logo logo
AI Search

تہجد کی نماز کا صحیح طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحيم

تہجد کی نماز پڑھنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

عشاء کی نماز پڑھ کر سونے کے بعد طلوع فجر سے پہلے اٹھ کر جو نوافل پڑھے جائیں، ان کو تہجد کہتے ہیں، ان کی نیت عام نفل نماز والی ہی ہوگی، بس اس میں نفل کی جگہ تہجد کہہ لے، اور اگر صرف نفل کی نیت کی تہجد کا لفظ نہیں کہا، تو بھی کوئی حرج نہیں، تہجد ادا ہوگئی۔ تہجد کی کم از کم دو رکعتیں ہیں، اور سنتآٹھ رکعات ہیں۔ اور مشائخ عام طورپر 12 رکعات ادا کرتے تھے، افضل یہ ہے کہ چار چار رکعات کر کے پڑھے۔ قراءت کا اختیار ہے، جو چاہے پڑھے، اور بہتر یہ کہ جتنا قرآنِ مجید یاد ہو، اس کی تلاوت ان رکعتوں میں کرے، اگر کل یاد ہو تو کم سے کم تین راتوں، اور زیادہ سے زیاد ہ چالیس راتوں میں ختم کرے، نہ یاد ہو تو ہر رکعت میں تین تین بار سورۂ اخلاص پڑھ لے کہ جتنی رکعات پڑھے گا اتنے ختمِ قرآنِ مجیدکاثواب ملے گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا،نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی تہجد کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں:ما كان رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم يزيد في رمضان و لا في غيره على إحدى عشرة ركعة، يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن وطولهن، ثم يصلي أربعا، فلا تسل عن حسنهن و طولهن، ثم يصلي ثلاثا“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم رمضان میں اور رمضان کے علاوہ گیارہ رکعات زیادہ ادا نہ فرماتے، (پہلے) آپ علیہ الصلوۃ والسلام چار رکعات ادا فرماتے، پس تم ان کے حسن اور طول کے بارے میں نہ پوچھو (کہ کتنی عمدگی کے ساتھ اور دیر لگا کر ادا فرماتے تھے)، پھر (اس کے بعد) چار رکعات ادا فرماتے، پس تم ان کے حسن اور طول کے بارے میں نہ پوچھو (کہ کتنی عمدگی کے ساتھ اور دیر لگا کر ادا فرماتے تھے)، پھر (اس کے بعد) تین رکعات ادا فرماتے (یہاں تک کہ گیارہ رکعات مکمل ہو جاتیں۔) (سنن الترمذی، صفحہ 189، حدیث: 439، مطبوعہ: دمشق)

تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے(وتکرہ الزیادۃ علی اربع فی نفل النھار، وعلی ثمان لیلا بتسلیمۃ) لانہ لم یرد (والافضل فیھما الرباع بتسلیمۃ) ترجمہ: دن کے نوافل میں چار سے زیادہ اور رات کے نوافل میں آٹھ سے زیادہ ایک سلام کے ساتھ پڑھنا مکروہ ہے کیونکہ اس سے زائد شرع میں وارد نہیں ہوئے اور دن اور رات دونوں میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت پڑھنا افضل ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 550، 551، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "دن کے نفل میں ایک سلام کے ساتھ چار رکعت سے زيادہ اور رات میں آٹھ رکعت سے زیادہ پڑھنا مکروہ ہے، اور افضل یہ ہے کہ دن ہو یا رات ہو، چار چار رکعت پر سلام پھیرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 667، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امام اہل سنت، احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن الوظیفۃ الکریمۃ میں لکھتے ہیں: تہجد: فرضِ عشاء پڑھنے کے بعدکچھ دیر سو رہے پھر شب میں طلوعِ صبح سے پہلے جس وقت آنکھ کھلے اگر چہ رات کے نو بجے، یا جاڑوں میں پونے سات بجے عشاء پڑھ کر سو رہے اور سات سواسات بجے آنکھ کھلے وہی وقت تہجد کا ہے ،وضو کر کے کم از کم دو رکعت پڑھ لے تہجد ہو گیا اور سنت آٹھ رکعت ہیں۔ اور معمولِ مشائخ 12 رکعت، قرأت کا اختیار ہے جو چاہے پڑھے ، اور بہتر یہ کہ جتنا قرآنِ مجید یاد ہو اس کی تلاوت ان رکعتوں میں کرے، اگر کل یاد ہو تو کم سے کم تین رات زیادہ سے زیاد ہ چالیس رات میں ختم کرے، نہ یاد ہو تو ہر رکعت میں تین تین بار سورۂ اخلاص کہ جتنی رکعتیں پڑھے گا اتنے ختمِ قرآنِ مجیدکاثواب ملے گا۔ (الوظیفۃ الکریمۃ، ص 34، 35، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: WAT-5242
تاریخ اجراء: 16 صفر المظفر 1448ھ / 01 اگست 2026ء