نماز تہجد فجر کے وقت میں ختم ہونے پر تہجد کا حکم ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
تہجد کی نماز فجر کے وقت میں ختم ہوئی تو تہجد ادا ہوجائے گی یا نہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کسی نے تہجد کی دو رکعت جلد ی سے عشاء کے آخری وقت میں ادا کیں، لیکن سلام پھیر کر دیکھا، تو نماز کے دوران ہی فجر کا وقت داخل ہو چکا تھا، تو فجر کے وقت میں نفل ادا کرنے کی وجہ سے کیا یہ گناہ گار ہوگا؟ نیز اس کی تہجد کی نماز ادا ہو گئی؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں وہ شخص گناہ گار نہیں ہوگا اور (بقیہ لوازمات کی موجودگی میں) اس کی تہجد کی نماز بھی ادا ہو جائے گی۔ البتہ نماز وغیرہ عبادات خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کی جانی چاہئیں، لہذا ان کا بَروقت اہتمام کیا جائے۔ گناہ گار نہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فجر کے وقت میں سنتِ فجر کے علاوہ کوئی نفل نماز قصداً شروع کرنا، جائز نہیں، پہلے سے شروع کئے ہوں، تو انہیں مکمل کر سکتے ہیں۔ نیز اصولِ شرع کے مطابق نمازِ فجر، جمعہ اور عیدین کے علاوہ بقیہ نمازوں کی ادائیگی درست ہونے کے لئے وقت کے اندر تکبیرِ تحریمہ کہہ لینا کافی ہے، اگرچہ ان کا سلام وقت ختم ہونے کے بعد پھیرا گیا ہو، لہذا تہجد کی نماز بھی ادا ہو گئی۔
فجر کے وقت میں سنتِ فجر کے علاوہ کوئی نفل نماز جائز نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’لا صلاة بعد طلوع الفجر الا ركعتين‘‘ ترجمہ: طلوعِ فجر کے بعد دو رکعت (سنتِ فجر) کے علاوہ کوئی (نفل) نماز نہیں ہے۔ (سنن دار قطنی، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 461، مطبوعہ بیروت)
بحر الرائق میں ہے: ’’وفي رواية الطبراني: اذا طلع الفجر، فلا تصلوا الا ركعتين۔ قيدنا بكونه قصدا لما في الظهيرية‘‘ ترجمہ: طبرانی کی روایت میں ہے: جب فجر طلوع ہو جائے، تو دو رکعت کے سوا کوئی نماز نہ پڑھو، ہم نے اسے قصداً نفل شروع کرنے کے ساتھ مقید کیا ہے، جیسا کہ ظہیریہ میں ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 266، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’ومن صلى تطوعا في آخر الليل فلما صلى ركعة طلع الفجر كان الإتمام أفضل؛ لأن وقوعه في التطوع بعد الفجر لا عن قصد ولا تنوبان عن سنة الفجر على الاصح‘‘ ترجمہ: کوئی شخص رات کے آخری حصہ میں (طلوع فجر سے پیشتر) نماز نفل پڑھ رہا ہو اور ایک رکعت پڑھ چکا تھا کہ فجر طلوع کر آئی تو افضل یہ ہے کہ دوسری بھی پڑھ کر پوری کر لے کیونکہ طلوع فجر کے بعد نفل میں قصدا واقع ہونا نہیں ہے اور اصح قول کے مطابق یہ دونوں رکعتیں سنت فجر کے قائم مقام نہیں ہوں گی۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلوۃ، جلد 1، صفحہ 59، مطبوعہ کراچی)
نماز کی ادائیگی کے متعلق بہار شریعت میں ہے: ’’وقت میں اگر تحریمہ باندھ لیا، تو نماز قضا نہ ہوئی، بلکہ ادا ہے، مگر نمازِ فجر و جمعہ و عیدین کہ ان میں سلام سے پہلے بھی اگر وقت نکل گیا، تو نماز جاتی رہی‘‘۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 701، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7429
تاریخ اجراء: 17 رمضان المبارک 1445ھ / 28 مارچ 2024ء