logo logo
AI Search

واجب الاعادہ نماز کا وقت گزرنے کے بعد اعادے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

واجب الاعادہ نماز کا وقت گزرنے کے بعد بھی اعادہ واجب ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ واجب الاعادہ نماز کا اعادہ وقت نکل جانے کے بعد بھی واجب ہی رہتا ہے یا مستحب ہو جاتا ہے ؟

جواب

واجب الاعادہ نماز کا اعادہ جس طرح وقت کے اندر واجب ہوتا ہے، اسی طرح جب وقت نکل جائے اور وقت میں اعادہ نہ کیا جائے تو اعادہ تب بھی واجب ہی رہتا ہے، مستحب نہیں ہو جاتا ۔تفصیل اس میں یہ ہے کہ:

اولا صاحب بحر نے قنیہ کی ایک عبارت سے یہ نتیجہ نکالا کہ نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب اگر چھوڑا جائے، یا کسی مکروہ تحریمی کا ارتکاب کیا جائے، تو جب تک وقت باقی ہو تب تک تو اعادہ واجب رہتا ہے، لیکن وقت گزر جانے کے بعد اعادہ مستحب رہ جاتا ہے، اور پھر صاحب در مختار وغیرہ نے صاحب بحر کی اتباع میں یہی حکم بیان فرمایا۔ علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے اس پر تحقیق کرتے ہوئے یہ ثابت فرمایا کہ: صاحب بحر نے قنیہ کی عبارت سے جو سمجھا کہ وقت کے بعد اعادہ مستحب رہ جاتا ہے، اس پر کوئی دلیل نہیں ہے، بلکہ اس معاملے میں دو قول ہیں: ایک یہ کہ وقت کے اندر اور وقت کے بعد دونوں صورتوں میں اعادہ مستحب ہے، اور یہ مرجوح قول ہے، اور دوسرا قول یہ ہے کہ وقت کے اندر اور وقت کے بعد دونوں صورتوں میں اعادہ واجب ہے اور یہی راجح ہے۔

بحر الرائق میں ہے "وفي القنية ما يفيد التقييد بالوقت فإنه قال إذا لم يتم ركوعه ولا سجوده يؤمر بالإعادة في الوقت لا بعده ثم رقم رقما آخر أن الإعادة اولى في الحالتين اهـ.فعلى القولين لا وجوب بعد الوقت فالحاصل أن من ترك واجبا من واجباتها أو ارتكب مكروها تحريميا لزمه وجوبا أن يعيد في الوقت فإن خرج الوقت بلا إعادة أثم ولا يجب جبر النقصان بعد الوقت فلو فعل فهو أفضل" ترجمہ: اور قنیہ میں وہ الفاظ ہیں جو اعادے کو وقت کے ساتھ مقید کرنے کا فائدہ دیتے ہیں، کیونکہ صاحب قنیہ نے بیان کیا ہے کہ: جب نمازی نہ اپنے رکوع کو پورا کرے اور نہ اپنے سجود کو تو اسے وقت میں اعادہ کا حکم دیا جائے گا نہ کہ اس کے بعد پھر صاحب قنیہ نے ایک اور نمبر دے کر لکھا کہ دونوں صورتوں میں اعادہ بہترہے۔ (قنیہ کی عبارت مکمل ہوئی۔) پس دونوں قولوں پر وقت کے بعد کوئی وجوب نہیں ہے، پس حاصل یہ ہے کہ جس نے نماز کے واجبات میں سے کوئی واجب چھوڑ دیا یا کسی مکروہ تحریمی کا ارتکاب کیا تو اس پر واجب و لازم ہے کہ اسی وقت میں اس کا اعادہ کرے پس اگر بغیر اعادہ کیے وقت نکل گیا تو وہ گنہگار ہوگا اور وقت کے بعد کمی کا پورا کرنا واجب نہیں ہوگا اور اگر وہ وقت کے بعد اعادہ کرلے تو یہ افضل ہے۔ (بحرالرائق، کتاب الصلوۃ، ج 02، ص 142، کوئٹہ)

