عشا کے فرض کے بعد وتر پڑھنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عشاکے فرض پڑھنے کے بعد سنت بعدیہ سے پہلے وتر پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عشا کے فرض پڑھنے کے بعد، اگر بھول کر بقیہ سنتوں سے پہلے وتر پڑھ لیے تو کیا بعد میں سنتیں ادا کر سکتے ہیں ؟
جواب
عشا کی سنت ِبعدیہ اور وتروں کے درمیان ترتیب لازم نہیں، لہذا اگر کسی نے عشا کے فرض پڑھنے کے بعد سنتوں سے پہلے وتر پڑھ لیے، تو بعد میں وقت کے اندر اندر اس کو سنتیں پڑھنا ہوں گی۔
ہدایہ میں ہے: ”ولو صلى الفجر وهو ذاكر أنه لم يوتر فهي فاسدة عند أبي حنيفة - رحمه اللہ - خلافا لهما، وهذا بناء على أن الوتر واجب عنده سنة عندهما ولا ترتيب فيما بين الفرائض والسنن، وعلى هذا إذا صلى العشاء ثم توضأ وصلى السنة والوتر ثم تبين أنه صلى العشاء بغير طهارة فعنده يعيد العشاء والسنة دون الوتر؛ لأن الوتر فرض على حدة عنده، وعندهما يعيد الوتر أيضا لكونه تبعا للعشاء واللہ أعلم.“ ترجمہ: اور اگر (صاحب ترتیب نے) فجر پڑھ لی یہ یاد ہوتے ہوئے کہ اس نے وتر نہیں پڑھے تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ فاسد ہے بر خلاف صاحبین کے، اور یہ اس بنا پر ہے کہ وتر امام اعظم کے نزدیک واجب ہیں جبکہ صاحبین کے نزدیک سنت ہیں اور فرائض و سنت کے درمیان ترتیب نہیں۔ اور اسی (بنا) پر یہ مسئلہ ہے کہ عشا کی نماز پڑھی، پھر وضو کر کے سنت و وتر پڑھ لیے، پھر یاد آیا کہ اس نے عشا بغیر طہارت کے پڑھی ہے تو امام اعظم کے نزدیک عشا اور سنتوں کو دوہرائے گا، نہ کے وتر کو، کیونکہ وتر ان کے نزدیک علیحدہ فرض ہیں، جبکہ صاحبین کے نزدیک وتر کو بھی دوہرائے گا کیونکہ وہ عشا کے تابع ہیں۔ واللہ اعلم۔
اس کے تحت بنایہ میں ہے: ”(ولا ترتيب فيما بين الفرائض والسنن) إنما يجب الترتيب بين فرض وفرض،“ ترجمہ: فرائض و سنن کے درمیان ترتیب نہیں، ترتیب صرف فرض اور فرض کے درمیان ہے۔ (بنایہ شرح ہدایہ، ج 2، ص 721، مطبوعہ:کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5255
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر1448ھ/28 جولائی 2026ء