تصویر والے کپڑے میں نماز پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جماعت میں کسی آدمی نے تصویر والا کپڑا پہنا ہو تو اس کی اور دیگر مقتدیوں کی نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جس لباس پرجاندار کی ایسی تصویر ہو، جس میں اُس کا چہرہ موجود ہو، اور وہ تصویر اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہو کر دیکھیں، تو چہرہ واضح ہو، تو ایسا لباس پہننا شرعاً جائز نہیں، اور ایسے لباس میں نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، جس کو ایسی تصویرسے پاک کپڑوں میں دوبارہ پڑھنا واجب ہے، البتہ! اگر وہ تصویر مٹادی جائے، یا اُس پر سیاہی وغیرہ کوئی رنگ لگادیا جائے، جس سے اس کا سر یاچہرہ مٹ جائے، یا اُس تصویر والے لباس پر کوئی دوسرا کپڑا پہن، یا اوڑھ لیا جائے، جس سے وہ تصویر چھپ جائے، تو اب نماز مکروہ تحریمی نہ ہوگی۔
اور جہاں تک دوسرے نمازیوں کے سامنے تصویر والی شرٹ ہونے کا معاملہ ہے، تو اس کے متعلق تفصیل یہ ہے کہ:
ٹی شرٹ پر تصویر عموماً پورے قد والی نہیں ہوتی، لہذا ایسی صورت میں چاہے اس کا چہرہ واضح ہو اور دوسرے نمازیوں کے سامنے یا دائیں بائیں تصویر بطور تعظیم بھی ہو، تو نماز مکروہ تنزیہی ہوگی، مکروہ تحریمی نہیں ہوگی، کیونکہ اس صورت میں بتوں کی پوجا سے مشابہت نہیں ہے، کہ پورے بت کی پوجاکی جاتی ہے، صرف سریا آدھے دھڑوالے بت کی پوجا نہیں کی جاتی، ہاں! اس صورت میں صرف تصویر کی تعظیم پائی جارہی ہے اور فقط تصویر کی تعظیم پائی جانے کی صورت میں نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے، البتہ ایسی تصویرجو پورے قد کی ہو، اس کے نقوش واضح ہوں، کسی کپڑے وغیرہ سے چھُپی ہوئی نہ ہو، نمازی کے سامنے ہو تو تب نماز مکروہ تحریمی ہوگی، اور اس نماز کو دوبارہ لوٹانا ضروری ہوگا، کیونکہ اس صورت میں تشبہ مع التعظیم (تعظیم کے ساتھ ساتھ بتوں کی پوجا سے مشابہت) ہے، اور تشبہ مع التعظیم کی صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہوتی ہے، لیکن یہ یاد رہے کہ آدھے قد کی یا فقط چہرےکی تصویر بنانا، بنوانا اور گھر میں بطورِ تعظیم لگانا، یا رکھنا، بہر حال حرام و ناجائزو گناہ اور گھر میں رحمت و برکت والے فرشتوں کے داخل ہونے سے مانع ہے۔
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: کسی جاندار کی تصویر جس میں اس کا چہرہ موجود ہو اور اتنی بڑی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے سے دیکھیں تو اعضاء کی تفصیل ظاہر ہو، اس طرح کی تصویر جس کپڑے پر ہو اس کا پہننا، پہنانا یا بیچنا، خیرات کرنا سب ناجائز ہے اور اسے پہن کر نماز مکروہِ تحریمی ہے جس کا دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔ ایسے کپڑے پر سے تصویر مٹادی جائے یا اس کا سر یا چہرہ بالکل محو کردیا جائے، اس کے بعد اس کا