جماعت چھوٹنے کے خوف سے سنت نماز توڑنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
جماعت فوت ہونے کے اندیشے میں سنتوں کی تکمیل کا مسئلہ
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ سنت مؤکدہ کی ایک رکعت پڑھی اور خدشہ ہے کہ اگر دوسری رکعت ملائیں گے تو امام سلام پھیر دے گا، اب کیا حکم ہے؟
جواب
اگر کوئی شخص نفل، سنتِ مؤکدہ یا سنتِ غیر مؤکدہ شروع کرچکا تھا، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ دو رکعت مکمل کیے بغیر سلام نہ پھیرے، ایک رکعت پر سلام پھیر دینا جائز نہیں، اگرچہ جماعت میں امام کے سلام پھیر دینے کا خوف ہو، کہ یہ تکمیل کے لیے نہیں بلکہ ابطال کےلیے نماز توڑنا ہوگا جو کہ ناجائز ہے، البتہ اگر چار رکعت والی سنتِ مؤکدہ جیسے ظہر کی سنتِ قبلیہ شروع کرچکا تھا، اور فرضوں کی جماعت کھڑی ہوگئی، تو اب دو رکعت پڑھ کر سلام پھیردے یا چار مکمل کرے؟ اس میں اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ دو رکعت پر سلام پھیر دے۔
دوسرا قول یہ ہے کہ چار رکعت پوری کرےکیونکہ ان سنتوں کی تمام رکعتیں نماز واحد کی طرح ہیں۔ مذکورہ بالا دونوں اقوال میں سے ہر طرف نہایت قوت اور تصحیح موجود ہے، دونوں اقوال میں سے جس پر انسان عمل کرے، تو کوئی اعتراض نہیں ہے، لیکن راجح، دوسرا قول ہی ہے اور سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرّحمہ نے بھی اسی طرف میلان ظاہر فرمایا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
تاریخ اجراء: ماہنامہ فیضانِ مدینہ اپریل 2026ء