مقتدی کا التحیات مکمل کیے بغیر امام کے ساتھ کھڑا ہونا
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مقتدی تشہد مکمل کیے بغیر امام کے ساتھ اگلی رکعت کے لیے کھڑا ہوجائے تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید دوسری رکعت کے قعدہ میں امام کے ساتھ شامل ہوا، ابھی زید نے التحیات مکمل نہیں پڑھی تھی کہ امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہوگیا، زید کو مسئلہ معلوم نہیں تھا، لہذا بوجہ جہالت وہ بھی التحیات مکمل پڑھے بغیر کھڑا ہوگیا، اور اس نے نماز مکمل کرلی، اب بعد میں اسے مسئلہ معلوم ہوا کہ: "اگر مقتدی نے التحیات مکمل نہ کی ہو اور امام تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جائے تو مقتدی التحیات مکمل کر کے ہی کھڑا ہوگا" اب سوال یہ ہے کہ زید پر اس نماز کا اعادہ لازم ہے یا نہیں ؟
جواب
صورت مسئولہ میں زید جب تشہد میں امام کے ساتھ شامل ہو گیا تو امام کی متابعت میں اس پر تشہد پڑھنا واجب ہو گیا تھا، پھر جب زید تشہد مکمل کیے بغیر کھڑا ہو گیا اور بغیر تشہد مکمل کیے ہی اس نے نماز مکمل کر دی تو ایسی صورت میں اس کا واجب چھوٹ گیا اور یہ واجب قصدا چھوڑنا ہوا گو بوجہ جہالت ہی چھوڑا، لہذا اس صورت میں اس کی نماز مکروہ تحریمی ہوئی اور مکروہ تحریمی نماز کا اعادہ کرنا واجب ہوتا ہے۔
اس کی وضاحت یہ ہے کہ:
در مختار میں یہ مسئلہ بیان ہوا کہ امام نے مقتدی کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے سلام پھیر دیا، یا تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو مقتدی پر تشہد کو پورا کرنا واجب ہے اور اگر اس نے پورا نہ کیا تو نماز جائز ہے۔
اس پر علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ یہاں جائز سے مراد یہ ہے کہ نماز درست ہے لیکن مکروہ تحریمی بھی ہوگی۔
اور علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ یہ اپنے اطلاق کی وجہ سے اس صورت کو بھی شامل ہوگا جب کوئی شخص شامل ہی تشہد میں ہوا اور پھر اس کے تشہد مکمل کرنے سے پہلے امام نے سلام پھیر دیا، یا تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا، لہذا اس صورت میں بھی وہ تشہد پورا کر کے کھڑا ہوگا لیکن تشہد پورا نہیں کیا تو نماز ہو جائے گی۔
پس جب یہ صورت بھی پہلی مطلق صورت میں شامل ہے تو یہاں بھی ہو جانے سے مراد یہ ہوگا کہ نماز درست ہو جائے گی لیکن مکروہ تحریمی ہوگی۔
در مختار میں ہے "(لو رفع الإمام رأسه) من الركوع أو السجود (قبل أن يتم المأموم التسبيحات) الثلاث (وجب متابعته) ۔۔۔۔ (بخلاف سلامه) أو قيامه لثالثة (قبل تمام المؤتم التشهد) فإنه لا يتابعه بل يتمه لوجوبه، ولو لم يتم جاز" ترجمہ: اگر امام نے مقتدی کے تین تسبیحات پورا کرنے سے پہلے ہی رکوع یا سجود سے اپنا سر اٹھا لیا تو امام کی پیروی واجب ہے برخلاف اس کے کہ جب مقتدی کے تشہد پورا کرنے سے پہلے امام سلام پھیر دے یا تیسری کے لیے کھڑا ہو جائے تو اس صورت میں مقتدی، امام کی پیروی نہیں کرے گا بلکہ تشہد کو پورا کرے گا کیونکہ وہ واجب ہے اور اگر پورا نہ کیا تو جائز ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے رد المحتارمیں فرمایا: "(قوله فإنه لا يتابعه إلخ) أي ولو خاف أن تفوته الركعة الثالثة مع الإمام كما صرح به في الظهيرية، وشمل بإطلاقه مالو اقتدى به في أثناء التشهد الأول أو الأخير، فحين قعد قام إمامه أو سلم، ومقتضاه أنه يتم التشهد ثم يقوم ولم أره صريحا، ثم رأيته في الذخيرة ناقلا عن أبي الليث: المختار عندي أنه يتم التشهد وإن لم يفعل أجزأه اهـ ولله الحمد (قوله لوجوبه) أي لوجوب التشهد كما في الخانية وغيرها، ومقتضاه سقوط وجوب المتابعة كما سنذكره وإلا لم ينتج المطلوب فافهم (قوله ولو لم يتم جاز) أي صح مع كراهة التحريم كما أفاده ح"
ترجمہ: امام اگر مقتدی کے تشہد پورا کرنے سے پہلے تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو گیا تو مقتدی اس کی پیروی نہیں کرے گا اگرچہ اسے اندیشہ ہو کہ اسے امام کے ساتھ تیسری رکعت کا قیام نہیں ملے گا جیسا کہ ظہیریہ میں اس کی صراحت فرمائی ہے اور یہ اپنے اطلاق کے ساتھ اس صورت کو بھی شامل ہے کہ جس میں مقتدی پہلے یا آخری تشہد کے دوران امام کی اقتداء میں آیا، پس جب وہ بیٹھا تو اس کا امام کھڑا ہو گیا یا اس نے سلام پھیردیا، اور مطلق مسئلے کا مقتضی یہ ہے کہ یہ تشہد پورا کر کے کھڑا ہوگا اور میں نے اس کو صراحتا نہیں دیکھا، پھر میں نے اسے ذخیرہ میں دیکھا، جس میں ابو اللیث سے نقل کیا گیا ہے کہ: میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ وہ تشہد کو پورا کرے گا اور اگر اس نے پورا نہ کیا تو اسے کفایت کر جائے گا۔ اور اس پر اللہ تعالی کا شکر ہے۔ تشہد پورا کرنے کا حکم اس لیے ہے کہ تشہد اس پر واجب ہے جیسا کہ خانیہ وغیرہ میں ہے اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ پیروی کا واجب ساقط ہو جائے گا جیسا کہ عنقریب ہم اسے ذکر کریں گے وگرنہ تو مطلوب حاصل نہیں ہوگا، پس تم سمجھ لو۔ اور شارح نے جو یہ تحریر فرمایا کہ اگر تشہدکو پورا نہ کیا تو نماز جائز ہے تو اس کا مطلب ہے کہ نماز صحیح ہے لیکن مکروہ تحریمی ہے جیسا کہ حلبی نے اس کا افادہ کیا ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلوۃ، ج 02، ص 243، 244، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: ہر وہ نماز جو کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی، اس کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلوۃ، ج 02، ص 182، 183، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10937
تاریخ اجراء: 30 ربیع الاول 1443ھ/06 نومبر 2021ء