بچے کے رونے پر نماز مختصر کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بچہ رو رہا ہو تو ماں نماز کو مختصر کر سکتی ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر بچہ رو رہا ہو اور بچے کی ماں نماز ادا کر رہی ہو، اور گھر میں اس کے علاوہ کوئی نہ ہو، تو کیا وہ نماز کو مختصر کر سکتی ہے؟ نیز کیا ایسی صورت میں صرف فرض نماز ہی ادا کی جائے، خصوصاً جب بچے کی طبیعت ٹھیک نہ ہو؟
جواب
بچے کے رونے پر نماز مختصر کی جا سکتی ہے۔ احادیث سے خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے امامت کرواتے ہوئے کسی عورت کے بچے کے رونے پر نماز کو مختصر پڑھانا ثابت ہے۔ نماز کو مختصر کرنے سے مراد یہ نہیں کہ نماز کے واجبات یا سنتیں چھوڑ دی جائیں، رکوع و سجود میں جلد بازی اور بے اطمینانی اختیار کی جائے، ایسا کرنا درست نہیں۔ نماز کو مختصر کرنے سے مراد یہ ہے کہ قراءت اور نماز کے دیگر ارکان کو طویل نہ کرے، بلکہ بقدرِ کفایت ادا کرے، جیسے جن رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد سورت ملانا واجب ہے، اُن میں بقدرِ واجب قراءت کرلی جائے، یعنی تین چھوٹی آیات، یا تین چھوٹی آیات کے برابر ایک بڑی آیت پڑھ لی جائے۔ اسی طرح رکوع و سجود میں مسنون حد تک تسبیحات (رکوع میں تین مرتبہ ’’سبحان ربی العظیم‘‘ اور سجدے میں تین بار ’’سبحان ربی الاعلیٰ‘‘) کہنے پر اکتفا کیا جائے۔ خلاصہ یہ کہ مختصر قراءت، قدرِ مسنون تسبیحات اور رکوع و سجود، قومہ و جلسہ کی مکمل اطمینان کے ساتھ ادائیگی کرتے ہوئے نماز پڑھی جائے۔
رہی بات بچے کے رونے اور طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے سبب صرف فرض نماز ادا کرنے کی، تو اگر بچہ بہت زیادہ رو رہا ہو، یا طبیعت ٹھیک نہ ہونے کے سبب ماں کی فوری توجہ کی ضرورت ہو تو وقت میں گنجائش ہونے پر پہلے بچے کو سنبھال لیا جائے، پھر مکروہ وقت سے پہلے پہلے سنن و نوافل کے ساتھ فرض نماز ادا کرلی جائے، یا کم از کم سنتِ مؤکدہ ضرور ادا کرلی جائیں کہ سنت مؤکدہ نمازوں کو پڑھنے کی شرعاً تاکید ہے، بغیر عذرِ شرعی ایک مرتبہ بھی چھوڑنے والا عتاب کا مستحق اور عادت بنا لینے والا گنہگار ہے۔ البتہ اگر عذر برقرار رہے، یعنی بچہ مسلسل ہی رو رہا ہو اور طبیعت بہتر نہ ہو رہی ہو، یا وقت کم رہ گیا ہو تو اب صرف فرض و واجب نماز کو اس کے وقت میں ادا کر لینا کافی ہوگا۔ اس عذر کی وجہ سے سنتِ مؤکدہ ترک کرنے کی گنجائش ہوگی۔
بچے کے رونے پر نماز کو مختصر کرنے کے حوالے سے صحيح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے: ’’عن عبد الله بن أبي قتادة، عن أبيه أبي قتادة، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إني لأقوم في الصلاة أريد أن أطول فيها، فأسمع بكاء الصبي، فأتجوز في صلاتي، كراهية أن أشق على أمه‘‘ ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن ابی قتادہ اپنے والد ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نماز میں کھڑا ہوتا ہوں اور اس کو لمبا کرنے کا ارادہ کرتا ہوں، پھر میں بچے کے رونے کی آواز سن لیتا ہوں تو اپنی نماز کو مختصر کر دیتا ہوں، اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ اس کی ماں کو مشقت میں ڈالوں۔ (صحیح البخاری، جلد 1، باب: من أخف الصلاة عند بكاء الصبي، صفحہ 250، رقم الحدیث: 675، مطبوعہ دمشق)
صحیح بخاری کی دوسری حدیث پاک ہے: ’’شريك بن عبد الله قال: سمعت أنس بن مالك يقول: ما صليت وراء إمام قط، أخف صلاة ولا أتم، من النبي صلى الله عليه وسلم، وإن كان ليسمع بكاء الصبي فيخفف، مخافة أن تفتن أمه‘‘ ترجمہ: حضرت شریک بن عبد اللہ فرماتے ہیں: میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ میں نے کسی امام کے پیچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مختصر اور مکمل نماز نہیں پڑھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بچے کے رونے کی آواز سن لیتے تو نماز کو ہلکا کر دیتے، اس خوف سے کہ کہیں اس کی ماں کسی آزمائش میں نہ پڑ جائے۔ (صحیح البخاری، جلد 1، باب: من أخف الصلاة عند بكاء الصبي، صفحہ 250، رقم الحدیث: 676، مطبوعہ دمشق)
