سنت قبلیہ پڑھے بغیر امامت کرانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فجر و ظہر کی سنتیں پڑھے بغیر امامت کروانا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر امام صاحب فجر کی سنتیں پڑھے بغیر فجر کی جماعت کروا دیں، مثلاً جماعت کے عین وقت پر مسجد میں پہنچیں اور ابھی سنتیں ادا نہیں کی تھی، لیکن مقتدیوں کے انتظار کرنے کی وجہ سے جماعت کروا دیں، تو اس نماز کا کیا حکم ہو گا؟ اور اسی طرح سنتِ ظہر پڑھے بغیر جماعت کروا دیں، تو کیا حکم ہو گا؟
جواب
اگر وقت میں اتنی گنجائش ہو کہ سنتیں ادا کرنے کے بعد نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے فرض بھی ادا کر لئے جائیں گے، تو ایسی صورت میں امام صاحب کے لئے تاکید ہے وہ پہلے فجر و ظہر کی سنتیں ادا کریں اور پھر جماعت کروائیں، احادیثِ طیبہ میں سننِ فجر کی بہت تاکید بیان کی گئی ہے، حتی کہ اس تاکید کی وجہ سے انہیں وجوب کے قریب قرار دیا گیا ہے اور ظہر کی سنتیں بھی مؤکد ہیں اور (رہ جانے کی صورت میں اگرچہ فرض کے بعد پڑھنے کا حکم ہے، لیکن) ان کی ادائیگی کا اصل وقت فرض سے قبل ہی ہے، لہذا امام کو چاہئے کہ محض اس وجہ سے کہ جماعت میں تاخیر ہو جائے گی، سنتیں قضا نہ کریں۔ البتہ اگر امام نے سنتیں ادا کئے بغیر جماعت کروا دی، تو (دیگر شرائط کی موجودگی میں) نماز ادا ہو جائے گی۔
سنتِ فجر کے متعلق حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ’’لم يكن النبي صلى الله عليه وسلم على شيء من النوافل اشد تعاهدا منہ على ركعتي الفجر“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جتنی نگہبانی سنت فجر کی فرماتے، نوافل میں کسی اور کی نہ کرتے تھے۔ (صحیح بخاری، كتاب التہجد، جلد 1، صفحہ 156، مطبوعہ کراچی)
سنن ابو داؤد میں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”لا تدعوهما وان طردتكم الخيل“ ترجمہ: فجر کی سنتیں نہ چھوڑو، اگرچہ تم پر دشمنوں کے گھوڑے آ پڑیں‘‘۔ (سنن ابی داؤد، کتاب الصلوۃ، باب رکعتی الفجر، جلد 1،صفحہ 187، مطبوعہ لاہور)
سنتِ فجر کے بعد سننِ ظہر کی تاکید ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشادِ پاک ہے: ’’اربع قبل الظھر لیس فیھن تسلیم تفتح لھن ابواب السماء‘‘ ترجمہ: ظہر سے پہلے چار رکعتیں جن کے درمیان سلام نہ پھیرا جائے، ان کے لئے آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 188، مطبوعہ لاہور)
در مختار میں ہے: ’’(و) السنن (آكدها سنة الفجر) اتفاقا، ثم الاربع قبل الظهر في الاصح‘‘ ترجمہ: سنن میں بالاتفاق سب سے زیادہ تاکید سنتِ فجر کی ہے، پھر اصح قول کے مطابق ظہر سے قبل چار سنت کی تاکید ہے۔ (در مختار، کتاب الصلوۃ، باب الوتر والنوافل، جلد 2، صفحہ 14، مطبوعہ بیروت)
فتاوی امجدیہ میں ہے: ’’اگر اتنا وقت باقی ہے کہ سنت پڑھ لینے کے بعد فرض ادا کر لے گا، تو سنتوں کے پڑھنے کے بعد نماز پڑھائے، فجر کی سنت کا تاکد بہت زیادہ ہے، یہاں تک کہ قریب بوجوب ہے، بلکہ بعض فقہاء اس کے وجوب کے قائل ہیں، اگر سنتِ فجر بغیر پڑھے ہوئے امامت کرے، تو اس کا ترک لازم آئے گا کہ اب اس کی قضا بھی نہیں اور بلاشبہ بغیر عذر سنتِ فجر کا ترک اساءت ہے اور ظہر کی سنتیں اگرچہ بعد فرض پڑھ لے گا، مگر بلا عذر اس کو اس کی جگہ سے ہٹانا بھی برا ہے کہ سنتِ قبلیہ میں اصل سنت یہی ہے کہ وہ فرض سے قبل پڑھی جائے۔ جماعت قائم ہو چکنے کے بعد مقتدی کا جماعت میں مشغول ہونا اور سنت کا مؤخر کرنا عذرِ شرعی کی وجہ سے ہے، مگر بلا وجہ امام کا مؤخر کرنا سنت کے خلاف ہے‘‘۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 200، مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7390
تاریخ اجراء: 08 رجب المرجب 1445ھ / 20 جنوری 2024ء