در مختار میں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تعاد أي وجوبا في الوقت، وأما بعده فندبا" ترجمہ: ہر وہ نماز جسے کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کیا گیا اس کا اعادہ کیا جائے گا یعنی وقت میں وجوبی طور پر اور رہا وقت کے بعد تو مستحب طور پر۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "(قوله أي وجوبا في الوقت إلخ) لم أر من صرح بهذا التفصيل سوى صاحب البحر، حيث استنبطه من كلام القنية، ۔۔۔أقول: ما في القنية مبني على الاختلاف في أن الإعادة واجبة أو لا، وقدمنا عن شرح أصول البزدوي التصريح بأنها إذا كانت لخلل غير الفساد لا تكون واجبة. وعن الميزان التصريح بوجوبها. وقال في المعراج: وفي جامع التمرتاشي لو صلى في ثوب فيه صورة يكره وتجب الإعادة. قال أبو اليسر: هذا هو الحكم في كل صلاة أديت مع الكراهة. وفي المبسوط ما يدل على الأولوية والاستحباب، فإنه ذكر أن القومة غير ركن عندهما فتركها لا يفسد، والأولى الإعادة. اهـ. وقال في شرح التحرير: وهل تكون الإعادة واجبة، فصرح غير واحد من شراح أصول فخر الإسلام بأنها ليست بواجبة. وأنه بالأول يخرج عن العهدة وإن كان على وجه الكراهة على الأصح، وأن الثاني بمنزلة الجبر. والأوجه الوجوب كما أشار إليه في الهداية؛ وصرح به النسفي في شرح المنار، وهو موافق لما عن السرخسي وأبي اليسر: من ترك الاعتدال تلزمه الإعادة. ۔۔۔ وقال شيخنا المصنف: يعني ابن الهمام: لا إشكال في وجوب الإعادة إذ هو الحكم في كل صلاة أديت مع كراهة التحريم، ۔۔۔۔ اهـ. أقول: فتلخص من هذا كله أن الأرجح وجوب الإعادة، وقد علمت أنها عند البعض خاصة بالوقت، وهو ما مشى عليه في التحرير، وعليه فوجوبها في الوقت ولا تسمى بعده إعادة، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الوبري، وأما على القول بأنها تكون في الوقت وبعده كما قدمناه عن شرح التحرير وشرح البزدوي، فإنها تكون واجبة في الوقت وبعده أيضا على القول بوجوبها. وأما على القول باستحبابها الذي هو المرجوح تكون مستحبة فيهما، وعليه يحمل ما مر عن القنية عن الترجماني. وأما كونها واجبة في الوقت مندوبة بعده كما فهمه في البحر وتبعه الشارح فلا دليل عليه. وقد نقل الخير الرملي في حاشية البحر عن خط العلامة المقدسي أن ما ذكره في البحر يجب أن لا يعتمد عليه لإطلاق قولهم: كل صلاة أديت مع الكراهة سبيلها الإعادة. اهـ. قلت: أي لأنه يشمل وجوبها في الوقت وبعده: أي بناء على أن الإعادة لا تختص بالوقت. وظاهر ما قدمناه عن شرح التحرير ترجيحه، وقد علمت أيضا ترجيح القول بالوجوب فيكون المرجح وجوب الإعادة في الوقت وبعده، ويشير إليه ما قدمناه عن الميزان من قوله يجب عليه الإعادة وهو إتيان مثل الأول ذاتا مع صفة الكمال: أي كمال ما نقصه منها، وذلك يعم وجوب الإتيان بها كاملة في الوقت وبعده كما مر"

