logo logo
AI Search

دوران نماز دروازہ کھٹکھٹانے والے کو جواب دینا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دوران نماز دروازے پر مسلسل دستک ہو رہی ہو تو نمازی کیا کرے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک مرد گھرکے اندر ایک بند کمرے میں نماز پڑھ رہا ہو، دورانِ نماز اگر کوئی شخص آیا اور گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اس باہر کھڑے فرد کو معلوم نہیں کہ اندر کون ہے اور کیا کر رہا ہے اور دستک کی کثرت کی وجہ سے نمازی کو پریشانی بھی ہو رہی ہے۔ اور یہ بھی ظاہر ہے کہ نمازی اگر بولے یا دورانِ نماز جا کر دروازہ کھولے گا تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ اگر نمازی کچھ بولتا ہے اور نہ ہی دروازہ کھولتا ہے تو وہ کیا طریقہ اختیار کرے؟ اگر وہ اس بات کا اشارہ دینے کے لئے کہ اندر موجود فرد نماز میں مصروف ہے، اللہ اکبر یا سبحان اللہ کی مثل کلمات بلند آواز کے ساتھ کہہ دیتا ہے تو کیا اُس کی نماز باقی رہی یا فاسد ہو جائے گی؟ سائل: غلام مصطفی(نارتھ کراچی)

جواب

جب کوئی مرد نماز میں مصروف ہو اور کوئی دروازے پر آکر آواز یا دستک وغیرہ دے تو ایسی صورت حال میں اگر نمازی بلند آواز سے سبحان ﷲ۔۔یا۔۔لا الٰہ الا ﷲ۔۔یا۔۔اللہ اکبر وغیرہ کلمات کہہ کر اُسے اپنے نماز پڑھنے سے مطلع کرے تو اس کا یہ عمل جائز ہے، اور اس سے اُس کی نماز بھی فاسد نہیں ہوگی۔

غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی میں ہے: ”(ولو استأذن رجل المصلى) اى طلب منه الاذن فى الدخول وكذا لو ناداه (فجهر) المصلى (بالقراءة) ليُعلِمَه انه في الصلوة (او قال الحمد لله( لاجل ذلك ( أو ) قال (الله اكبر لا تفسد) صلوته۔“ ترجمہ: اگر کوئی مرد نمازی سے گھر یا کمرے میں داخل ہونے کی اجازت طلب کرے، اسی طرح اگر کوئی نمازی کو پکارے تو نمازی قراءت میں اس لئے جہر کرے تاکہ اس شخص کو پتا چل جائے کہ وہ نماز پڑھ رہا ہے یا اس مقصد کے لئے الحمد للہ کہے یا اللہ اکبر کہے تو اس صورت میں اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی۔ (غنیۃ المتملي، کتاب الصلاۃ، مفسدات الصلاۃ، ص 449، مطبوعہ کوئٹہ)

بدائع الصنائع میں علامہ کاسانی حنفی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”ولو استأذن على المصلي إنسان فسبح وأراد به إعلامه أنه في الصلاة لم يقطع صلاته؛ لما روي عن علي رضي الله عنه أنه قال {كان لي من رسول الله صلى الله عليه وسلم مدخلان في كل يوم بأيهما شئتُ دخلتُ فكنت إذا أتيتُ الباب فإن لم يكن في الصلاة فتح الباب فدخلتُ وإن كان في الصلاة رفع صوته بالقراءة فانصرفتُ} ولأن المصلي يحتاج إليه لصيانة صلاته؛ لأنه لو لم يفعل ربما يلحُّؔ  المستأذن حتى يبتلى هو بالغلط في القراءة فكان القصد به صيانة صلاته فلم تفسد“

یعنی نمازی سے کوئی اندر آنے کی اجازت مانگے تو وہ تسبیح کہے اس ارادے سے کہ اس کو اپنے نماز پڑھنے سے مطلع کرے تو نماز فاسد نہیں ہوتی اس کی دلیل وہ حدیث پاک ہے جس میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: میرے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے آپ کی بارگاہ میں حاضری کے دو وقت میسر تھے، میں ان میں سے جس وقت چاہتا بارگاہ اقدس میں حاضر ہو جاتا چنانچہ میں جب دروازہ مبارکہ پر حاضر ہوتا اگر آپ علیہ الصلوٰۃ و السلام نماز میں نہ ہوتے تو دروازہ کھولتے اور میں اندر داخل ہو جاتا اور اگر نماز میں مصروف ہوتے تو اونچی آواز میں قراءت کرتے تو میں واپس چلا جاتا۔“ نماز فاسد نہ ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ نمازی کو اپنی نماز کی حفاظت کرنے کی حاجت ہے، کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اندر داخل ہونے کی اجازت لینے والا اتنا شدید اصرار کرے گا کہ نمازی قراءت کی غلطی میں مبتلا ہو جائے گا لہذا (تسبیح وغیرہ کے ذریعہ مطلع کرنے کا) مقصد اپنی نماز کی حفاظت کرنا ہوا اس لیے نماز بھی فاسد نہیں ہوگی۔ (البدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، مفسدات الصلاۃ، ج 1، ص 425-541، مطبوعہ کوئٹہ)

تنویر و در میں ہے: ’’یفسدھا (کل ما قصد بہ الجواب)‘‘ ترجمہ: ہر وہ بات جس سے کسی کو جواب دینا مقصود ہو اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے: ”واحترز بقصد الجواب عما لو سبح لمن استأذنه في الدخول على قصد إعلامه أنه في الصلاة۔۔۔۔أو سبح لتنبيه إمامه فإنه وإن لزم تغييره بالنية عندهما إلا أنه خارج عن القياس بالحديث الصحيح {إذا نابت أحدكم نائبة وهو في الصلاة فليسبح}“ ترجمہ: قصدِ جواب کی قید کے ذریعہ اُس صورت سے احتراز ہے کہ اگر نمازی سے کوئی اندر آنے کی اجازت مانگے تو وہ سبحان اللہ کہے اس ارادے سے کہ اس کو اپنے نماز پڑھنے سے مطلع کرے یا اپنے امام کو آگاہ کرنے کی غرض سے سبحان اللہ کہے، کہ اگرچہ طرفین کے نزدیک نیت کے ذریعے اس ذکر میں تبدیلی لازم آ رہی ہے (یعنی یہاں ذکر و عبادت کی نیت سے کہنا نہیں پایا جارہا) مگر یہ صورتیں قیاس و قاعدہ سے خارج ہیں، اِس حدیث صحیح کی بنا پر کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا) جب تم میں سے کسی کو نماز کی حالت میں کوئی معاملہ در پیش آئے تو چاہئے کہ وہ تسبیح کہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الصلاۃ، ج 2، ص459، مطبوعہ کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے: کسی نے آنے کی اجازت چاہی اس نے یہ ظاہر کرنے کو کہ نماز میں ہے، زور سے الحمد ﷲ یا ﷲ اکبر، یا سبحان ﷲ پڑھا، نماز فاسد نہ ہوئی۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 606، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: FMD-4776
تاریخ اجراء: 09 شعبان المعظم 1447 ھ/29 جنوری 2026 ء