مسجد کی توسیع میں استنجاء خانے کی جگہ شامل کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مسجد کی توسیع میں واش رومز والی جگہ شامل کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
صورت مسئولہ میں جب مسجد پرانی و بوسیدہ ہوگئی ہے اور نمازیوں کے لیے بھی چھوٹی پڑ رہی ہے تو اس کو شہید کر کے اس کی توسیع کرنا اور دوبارہ تعمیر کرنا، جائز ہے، اور مسجد کی تعمیر کرنا اور اس میں حصہ ملانا شرعاً بہت ثواب کا کام ہے، حدیث مبارک میں ہے کہ جس نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے مسجد بنائی، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنائے گا، اس میں یہ خیال رکھا جائے کہ جو جگہ پہلے عین مسجد میں شامل تھی اس کا کوئی بھی حصہ یا ٹکڑا اب مسجد سے خارج نہ ہو، کیونکہ جو جگہ ایک مرتبہ مسجد ہو گئی وہ تا قیام قیامت مسجد ہی رہے گی۔
نیز جو جگہ پہلے مسجد کے واش رومز کے لیے استعمال ہو رہی تھی، اس جگہ کو نئی تعمیر کے دوران عین مسجد میں شامل کرنا، جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی ممانعت نہیں ہے، کیونکہ مسجد کی تعمیرات سے پہلے ہی نجاست وغیرہ کو وہاں سے زائل کر دیا جائے گا،یعنی واش رومز کے فرش، سیٹ، اور پائپ وغیرہ اکھاڑ دیے جائیں گے، اگر کچھ نجس مٹی رہ گئی تو وہ خشک ہونے اور نجاست کا اثر زائل ہونے سے پاک ہو جائے گی، اور اگر پھر بھی نجاست کا کچھ اثر باقی رہ گیا تو مسجد کا فرش ڈالنے سے وہ نجاست دب جائے گی، اوپر پاک فرش آ جائے گا۔
مسجد تعمیر کرنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے: ﴿اِنَّمَا یَعْمُرُ مَسٰجِدَ اللّٰہِ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَ اَقَامَ الصَّلٰوۃَ وَ اٰتَی الزَّکٰوۃَ وَ لَمْ یَخْشَ اِلَّا اللّٰہَ فَعَسٰۤی اُولٰٓئِکَ اَنْ یَّکُوْنُوْا مِنَ الْمُہْتَدِیْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: ’’اللہ کی مسجدیں وہی آباد کرتے ہیں جو اللہ اور قیامت پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے تو قریب ہے کہ یہ لوگ ہدایت والوں میں ہوں۔“ (پارہ: 10 سورۃالتوبۃ: 9 آیت: 18(
امیر المومنین حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ: ’’من بنیٰ مسجداً یبتغی بہ وجہ اللہ بنی اللہ لہ مثلہ فی الجنۃ‘‘ جو اللہ عزوجل کی خوشنودی چاہتے ہوئے مسجد بنائے گا، اللہ عزوجل اس کے لئے جنت میں اس کی مثل گھر بنائے گا (صحیح بخاری، کتا ب الصلوۃ، با ب من بنیٰ مسجد اً، ج 1، ص 65، مطبوعہ کراچی)
جو حصہ زمین ایک مرتبہ مسجد قرار دے دیا گیا، وہ تا قیام قیامت مسجد ہی رہے گا، اس میں سے کسی حصہ کو غیر مسجد کرنا نا جائز و حرام ہے، سیدی اعلی حضرت مجدد دین وملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ’’جو زمین مسجد ہو چکی اس کے کسی حصہ کسی جز کا غیر مسجد کر دینا اگرچہ متعلقات مسجد ہی سے کوئی چیز ہو حرام قطعی ہے۔ قال اللہ تعالی: و ان المساجد للّٰہ۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا: بے شک مسجدیں اللہ تعالیٰ کی ہیں)۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص482 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک اور مقام پر پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد بنانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’اور اگر (مسجد کو شہید کرنا) بمصلحت شرعی ہے، مثلاً اگر اس میں اور زمین شامل کر کے توسیع کی جائے گی یا بنا کمزور ہو گئی ہے، محکم بنائی جائے گی، تو اصل بانی مسجد ورنہ اہل محلہ کو اس میں اختیار ہے، کما فی الھندیۃ و الدر المختار و غیرھما۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص355 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر:7224Pin-
تاریخ اجراء: 09 ذوالقعدۃ الحرام 1444ھ / 30 مئی 2023ء