logo logo
AI Search

سنت مؤکدہ ترک کرنے کی عادت کتنی بار سے بنتی ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

سنت مؤکدہ ترک کرنے کی عادت کی مقدار کتنی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بندہ سنت مؤکدہ کے ترک کا عادی ہونے کی وجہ سے گنہگار ہوتا ہے ،تو سوال اس میں یہ ہے کہ عادی ہونے کی مقدار کتنی ہے ؟ یعنی اگر کوئی شخص ایک مرتبہ سنت مؤکدہ کو ترک کرے گا تب وہ گنہگار کہلائے گا یا دو مرتبہ یا پھر اس کی تعداد کتنی ہو گی، کہ جس کی وجہ سے اس شخص کو کہا جائے کہ اب یہ سنت مؤکدہ کے ترک کرنے کا عادی بن چکا ہے ، تو اس وجہ سے اب یہ گنہگار ہوگا برائے کرم دلیل کے ساتھ جواب عنایت فرمائیں؟

جواب

اگر کسی سنتِ مؤکدہ کو تین مرتبہ مسلسل اِس طرح ترک کیا جائے، کہ پہلے ترک سے توبہ نہ کی جائے، تو یہ اصرار اور عادت کی حد میں داخل ہے، اور ایسا شخص فاسق و گناہ گار ہے۔ اور اگر ایک یا دو مرتبہ ترک کرے تو اس صورت میں عتاب وملامت (سرزنش) کا مستحق ہے۔

 مفتی محمد وقار الدین رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”صغیرہ پر اصرار کرنے سے وہ کبیرہ ہوجاتا ہے اور اصرار کا مطلب یہ ہے کہ کسی عمل کو تین بار بلا توبہ کیا جائے۔‘‘ ( وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 143، مطبوعہ: کراچی)

 اِسی طرح محققِ مسائل جدیدہ مفتی نظام الدین رضوی دامت برکاتھم العالیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”کوئی نادرا سنت موکدہ کاترک کرے تو مستحق عتاب ہے اور اس کی عادت بنالے تو مستحق عذاب ہے کہ سنت موکدہ کے ترک کی عادت ترک واجب کے حکم میں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ امام صاحب کو چاہیئے کہ ہرگز ہرگز کوئی واجب ترک نہ کریں اور کوشش کریں کہ سنتِ مؤکدہ بھی ترک نہ ہونے پائے کہ تین بار سنتِ مؤکدہ کے ترک سے آدمی گناہ گار ہوجاتا ہے۔‘‘ (ماہنامہ اشرفیہ، فروری 2022، صفحہ 14، 15)

 صدر الشریعہ، مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی۔ بلاعذر ایک بار بھی ترک کرے تو مستحق ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحق نار ہے۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 662، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5413
تاریخ اجراء: 27 ربیع الاول 1448ھ / 10 ستمبر 2026ء