logo logo
AI Search

خطیب کے چہرے کے سامنے سنتیں ادا کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جمعہ کے دن خطیب کے چہرے کے سامنے سنتیں ادا کرنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جمعہ کے دن جب امام منبر پر ہوتا ہے، تو اس وقت مقتدی کا اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے سنتیں ادا کرنا کیسا ؟

جواب

اگر خطیب صاحب پہلے ہی سے منبر پر جلوہ افروز ہوں، تو ایسی حالت میں جو شخص ان کے عین سامنے نماز شروع کرے گا، وہ گنہگار ہوگا، کیونکہ کسی کے چہرے کے سامنے نماز ادا کرنا مکروہِ تحریمی ہے۔

در مختار میں ہے "(وصلاته إلى وجه إنسان) ككراهة استقباله، فالاستقبال لو من المصلي فالكراهة عليه وإلا فعلى المستقبل ولو بعيدا ولا حائل" ترجمہ: اور کسی انسان کے چہرے کی طرف نماز پڑھنا ایسے ہی مکروہ ہے، جیسے کسی نماز پڑھنے والے کی طرف منہ کرنا مکروہ ہے، لہٰذا اگر نمازی نے اس کی طرف منہ کیا ہو، تو کراہت کا وبال اس نمازی پر ہے، ورنہ منہ کرنے والے پر، اگرچہ وہ کتنا ہی دور ہو، جبکہ درمیان میں کوئی حائل نہ ہو۔

اس کے تحت رد المحتار میں علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ارشاد فرماتے ہیں: "ففي صحيح البخاري: وكره عثمان رضي اللہ عنه أن يستقبل الرجل وهو يصلي۔۔ والظاهر أنها كراهة تحريم" ترجمہ: کیونکہ صحیح البخاری میں ہے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کسی کی طرف اس کی نماز کی حالت میں منہ کرنے کو مکروہ جانا ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 02، صفحہ 496، 497، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے "کسی شخص کے مونھ کے سامنے نما زپڑھنا، مکروہ تحریمی ہے۔ یوہیں دوسرے شخص کو مصلّی کی طرف مونھ کرنا بھی ناجائز و گناہ ہے، یعنی اگر مصلّی کی جانب سے ہو تو کراہت مصلّی پر ہے، ورنہ اس پر۔ " (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 626، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4978
تاریخ اجراء: 16 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 04 مئی 2026ء