تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے ساتھ دیگر دعائے ماثورہ پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تکبیر تحریمہ کے بعد ثناء کے ساتھ مزید دعائیں پڑھنا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں ہم تکبیرِ تحریمہ کے بعد ثناء ﴿سبحٰنک اللہم۔۔الخ﴾ پڑھتے ہیں، کیا اس کے علاوہ دیگر دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں، جیسا کہ المعجم الکبیر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے بعد ﴿وَجَّہْتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیْ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ حَنِیْفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیْنَ﴾ پڑھتے، پھر ثناء پڑھتے تھے۔ (المعجم الکبیر، 13324) یونہی ترمذی شریف میں ہے کہ ثناء کے ساتھ تین بار ﴿اللہ اکبر کبیرا﴾ کہتے تھے۔ (جامع ترمذی، 242)۔ تو کیا ثناء کے ساتھ یہ دعائیں بھی پڑھ سکتے ہیں؟
جواب
فرض نماز میں تکبیرِ تحریمہ کے بعد معروف ثناء ﴿سبحٰنک اللہم وبحمدک۔۔الخ﴾ پر ہی اکتفاء کیا جائے گا، دیگر اذکار کا اضافہ نہیں کریں گے، البتہ نوافل میں ثناء کے علاوہ دیگر دعائے ماثورہ بھی پڑھ سکتے ہیں اور سوال میں ذکر کردہ اور ان کے علاوہ جو اذکار احادیث طیبہ میں وارد ہوئے ہیں، وہ نوافل میں پڑھنے پر ہی محمول ہیں اور اس کی تائید خود حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے۔
جزئیات درج ذیل ہیں:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز کی ابتدا میں معروف ثناء پڑھا کرتے تھے۔ چنانچہ جامع ترمذی میں حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: ’’كان النبي صلى الله عليه وسلم إذا افتتح الصلاة قال: سبحانك اللهم وبحمدك، و تبارك اسمك، وتعالى جدك، ولا إله غيرك‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع کرتے، تو سبحانك اللهم۔۔الخ، پڑھا کرتے تھے۔ (جامع ترمذی، ابواب الصلوۃ، باب ما یقول عند افتتاح الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 57، مطبوعہ کراچی)
فرض نماز میں معروف ثناء ہی پڑھیں گے، البتہ نوافل میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ چنانچہ درِ مختار اور پھر رد المحتار میں ہے: ”(قرا سبحانک اللھم مقتصرا علیہ، فلا یضم وجھت وجھی الا فی النافلۃ) لحمل ما ورد فی الاخبار علیھا فیقرؤہ فیھا اجماعا۔۔وفی الخزائن: ما ورد محمول علی النافلۃ بعد الثناء فی الاصح “ ترجمہ: نمازی ”سبحانک اللھم“ پڑھے گا، اس پر اکتفا کرتے ہوئے، لہذا ”وجھت وجھی“ نہیں ملائے گا مگر نوافل میں، کیونکہ احادیث میں جو (اوراد)وارد ہوئے وہ نوافل پر محمول ہیں، تو بالاجماع ان اوراد کو نوافل میں پڑھا جائے گا۔۔اور خزائن میں ہے: جو اوراد (حدیث میں) وارد ہوئے وہ اصح قول کے مطابق ثنا کے بعد نفل نماز پر محمول ہیں۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلوۃ، باب صفۃ الصلوۃ، جلد 2، صفحہ 231، مطبوعہ پشاور)
نوافل پر محمول ہونے کی تائید حدیث پاک سے بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ سنن نسائی میں حضرت سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: ’’ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کان اذا قام یصلی تطوعا، قال: اللہ اکبر؛ وجھت وجھی للذی فطر السمٰوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین،۔۔۔ ثم یقرا“ ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب نفل پڑھنے کے لئے کھڑے ہوتے، تو کہتے: اللہ اکبر، وجھت وجھی للذی فطر السمٰوات والارض حنیفا وما انا من المشرکین۔۔الخ، پھر قراءت کرتے۔ (سنن نسائی، کتاب الافتتاح، باب الدعاء بین التکبیر و القراءۃ، جلد 2، صفحہ 131، مطبوعہ حلب)
اس حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے: ”ظاھرہ یؤید مذھبنا المختار ان یقرا بوجھت وجھی فی النوافل والسنن‘‘ ترجمہ: اس حدیث کا ظاہر ہمارے مختار مذہب کی تائید کرتا ہے کہ ”وجھت وجھی“ نوافل و سنن میں پڑھا جائےگا۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الصلاۃ، باب ما یقرا بعد التکبیر، جلد 2، صفحہ 504، مطبوعہ کوئٹہ)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ نماز میں ثنا کے علاوہ پڑھے جانے والے اوراد کے متعلق فرماتے ہیں: ”ما روی سوی ذلک فھو محمول علی التھجد بل مطلق النوافل، لما ثبت فی صحیح ابی عوانۃ والنسائی: انہ صلی اللہ علیہ و سلم کان اذا قام یصلی تطوعا قال: اللہ اکبر، وجھت وجھی۔۔۔الی آخرہ، فیکون مفسرا لما فی غیرہ، بخلاف: سبحانک اللھم، فانہ المستقر علیہ فی الفرائض“ یعنی اس (سبحانک اللھم) کے علاوہ جو اوراد مروی ہیں وہ تہجد بلکہ مطلق نوافل پر محمول ہیں، کیونکہ صحیح ابی عوانہ و نسائی میں موجود ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم جب نفل نماز ادا فرماتے، تو کہتے: اللہ اکبر، وجھت وجھی۔۔الخ (یعنی آخر تک)، تو یہ حدیث دیگر حدیثوں کے لئے مفسر ہے، برخلاف ”سبحانک اللھم“ کے کہ فرائض میں یہ دعا پڑھی جائے گی۔ (لمعات التنقیح، کتاب الصلاۃ، باب ما یقرا بعد التکبیر، جلد 2، صفحہ 563، مطبوعہ لاہور)
یونہی مراۃ المناجیح میں ہے: ”یہ حدیث گذشتہ ساری حدیثوں کی شرح ہے جس نے بتا دیا کہ نماز کی یہ ساری دعائیں اور اذکار نوافل میں ہیں“۔ (مراۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 41، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سوال میں ذکر کردہ دوسری دعا کے متعلق علامہ ملا علی القاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”(وفی صلاۃ التطوع) ای: رواہ ابو داؤد عن جبیر بن مطعم: (اللہ اکبر کبیرا ثلاثا، الحمد للہ کثیرا ثلاثا، سبحان اللہ بکرۃ واصیلا ثلاثا)“ ترجمہ: نفل نماز میں (پڑھے) جسے امام ابو داؤد نے جبیر بن مطعم سے روایت کیا: اللہ اکبر کبیرا تین بار، الحمد للہ کثیرا تین بار، سبحان اللہ بکرۃ واصیلا تین بار۔ (الحرز الثمین للحصن الحصین، الجزء الثانی، صفحہ 716، 717، مطبوعہ ریاض)
بہارِ شریعت میں ہے: ”تحریمہ کے بعد فوراً ثنا پڑھے اور ثنا میں ﴿وجل ثناؤک﴾ غیرِ جنازہ میں نہ پڑھے اور دیگر اذکار جو احادیث میں وارد ہیں وہ سب نفل کے لئے ہیں“۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 523، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7404
تاریخ اجراء: 05 شعبان المعظم 1445ھ/16 فروری 2024ء