مذکورہ حدیث کی شرح میں ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ ’’مرقاۃ المفاتیح‘‘ میں لکھتے ہیں: ’’قال القاضي: خفة الصلاة عبارة عن عدم تطويل قراءتها والاقتصار على قصار المفصل، وكذا قصر المنفصل، وعن ترك الدعوات الطويلة في الانتقالات، وتمامها عبارة عن الإتيان بجميع الأركان والسنن واللبث راكعا وساجدا بقدر ما يسبح ثلاثا، انتهى‘‘ ترجمہ: قاضی کہتے ہیں: نماز کا ہلکا ہونا، قراءت کے طویل نہ ہونے اور قصار مفصل (سورۃ بینہ سے آخر تک کی سورتوں) پر اکتفا سے عبارت ہے، اسی طرح مد منفصل میں قصر کرنا (ایک الف کی مقدار کھینچنا)، اور (ایک رکن سے دوسرے میں) انتقالات کے دوران لمبی دعائیں چھوڑ دینا ہے۔ اور نماز کا کامل ہونا تمام ارکان اور سنتوں کو ادا کرنے اور رکوع و سجدہ میں تین مرتبہ تسبیح کہنے کی مقدار ٹھہرنے سے عبارت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 3، صفحہ 871، دار الفكر، بيروت)
شیخ عبد الحق محدث دہلوی حنفی رحمۃ اللہ علیہ ’’لمعات التنقیح فی شرح مشکوۃ المصابیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’وينبغي أن يعلم أنه ليس المراد بالتخفيف وترك التطويل أن يترك سنة القراءة والتسبيحات ويتهاون في أدائها، بل أن يقتصر على قدر الكفاية في ذلك،۔۔۔ ويكتفي على ثلاث مرات من التسبيح بأدائها كما ينبغي مع رعاية القومة والجلسة.وأكثر ما يراد بتخفيف الصلاة الوارد في الأحاديث تخفيف القراءة، وقد وقع في بعض الأحاديث أنه كان رسول الله صلى الله عليه وسلم أخف الناس صلاة في تمام، قيل في معناه: إنه كان يخفف القراءة ويتم الركوع والسجود والتعديل‘‘ ترجمہ: اور یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ نماز کو ہلکا کرنے اور لمبا نہ کرنے سے یہ مراد ہرگز نہیں کہ قراءت اور تسبیحات کی سنتوں کو چھوڑ دیا جائے یا ان کی ادائیگی میں سستی کی جائے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بقدرِ کفایت پر اکتفا کیا جائے۔۔۔اور تسبیحات کو تین مرتبہ ادا کرنے پر اکتفا کیا جائے جیسا چاہئے اور ساتھ قومہ و جلسہ کی رعایت بھی ہو۔ اور احادیث میں نماز کو ہلکا کرنے سے زیادہ تر مراد قراءت کو ہلکا کرنا ہوتا ہے۔ اور بعض احادیث میں یہ وارد ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ ہلکی نماز پڑھنے والے تھے، اس حال میں کہ وہ کامل (بھی) ہوتی تھی۔ اس کا مطلب یہ بیان کیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم قراءت کو مختصر کرتے تھے، لیکن رکوع، سجود اور تعدیل (ارکان) کو مکمل کرتے تھے۔ (لمعات التنقیح، جلد 3، صفحہ 254، 253، دار النوادر، دمشق - سوريا)
اوپر مذکور حدیث کی شرح میں مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ ’’مرآۃ المناجیح‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت کی نماز دراز نہ ہوتی تھی (مگر) اس کے باوجود کوئی مستحب تک نہیں چھوٹتا تھا۔ خیال رہے کہ ہلکی نماز سے یہ مراد نہیں کہ سنتیں چھوڑ دیں یا اچھی طرح ادا نہ کریں بلکہ مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان دراز نہ کرے (بلکہ) بقدر کفایت ادا کرے جیسے رکوع سجدے کی تسبیحیں تین بار کہے‘‘۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 203، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
سنت مؤکدہ نمازوں کے ترک کا حکم بیان کرتے ہوئے، سيدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’شبانہ روز میں بارہ رکعتیں سنتِ مؤکدہ ہیں، دو صبح (فجر کے فرض) سے پہلے، اور چار ظہر سے پہلے اور دو بعد، اور دو مغرب و عشاء کے بعد، جو ان میں سے کسی کو (بغیر عذر) ایک آدھ بار ترک کرے مستحق ملامت و عتاب ہے۔ اور ان میں سے کسی کے ترک کا عادی گنہگار و فاسق و مستوجب عذاب ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 509، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہار شریعت میں لکھتے ہیں: ”سنتیں بعض مؤکدہ ہیں کہ شریعت میں اس پر تاکید آئی، بلا عذر ایک بار بھی ترک کرے، تو مستحقِ ملامت ہے اور ترک کی عادت کرے، تو فاسق، مردود الشہادۃ، مستحقِ نار ہے اور بعض ائمہ نے فرمایا کہ ”وہ گمراہ ٹھہرایا جائے گا اور گنہگار ہے اگرچہ اس کا گناہ واجب کے ترک سے کم ہے۔“ تلویح میں ہے کہ اس کا ترک قریب حرام کے ہے، اس کا تارک مستحق ہے کہ معاذ اللہ! شفاعت سے محروم ہو جائے کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے فرمایا: ”جو میری سنت کو ترک کرے گا، اسے میری شفاعت نہ ملے گی۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 662، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1161
تاریخ اجراء: 28 شوال المکرم 1447ھ / 17 اپریل 2026ء