لوگ ہوں۔ حدیث میں فرمایا: ”لیلینی منکم او لو الاحلام و النھی“ تم میں سے دانشور اور عقلمند لوگوں کو میرے قریب ہونا چاہئے۔
اور وہی دانشور ہے جو متقی ہو، متقیوں کوچاہئے تھا کہ یہی پہلے آتے کہ سب سے اول میں جگہ پاتے اب کہ وہ دوسری قسم کے لوگ پہلے آگئے تو انہیں مناسب ہے کہ متقیوں کے لئے جگہ خالی کردیں ورنہ انہیں ہٹانے کی کوئی وجہ نہیں خصوصاً جبکہ سبب فتنہ ہو اعمال میں ہدایت نرمی سے چاہئے کہ سختی سے ضد نہ بڑھے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 7، صفحہ 193، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-0894
تاریخ اجراء: 15 شوال المکرم 1444ھ / 06 مئی 2023ء