نماز چاشت کی رکعات کی تعداد
بسم اللہ الرحمن الرحیم
نماز چاشت کی رکعتوں کی تعداد
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نماز چاشت کی کتنی رکعتیں ہیں ؟
جواب
نماز چاشت کی کم سے کم دو رکعت اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں، یہ بارہ رکعتیں نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان سے بھی ثابت ہیں، نیز یاد رہے کہ نماز چاشت میں بارہ رکعتیں پڑھنا افضل ہے، لیکن اگر کسی نے دو ہی پڑھیں، تو بھی حرج نہیں۔
نماز چاشت کی دو رکعتوں کے متعلق سنن ابی داؤد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من قعد في مصلاه حين ينصرف من صلاة الصبح حتى يسبح ركعتي الضحى لا يقول إلا خيرا، غفر له خطاياه، وإن كانت أكثر من زبد البحر“ ترجمہ: جو نمازِ فجر سے فارغ ہوکر اپنی نماز کی جگہ پر بیٹھا رہا یہاں تک کہ اس نے نمازِ چاشت کی دو رکعتیں پڑھ لیں ، اس دوران صرف بھلائی کی بات کی، تو اس کی خطائیں بخش دی جائیں گی، اگرچہ وہ سمندر کے جھاگ سے بھی زیادہ ہی کیوں نہ ہوں۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ 211، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
چار رکعتوں کے متعلق كنز العمال اور مسند ابو یعلیٰ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: (واللفظ للکنز) ”من صلى الفجر فقعد في مقعده، فلم يبلغ بشيء من أمر الدنيا يذكر اللہ عز وجل، حتى يصلي الضحى أربع ركعات، خرج من ذنوبه كيوم ولدته أمه“ ترجمہ: جس نے نمازِ فجر پڑھی، پھر اسی جگہ بیٹھا رہا اور اس نے کوئی دنیاوی کام نہ کیا، بس اللہ کا ذکر کرتا رہا، یہاں تک کہ اس نے نمازِ چاشت کی چار رکعتیں پڑھ لیں، تو اپنے گناہوں سے ایسا نکل جائے گا، جیسا کہ اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اس کو پیدا کیا تھا۔ (کنز العمال، جلد 2، صفحہ 152، مطبوعہ: بیروت)
12 رکعت کے متعلق سنن ترمذی میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من صلى الضحى ثنتي عشرة ركعة بنى الله له قصرا من ذهب في الجنة“ ترجمہ: جس نے چاشت کی بارہ رکعتیں پڑھیں، اللہ تعالیٰ اس کے ليے جنت میں سونے کا محل بنائے گا۔ (سنن الترمذي، صفحہ 201، رقم الحدیث 473، دار ابن كثير، دمشق)
نماز چاشت کی دو سے بارہ رکعتوں کے متعلق الترغیب و الترھیب میں ہے ”عن عبد اللہ بن عمر رضي اللہ عنه أنه قال لأبي ذر الغفاري رضي اللہ عنه: يا عم أوصني. قال: يا ابن أخي، إني قلت لرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أوصني، قال: «إذا صليت الضحى ركعتين لم تكتب من الغافلين، وإذا صليتها أربعا كتبت من العابدين، وإذا صليتها ستا لم يتبعك ذلك اليوم ذنب، وإذا صليت ثمانيا كتبت من القانتين، وإذا صليت ثنتي عشرة بنى اللہ لك بيتا في الجنة“
ترجمہ: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے چچا مجھے کوئی وصیت فرمائیے۔ انہوں نے جواب دیا کہ اے بھتیجے میں نے بھی اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا تھا کہ مجھے وصیت فرمائیے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تم چاشت کی دو رکعتیں پڑھو گے، تو غافلوں میں نہیں لکھے جاؤ گے اور جب تم چار رکعتیں پڑھو گے، تو عبادت گزاروں میں لکھے جاؤ گے اور جب تم چھ رکعتیں پڑھو گے، تو اس دن کوئی گناہ تمہارا پیچھا نہیں کرے گا اور جب تم آٹھ رکعتیں پڑھو گے، تو فرمانبرداروں میں لکھے جاؤ گے اور جب تم بارہ رکعتیں پڑھو گے تو اللہ تمہارے لیے جنت میں ایک گھر بنائے گا۔ (الترغيب والترهيب، ج 3، ص 284، رقم الحدیث 1954، مطبوعہ:مصر )
نماز چاشت کی رکعتوں کے متعلق فتاوی ہندیہ میں ہے ”(ومن المندوبات صلاة الضحى) وأقلها ركعتان وأكثرها ثنتا عشرة ركعة“ ترجمہ: اور مستحب نمازوں میں سے ایک چاشت کی نماز ہے، اس کی کم از کم دو رکعتیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ بارہ رکعتیں ہیں۔ (الفتاوى الهندية، جلد 1، صفحہ 112، مطبوعہ: کوئٹہ)
نماز چاشت میں بارہ رکعتیں پڑھنا افضل ہے ، جیسا کہ بہار شریعت میں ہے "نمازِ چاشت مستحب ہے، کم از کم دو اور زیادہ سے زیادہ چاشت کی بارہ رکعتیں ہیں اور افضل بارہ ہیں۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 675، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو الفیضان مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5267
تاریخ اجراء: 26 صفر المظفر 1448ھ/10 اگست 2026ء