قعدۂ اخیرہ میں درود اور دعا بھول جانا
بسم اللہ الرحمن الرحيم
قعدہ اخیرہ میں درود اور دعا پڑھنا بھول گیا اور سلام پھیر دیا، تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جی ہاں! دریافت کی گئی صورت میں اس کی نماز ہوجائے گی، اس کو دہرانا بھی واجب نہیں۔ البتہ! دہرا لینا مستحب و بہتر ہے؛ اس لیے کہ قعدہ اخیر ہ میں تشہد کے بعد درود پاک پڑھنا سنت مؤکدہ ہے، اور اس کے بعد دعائے ماثورہ (قرآن وحدیث سے ثابت شدہ دعا کا) پڑھنا بھی مسنون ہے، اور نماز میں سنت ترک ہوجائے، تو نماز کا اعادہ مستحب ہوتا ہے، خواہ سہوا ً (بھولے سے) ترک ہو، یا قصداً (جان بوجھ کر)۔
فتح القدیر، النہایہ، اللباب، مبسوط سرخسی، التجرید للقدوری، مراقی الفلاح، نور الایضاح، مجمع الانہر، ملتقی الابحر، الاختیار لتعلیل المختار،درر الحکام اور فتح باب العنایہ میں ہے، (و اللفظ للآخر): (و بعد التشهد) الأخير (يصلي على النبي صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم و هي سنة عندنا و يسيء تاركها، و ليست بواجبة، و عليه الجمهور خلافا للشافعي“ ترجمہ: قعدہ اخیرہ میں تشہد کے بعد نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم پر درود پڑھنا ہمارے نزدیک سنت ہے، اس کا تارک اساءت کا مرتکب ہوگا، نماز میں درود پڑھنا واجب نہیں ہے، اور یہی جمہور کا مذہب ہے، بخلاف امام شافعی کے۔ (فتح باب العنایۃ، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 267، مطبوعہ: بیروت)
فتاویٰ امجدیہ میں ہے ”نماز میں درود شریف پڑھنا سنت مؤکدہ ہے۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 75، مکتبہ رضویہ، کراچی)
در مختار میں ہے "و سننھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ الصلاۃ علی النبی فی القعدۃ الاخیرۃ ۔ ۔ ۔ و الدعاء" ترجمہ: قعدہ اخیرہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و اٰلہ و سلم پر درود پاک پڑھنا اور دعا مانگنا نماز کی سنتوں میں سے ہے۔ (درمختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 207، 213، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے ”سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی، بلاعذر ایک بار بھی ترک کرے، تو مستحق ملامت ہے اورترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 662،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سنت كے ترک سے بھی نماز ہوجاتی ہے، چنانچہ در مختار میں ہے "ترک السنۃ لا یوجب فسادا و لا سھوابل اساءۃ لو عامدا" ترجمہ: سنت کا ترک نہ نماز کو فاسد کرتا ہے اور نہ ہی سجدہ سہو کو لازم کرتا ہے،بلکہ اگر جان بوجھ کے ہو تو اساءت ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 207، مطبوعہ: کوئٹہ)
ترک سنت پر نماز کا اعادہ مستحب ہے، چنانچہ بہار شریعت میں ہے سنن و مستحبات مثلاً تعوذ، تسمیہ، ثنا، آمین، تکبیراتِ انتقالات، تسبیحات کے ترک سے بھی سجدۂ سہو نہیں بلکہ نماز ہو گئی۔ مگر اعادہ مستحب ہے سہواً ترک کیا ہو یا قصداً۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 709، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5247
تاریخ اجراء: 18 صفر المظفر 1448ھ / 03 اگست 2026ء