ترجمہ:میں نے صاحب بحرکے سوا کسی کو نہیں دیکھا کہ اس نے اس تفصیل کی صراحت کی ہو، اور صاحب بحر نے قنیہ کے کلام سے اس کا استنباط کیا ہے ۔۔۔میں کہتا ہوں: قنیہ میں جو کچھ ہے، وہ اعادہ واجب ہونے، نہ ہونے کے متعلق اختلاف پر مبنی ہے اور ہم شرح اصول بزدوی کے حوالے سے پیچھے تصریح کرچکے کہ اعادہ جب فساد کے علاوہ کسی اور خلل کی وجہ سے ہو تو واجب نہیں ہوگا اور میزان سے اس کے واجب ہونے کی تصریح ذکر کرچکے۔ اور معراج میں فرمایا: اور جامع التمرتاشی میں ہے: اگر کسی نے تصویر والے کپڑے میں نماز ادا کی تو مکروہ ہے اور اس کا اعادہ واجب ہے۔ ابو الیسر نے کہا: یہی حکم ہر اس نماز کاہے، جسے کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کیا گیا۔ اور مبسوط میں وہ کلام ہے جو اعادے کے بہتر اور مستحب ہونے پر دلالت کرتا ہے کہ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ صاحبین کے نزدیک قومہ رکن نہیں ہے تو اس کے ترک کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی اور اعادہ بہتر ہے۔ (مبسوط کا کلام ختم ہوا) اور تحریر کی شرح میں فرمایا: اور کیا اعادہ واجب ہوگا؟ تو اصول فخر الاسلام کے کئی ایک شارحین نے صراحت کی ہے کہ واجب نہیں ہے اور یہ کہ وہ پہلی ادائیگی سے ہی بری الذمہ ہو جائے گا اگرچہ بروجہ کراہت ادائیگی کی گئی، یہی اصح ہے۔ اور یہ کہ دوسری ادائیگی کمی پوری کرنے کے قائم مقام ہے اور اوجہ یہ ہے کہ اعادہ واجب ہے جیسا کہ ہدایہ میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے، اور علامہ نسفی نے شرح المنار میں اس کی تصریح کی ہے اور یہ اس کے موافق ہے جو سرخسی اور ابو الیسر سے مروی ہے کہ جس نے تعدیل ارکان کو ترک کیا تو اس پر اعادہ لازم ہوگا۔ اور ہمارے شیخ مصنف یعنی ابن ہمام نے فرمایا: اعادہ کے واجب ہونے میں کوئی اشکال نہیں کیونکہ ہر وہ نماز جسے مکروہ تحریمی کے ساتھ ادا کیا گیا اس کا یہی حکم ہے۔ میں کہتا ہوں: پس اس سارے کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ: زیادہ راجح اعادہ کا واجب ہونا ہے اور آپ کو یہ معلوم ہو چکا کہ یہ بعض کے نزدیک وقت کے ساتھ خاص ہے اور اسی کو تحریر میں اختیار کیا ہے اور اسی قول کے مطابق اس کا وجوب وقت میں ہے اور وقت کے بعد ادائیگی کو اعادہ نہیں کہا جائے گا اور اسی پر اسے محمول کیا جائے گا جو قنیہ سے وبری کے حوالے سے گزرا اور بہرحال اس قول پر کہ وقت اور بعد وقت دونوں صورتوں میں اعادہ ہوگا جیسا کہ اسے تحریر کی شرح اور بزدوی کی شرح کے حوالے سے پیچھے ذکر کیا ہے تو وقت اور بعد وقت دونوں صورتوں میں اعادہ واجب ہوگا وجوب والے قول پر اور رہا استحباب والے قول کے مطابق جو کہ مرجوح ہے تو وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اعادہ مستحب ہے اور اسی پر محمول ہوگا وہ جو قنیہ سے ترجمانی کے حوالے سے گزرا اور رہا اعادہ کا وقت میں واجب ہونا اور وقت کے بعد مستحب ہونا جیسا کہ اسے بحر میں سمجھا اور شارح نے اس کی پیروی کی تو اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ اور خیر رملی نے حاشیہ بحر میں علامہ مقدسی کے خط سے یہ نقل کیا ہے کہ جسے بحر میں ذکر کیا ہے، واجب ہے کہ اس پر اعتماد نہ کیا جائے فقہاء کے اس قول کے مطلق ہونے کی وجہ سے کہ: ہر وہ نماز جسے کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کیا گیا اس کا اعادہ کیا جائے گا۔ (علامہ رملی کی بات مکمل ہوئی۔) میں کہتا ہوں: یہ اس وجہ سے کہ یہ وقت و بعد وقت دونوں صورتوں میں اعادہ کے واجب ہونے کو عام ہے یعنی اس بناء پر کہ اعادہ وقت کے ساتھ خاص نہیں ہوتا اور جو ہم نے تحریر کی شرح کے حوالے سے پیچھے ذکر کیا ہے اس کا ظاہر اس کی ترجیح ہے اور وجوب کے قول کی ترجیح بھی آپ کو معلوم ہو چکی۔ پس ترجیح شدہ یہی ہے کہ وقت اور بعد وقت دونوں میں اعادہ واجب ہے اور اس کی طرف وہ اشارہ کرتا ہے جسے ہم نے میزان کے حوالے سے پیچھے ذکر کیا ہے یعنی ان کا یہ قول کہ اس پر اعادہ واجب ہے اور اعادہ کا مطلب ہے: جو ذات کے اعتبار سے پہلے کی مثلہو، اسے صفت کمال کے ساتھ ادا کرنا یعنی جو اس میں سے کمی رہ گئی، اس کے کمال کے ساتھ اور یہ وقت کے اندر اور وقت کے بعد کامل طور پر اسے ادا کرنے کو عام ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، باب قضاء الفوائت، ج 02، ص 629، 630، کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے "قيد في البحر في باب قضاء الفوائت وجوب الإعادة في أداء الصلاة مع كراهة التحريم بما قبل خروج الوقت، أما بعده فتستحب، وسيأتي الكلام فيه هناك إن شاء اللہ تعالى مع بيان الاختلاف في وجوب الإعادة وعدمه، وترجيح القول بالوجوب في الوقت وبعده" ترجمہ: بحر الرائق میں باب قضاء الفوائت میں مکروہ تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے اعادے کے واجب ہونے کو وقت نکلنے سے پہلے کے ساتھ مقید کیا ہے، رہا وقت کے بعد تو اعادہ مستحب ہے اور اس کے متعلق اسی باب میں ان شاء اللہ عزوجل کلام آئے گا ساتھ میں اعادہ کے واجب ہونے اور واجب نہ ہونے کے بارے میں اختلاف بھی بیان ہوگا اور اسی وقت میں اور وقت نکلنے کے بعد وجوب کے قول کی ترجیح بھی بیان کی جائے گی۔ (رد المحتار مع الدر المختار، واجبات الصلوۃ، ج 2، ص 183، کوئٹہ)