پہننا، پہنانا، بیچنا، خیرات کرنا، اس سے نماز، سب جائز ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے پکے رنگ کی ہو کہ مٹ نہ سکے، دھل نہ سکے تو ایسے ہی پکے رنگ کی سیاہی اس کے سر یا چہرے پر اس طرح لگادی جائے کہ تصویر کا اتنا عضو محو ہوجائے صرف یہ نہ ہو کہ اتنے عضو کا رنگ سیاہ معلوم ہو کہ یہ محو و منافی صورت نہ ہوگا۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 567، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار علی رد المحتارمیں فرماتے ہیں: ان علۃکراھۃ التحریم فی الصلاۃ ھو التشبہ بعبادۃ الوثن کما فی الھدایۃ و الفتح و غیرھما، و فی الاقتناء ھو وجودھا فی البیت علی جھۃ التعظیم، و ھو المانع للملائکۃ عن الدخول فیہ، فمقطوع الراس اوالوجہ منتف فیہ وجھان، اما فاقد عضو آخر لا حیاۃ بدونہ کما تعارفوا فی ”فوطوغرافیا“ من تصویر النصف الاعلی او الی الصدر فالتشبہ منتف لانھم لا یعبدون مقطوعا فتنفی کراھۃ التحریم من الصلاۃ، و فیھا الکلام ھنا و لا یلزم منہ انتفاءھا عن الاقتناء ان وجد التعظیم، لان مدارھا فیہ ھذا لا التشبہ، فتعلیق امثال صور النصف او وضعھا فی القزازات و تزیین البیت بھا کما ھو متعارف عند الکفرۃ و الفسقۃ، کل ذلک مکروہ تحریما و مانع عن دخول الملائکۃ و ان لم تکرہ الصلاۃ ثم تحریما بل تنزیھا
ترجمہ: نماز میں کراہتِ تحریمی کی علت بتوں کی پوجا سے مشابہت ہے، جیسا کہ ہدایہ اور فتح القدیر اور ان کے علاوہ دوسری کتب میں ہے، اور جہاں تک اقتناء کا تعلق ہے، یعنی تصویر کا گھر میں تعظیم کی جہت سے موجود ہونا، تو ایسی تصویر فرشتوں کو گھر میں داخل ہونے سے مانع ہے، اور ایسی تصویر جس کا سر یا چہرہ نہ ہو، اس میں دونوں وجہیں منتفی ہیں، یعنی نہ تو تشبہ ہے، اور نہ تعظیم، بہرحال ایسی تصویرجس میں کوئی ایسا عضو نہ ہو، جس کے بغیر زندگی ممکن نہیں ،جیسا کہ فوٹو گرافی میں ہوتا ہے، کہ اس میں عموما اوپر کے نصف بدن کی تصویر ہوتی ہے، یا سینے تک ہوتی ہے، تو اس صورت میں تشبہ منتفی ہے، کیونکہ کفار ایسے بتوں کی پوجا نہیں کرتے، جن کا کوئی عضو نہ ہو، لہذا اس صورت میں نماز میں کراہتِ تحریمی لازم نہ آئے گی، اور یہاں پر اس میں مزید کلام ہے، وہ یہ کہ اگر تصویر گھر میں بطورِ تعظیم معلق ہو، تو کراہت کی نفی نہیں ہوگی، کیونکہ گھر میں تصویر کا ہونا تعظیم کی وجہ سے ممنوع ہے، نہ کہ تشبہ کی وجہ سے، تو پس نصف قد کی تصویروں کو لٹکانا پھر ان کو الماریوں میں رکھنا، اور ان کے ساتھ گھر کو مزین کرنا، جیساکہ کفار و فساق میں عام ہے، یہ تمام کام مکروہ تحریمی ہیں، اور فرشتوں کے دخول سے مانع ہیں، اگرچہ اس سے نماز مکروہ تحریمی نہیں ہوگی بلکہ مکروہ تنزیہی ہوگی۔ (جد الممتار علی رد المحتار، جلد 3، صفحہ 409، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5237
تاریخ اجراء: 09 صفر المظفر 1448ھ / 23 جولائی 2026ء