کف ثوب (کپڑا فولڈ کرنے) کی ممانعت کا حدیث سے حوالہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کف ثوب کی ممانعت کا حوالہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
نماز کے دوران آستین و فولڈ کرنا مکروہ تحریمی ہے، یہ مفتیان کرام سے ثابت ہے یا حدیث میں بھی اس کا کوئی حوالہ ہے؟
جواب
نماز میں آستین فولڈ کرنے کے حوالے سے حکمِ شرعی یہ ہے کہ آستین آدھی کلائی سے زیادہ فولڈ کرکے نماز پڑھنا نماز مکروہ تحریمی ہے، اور ایسی نماز کو دہراناواجب ہے، البتہ اگر آستین آدھی کلائی تک یا اس سے کم فولڈ ہو، تو نماز ہوجائے گی اور اعادہ بھی واجب نہ ہوگا۔
واضح رہے کہ! مفتیانِ کرام جو شرعی مسائل بیان فرماتے ہیں، وہ اپنی جانب سے نہیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں ہی بیان فرماتے ہیں۔ آپ نے جو مسئلہ دریافت کیا ہے، یہ بھی احادیثِ مبارکہ سے ثابت ہے، چنانچہ اس حوالے سے صحیح بخاری کی حدیثِ مبارک میں ہےکہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”أمرت أن أسجد على سبعة، لا اکف شعرا ولا ثوبا‘‘ ترجمہ: مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ میں سات ہڈیوں پر سجدہ کروں اور اپنے بالوں اور کپڑوں کو نہ لپیٹوں۔ (صحیح البخاری، صفحہ 156، رقم الحدث 816، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
اسی طرح کی حدیث مبارکہ کے تحت شارِح بخاری، علامہ بدر الدین عینی رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”وفيه كراهة كف الثوب ۔۔۔ كرهوا ذلك للمصلي سواء فعله في الصلاة أو قبل أن يدخل فيها“ ترجمہ: اس حدیث میں کپڑا موڑنے کی کراہت (کا ذکر) ہے۔۔۔ فقہا نے نمازی کے لیے کپڑا موڑنے کو مکروہ کہا ہے، چاہے اس نمازی نے نماز میں کپڑا موڑا ہو یا نماز میں داخل ہونے سے پہلےکپڑا موڑا ہو۔ (عمدۃ القاری، جلد 6، صفحہ 91، مطبوعہ: بیروت)
علامہ ابراہیم بن محمد حلبی رَحْمَۃ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”يكره أن يكف ثوبه وهو في الصلاة أو۔۔۔ يدخل فيها وهو مكفوف كما إذا دخل وهو مشمر الكم أو الذيل“ ترجمہ: حالتِ نماز میں نمازی کو کپڑا لپیٹنا مکروہ ہے، یونہی اگر وہ نماز شروع ہی اِس انداز میں کرے کہ اُس نے کپڑا فولڈ کیا ہوا ہو، جیسا کہ جب کوئی یوں نماز شروع کرے کہ اُس کی آستین یا دامن چڑھا ہوا ہو۔ (حلبی صغیری، صفحہ 470، مطبوعہ: دار السراج، اسطنبول)
حلبہ میں ہے "ینبغی ان یکرہ تشمیرھما الی مافوق نصف الساعد لصدق کف الثوب علی ھذا" ترجمہ: آستینوں کو نصف کلائی سے اوپر تک چڑھانا بھی مکروہ ہونا چاہیے کہ اس پر کپڑا سمیٹنا صادق آتا ہے۔ (حلبۃ المجلی، ج 01، ص 287، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
کراہتِ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے متعلق در مختار ميں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا دہرانا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ: کوئٹہ)
نماز میں آستین چڑھی ہونے کے بارے میں بہار شریعت میں ہے ”کوئی آستین آدھی کلائی سے زیادہ چڑھی ہوئی، یا دامن سميٹے نماز پڑھنا بھی مکروہ تحریمی ہے، خواہ پیشتر سے چڑھی ہو یا نماز میں چڑھائی۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 624، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وقار الفتاوی میں ہے ” حدیث کی بناء پر ہمارے تمام فقہاء نے کف ثوب یعنی کپڑے سمیٹنے کو مکروہ تحریمی لکھا ہے ۔۔۔یہ خیال رہے کہ جو نماز کراہت تحریمی کے ساتھ پڑھی جائے گی، اس کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوتا ہے۔“ (وقار الفتاوی، جلد 2، صفحہ 243-244، بزم وقار الدین، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5403
تاریخ اجراء:28 ربیع الاول 1448ھ/11 ستمبر 2026ء