در مختار میں سجود سہو ساقط ہونے کی مختلف مثالیں بیان فرمائی گئی ہیں، اپنے اختیار سے ساقط ہونے والی جیسے عمدا حدث کرنا اور اپنے اختیار کے بغیر ساقط ہونے والی جیسے وقت کا نکل جانا وغیرہ۔

اس پر علامہ شامی علیہ الرحمۃ نے فتاوی شامی میں فرمایا: "اگر اپنے اختیار سے سجدہ سہو ساقط ہوا تو اس نماز کا اعادہ لازم ہوگا جیسے عمدا حدث کیا اور اگر اپنے اختیار سے سجدہ سہو ساقط نہ کیا تو اعادہ لازم نہیں"

جبکہ اس پر امام اہلسنت اور علامہ رافعی وغیرہ نے تحریر فرمایا کہ:

"اپنے اختیار سے ساقط نہ ہو تب بھی اعادہ لازم ہے۔" چنانچہ

در مختار میں ہے "فلو طلعت الشمس في الفجر، أو احمرت في القضاء، أو وجد منه ما يقطع البناء بعد السلام سقط عنه فتح." ترجمہ: پس اگر فجر میں سورج نکل آیا یا قضا کرتے ہوئے سورج سرخ ہو گیا یا سلام کے بعد اس سے کوئی ایسی چیز پائی گئی جو بنا کے منافی ہو تو اس سے سجود سہو ساقط ہوجائیں گے۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "إذا سقط السجود فهل يلزمه الإعادة لكون ما أداه أولا وقع ناقصا بلا جابر؟ والذي ينبغي أنه إن سقط بصنعه كحدث عمد مثلا يلزم، وإلا فلا، تأمل" ترجمہ: جب سجود سہو ساقط ہوں گے تو کیا اس پر اعادہ لازم ہوگا کیونکہ جسے اس نے ادا کیا ہے، وہ اولا ناقص ادا ہوا ہے اور اس نقصان کو پورا کرنے والی کوئی چیز بھی نہیں پائی گئی؟ اور ہونا یہ چاہیے کہ اگر یہ اس کے اختیار سے ساقط ہوئے جیسے مثلا قصدا حدث کیا تو اعادہ لازم ہوگا اور اگر اپنے اختیار سے ساقط نہ کیا تو اعادہ لازم نہیں ہوگا، تم غور کرو۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 02، ص 654، کوئٹہ)

