بیٹھ کر نماز پڑھنے والا قیام کرنے والوں کی امامت کر سکتا ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
بیٹھ کر نماز پڑھنے والے امام کے پیچھے نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جو شخص قیام پر قادر نہ ہو جبکہ بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو، یہ شخص بیٹھ کر رکوع و سجود کے ساتھ نماز پڑھائے تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والوں کی نماز ہوجاتی ہے، لہذا ایسا شخص، ان لوگوں کی امامت کر سکتا ہے۔
بخاری شریف میں ہے "و صلى النبي صلى اللہ عليه و سلم في مرضه الذي توفي فيه بالناس و هو جالس" ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ و سلم نے جس مرض میں وفات پائی، اس میں لوگوں کو بیٹھ کر نماز پڑھائی۔ (صحیح البخاری، ج 01، ص 135، مطبوعہ بیروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے "و يصح اقتداء القائم بالقاعد الذي يركع و يسجد لا اقتداء الراكع و الساجد بالمومئ. هكذا في فتاوى قاضي خان" ترجمہ: اور کھڑے ہو کر نماز پڑھنے والا، اس شخص کی اقتداء میں نماز ادا کر سکتا ہے، جو بیٹھ کر رکوع و سجود کرتا ہو، لیکن اس کی اقتداء نہیں کر سکتا، جو اشارے سے رکوع و سجود کرتا ہو، اسی طرح فتاوی قاضی خان میں ہے۔ (فتاوی ہندیہ، کتاب الصلوۃ، ج 01، ص 85، مطبوعہ کوئٹہ)
بہارشریعت میں ہے "اگر بیٹھ کر رکوع و سجود کر سکتا ہو تو اس کے پیچھے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کی ہوجائے گی۔" (بہار شریعت، ج 01، حصہ 03، ص 571، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11024
تاریخ اجراء: 09 جمادی الاولی 1443ھ / 14 دسمبر 2021ء