logo logo
AI Search

کسی مسجد کا جمعہ بند کر کے جامع مسجد میں جمعہ کروانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

ایک مسجد میں جمعہ شروع کرنے کے بعد ختم کر سکتے ہیں؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں کی آبادی اتنی زیادہ ہے کہ جہاں فی زمانہ علمائے کرام جمعہ کی اجازت دیتے ہیں (یعنی عاقل بالغ وغیرہ وہ افرادکہ جن پرجمعہ فرض ہوسکے، وہ اتنی تعدادمیں ہیں کہ وہ اگر وہاں کی سب سے بڑی مسجدمیں آنا چاہیں تو مسجد چھوٹی پڑ جائے) کروناسے پہلے وہاں کی صرف جامع مسجد میں ہی جمعہ ہوتا تھا لیکن کرونا کے دنوں میں مجبوری کے باعث ایک اور مسجدمیں وہاں کے اہل محلہ نے باہم مشاورت سے جمعہ شروع کردیا تھا۔ اب دوبارہ صرف جامع مسجد ہی جمعہ ادا کرنا چاہتے ہیں اور دوسری جگہ موقوف کرنا چاہتے ہیں کہ دوسری جگہ کے خطیب صاحب بھی چلے گئے ہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا اس کی شرعا اجازت ہے؟

جواب

جہاں جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے، وہاں ایک سے زائدمقام پر پڑھنے کی اجازت دی جاتی ہے لیکن افضل اور بہتر حتی الوسع ایک مقام پر ہی جمعہ پڑھنا ہے کہ ایک مقام پر جمعہ پڑھنے میں اختلاف سے بچنا ہے اور جس جگہ ایک دفعہ جمعہ شروع کرلیا جائے، اسے ہمیشہ برقرار رکھنا بھی ضروری نہیں اور جامع مسجدمیں جمعہ پڑھنے میں ثواب بھی زیادہ ہے لہذا دوسری نئی جگہ کا جمعہ موقوف کر کے، صرف جامع مسجدمیں ہی جاری رکھنا درست بلکہ افضل اور زیادہ ثواب کا کام ہے۔

شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ علیہ (متوفی 483ھ) المبسوط للسرخسی میں فرماتے ہیں: فالصحيح من قول أبي حنيفة و محمد رحمهما اللہ تعالى أنه يجوز إقامة الجمعة في مصر واحد في موضعين و أكثر من ذلک“ ترجمہ: امام اعظم اور امام محمد رحمۃ اللہ علیھما کے صحیح قول کے مطابق ایک شہر میں دو یا اس سے زیادہ مقامات پر جمعہ قائم کرنا جائز ہے۔ (المبسوط للسرخسی، باب الجمعۃ، ج 2، ص 120، دار المعرفۃ، بیروت)

ردالمحتارمیں ہے "قال في شرح المنية الأولى هو الاحتياط لأن الخلاف في جواز التعدد و عدمه قوي، و كون الصحيح الجواز للضروة للفتوى لا يمنع شرعية الاحتياط للتقوي. اهـ. ترجمہ: شرح منیہ میں فرمایا: بہتر احتیاط ہی ہے کیونکہ متعددجگہ پر جمعہ پڑھنے کے جواز اور عدم جواز میں اختلاف قوی ہے اور ضرورت کی وجہ سے جواز پر فتوی دینا درست ہونا، یہ تقوی کی بنا پر احتیاط کے مشروع ہونے کو منع نہیں کرتا۔ (رد المحتار مع الدر المختار، باب الجمعۃ، ج 02، ص 18، مطبوعہ کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا ایک قصبہ میں جامع مسجد ہے کہ ہمیشہ اُس میں جمعہ ہوتا ہے اب ایک مسجد بنا ہوئی اُس کو جامع مسجد بنانا اور قدیم کی جامع مسجد کو ترک کردینا یا دونوں جا جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟

اس کے جواب میں امام اہلسنت، امام احمدرضان علیہ الرحمۃ نے ارشادفرمایا: قصبہ وشہر جہاں جمعہ جائز ہے وہاں نماز جمعہ متعدد جگہ ہونا بھی جائز ہے اگر چہ افضل حتی الوسع ایک جگہ ہونا ہے اور اگلی مسجد جامع کو ترک کردینے کے اگر یہ معنی کہ اُس میں نماز ہی چھوڑدی جائے، تو قطعاً نا جائز کہ مسجد کا ویران کرنا ہے او راگر یہ مراد کہ نماز تو وہاں ہوا کرے مگر جمعہ وہاں کے بدلے اب اس مسجد جدید میں ہو، اس میں اگر وہاں کے اہل اسلام کوئی مصلحتِ شرعیہ قابل قبول رکھتے ہوں تو کیا مضائقہ، ورنہ مسجد جامع وہی مسجد قدیم ہے او راس میں نماز جمعہ کا ثواب زائد۔ (فتاوی رضویہ، ج 08، ص 312، رضافاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-611
تاریخ اجراء: 18 ربیع الثانی 1444ھ / 14 نومبر 2022ء