logo logo
AI Search

امام کے سجدہ تلاوت پر مقتدی کیلئے حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

امام نے آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کیا، تو کیا یہ سجدہ مقتدی کے لئے کافی ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر امام نے آیت سجدہ پڑھی اور امام سجدے میں چلا گیا تو مقتدی بھی سجدے میں جائیں یا امام کا سجدہ کافی ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں مقتدیوں پر بھی سجدہ تلاوت ادا کرنا واجب ہے لہٰذا وہ بھی امام کے ساتھ سجدہ تلاوت کریں گے۔

بہار شریعت میں ہے: ’’نماز میں امام نے آیت پڑھی تو مقتدیوں پر واجب ہوگیا، اگرچہ نہ سنی ہو بلکہ اگرچہ آیت پڑھتے وقت وہ موجود بھی نہ تھا، بعد پڑھنے کے سجدہ سے پیشتر شامل ہوا اور اگر امام سے آیت سنی مگر امام کے سجدہ کرنے کے بعد اسی رکعت میں شامل ہوا تو امام کا سجدہ اس کے ليے بھی ہے اور دوسری رکعت میں شامل ہوا تو نماز کے بعد سجدہ کرے۔ يوہیں اگر شامل ہی نہ ہوا جب بھی سجدہ کرے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 728، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2582
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاولٰی 1447ھ / 03 نومبر 2025ء