جھوٹ بولنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
جھوٹ بولنے والے امام کے پیچھے نماز پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جو امام بلاوجہ جھوٹ بولا کرتا ہے، اس کے پیچھے نماز پڑھنا کیسا ؟
جواب
بلااجازت شرعی جھوٹ بولنا ناجائز و حرام ہے، اور جو امام واقعی بلااجازت شرعی علانیہ جھوٹ بولا کرتا ہے، تو وہ فاسق معلن ہے، اور فاسق معلن کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی اور ناجائز و گناہ ہے اور اگر پڑھ لی تو توبہ کے ساتھ نماز کا اعادہ کرنا (لوٹانا) واجب ہے۔ اور اگر علانیہ جھوٹ نہیں بولتا بلکہ چھپ کر بولتا ہو، معروف و مشہور نہ ہو تو اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے، یعنی بہتر ہے کہ اس کے پیچھے نہ پڑھی جائے، لیکن اگر پڑھ لی تو گناہ نہیں اور نہ اس کا دہرانا واجب ہے۔
قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ﴿وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور ان کے لیے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرہ، آیت 10)
اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ’’اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے ۔‘‘ (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 82، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
المعجم الاوسط للطبرانی میں ہے "إن العبد ليكذب حتى يكتب عند اللہ كذابا، ويصدق حتى يكتب عند اللہ صديقا" ترجمہ: بیشک بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں کذاب (بہت بڑا جھوٹا) لکھ دیا جاتا ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے ہاں صدیق (بہت بڑاسچا) لکھ دیا جاتا ہے۔ (المعجم الاوسط للطبرانی، جلد 2، صفحہ 327، رقم الحدیث 2122، دار الحرمین، قاہرہ) مبسوط سرخسی میں ہے "إن الكذب حرام" ترجمہ: بیشک جھوٹ حرام ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 30، صفحہ 15، دار المعرفۃ، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے "بلاضرورت شرعی جھوٹ بولنا اور بلوانا کبیرہ گناہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
غنیۃ المستملی میں ہے "لوقدموا فاسقا یاثمون، بناء علی ان کراھۃ تقدیمہ کراھۃ تحریم" ترجمہ: اگر لوگوں نے فاسق کو امام بنایا، تو وہ گنہگار ہوں گے، کیونکہ اس کو مقدم کرنا مکروہ تحریمی ہے۔ (غنیہ المستملی شرح منیۃ المصلی، ص 442، مطبوعہ: کوئٹہ)
در مختار ميں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا دہرانا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: "فاسق وہ کہ کسی گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوا اور وہی فاجر ہے، اور کبھی فاجر خاص زانی کو کہتے ہیں، فاسق کے پیچھے نماز مکروہ ہے پھر اگر معلن نہ ہو یعنی وہ گناہ چھُپ کر کرتا ہو معروف و مشہور نہ ہو تو کراہت ِتنزیہی ہے یعنی خلاف اولیٰ، اور اگر فاسق معلن ہے کہ علانیہ کبیرہ کا ارتکاب یا صغیرہ پر اصرار کرتا ہے تو اسے امام بنانا گناہ ہے اور اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی کہ پڑھنی گناہ اور پڑھ لی تو پھیرنی واجب۔" (فتاوی رضویہ، ج 6، ص 601، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5261
تاریخ اجراء: 14 صفر المظفر1448ھ/29 جولائی 2026ء