اس کے تحت جد الممتار میں ہے "أقول: والذي يظهر لي لزوم الإعادة مطلقا؛ لأن الصلاة وقعت ناقصة، وقد وجب عليه إكمالها، وكانت إليه سبيلان: متصل بالسجود ومتراخ بالإعادة، فإن عجز عن أحدهما ولو بلا صنعه فلم يعجز عن الأخرى، وسيأثر العلامة المحشي عن "النهر"، ويقره أن المقتدي إذا سها دون إمامه فإنه لا يسجد، (ومقتضى كلامهم أن يعيد لتمكن الكراهة مع تعذر الجابر) اهـ. فإن هذا التعذر أيضا بغير صنعه وهو وإن كان ثم سهوا من "النهر" والمحشي كما سيأتي هنا، لكن لا شك أنه مقتضى كلامهم هنا، واللہ تعالى أعلم"

ترجمہ: میں کہتاہوں: میرے لیے جو ظاہر ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ مطلقا اعادہ لازم ہے کیونکہ نماز ناقص واقع ہوئی ہے اور اس پر اس کا پورا کرنا واجب ہے اور اس کی دو ہی صورتیں ہیں: ایک متصل کہ سجود سہو کرے اور دوسری تاخیر سے کہ اعادہ کرے پس اگر وہ ان میں سے ایک سے عاجز ہو گیا ہے اگرچہ اپنے اختیار کے بغیر عاجز ہوا تو دوسرے سے تو عاجز نہیں ہوا۔ اور عنقریب علامہ محشی نہرکے حوالے سے نقل کریں گے اور اسے برقرار رکھیں گے کہ مقتدی سے جب سہو ہو، امام سے سہو نہ ہو تو وہ سجدہ نہیں کرے گا اور ان کے کلام کا مقتضی یہ ہے کہ لوٹائے گا کیونکہ کراہت ثابت ہو گئی ہے اور ازالہ ممکن نہیں۔ (علامہ شامی کی عبارت ختم ہوئی) پس یہ ازالہ ممکن نہ ہونا بھی اس کے اختیار کے بغیر اور اس مسئلہ میں وہاں پر اگرچہ نہر اور محشی سے سہو ہوا ہے جیسا کہ عنقریب وہاں آئے گا لیکن شک نہیں کہ یہاں فقہاء کے کلام کا مقتضی یہی ہے۔ (جد الممتار، ج 03، ص 524-525، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اور رد المحتار کی عبارت کے تحت حاشیہ رافعی میں ہے "سیاتی لہ عن النھران المقتدی اذاسھا مقتضی کلامھم انہ یعیدھا لثبوت الکراھۃ مع تعذرالجابراھ۔ ومقتضاہ الاعادۃ مطلقا ولو سقط بلا صنعۃ، وھکذا قررہ محمد ھاشم السندی فیما یاتی کما نقلہ العلامۃ السندی عنہ۔"ترجمہ: عنقریب علامہ شامی علیہ الرحمۃ نہرکے حوالے سے نقل کریں گے کہ مقتدی سے جب سہو ہو، امام سے سہو نہ ہو تو ان کے کلام کا مقتضی یہ ہے کہ وہ نماز لوٹائے گا کیونکہ کراہت ثابت ہو گئی ہے اور ازالہ ممکن نہیں۔ (علامہ شامی کی عبارت ختم ہوئی) اور اس کا مقتضی یہ ہے کہ ہماری صورت میں مطلقا اعادہ لازم ہو، اگرچہ اس کے اختیار سے سجود سہو ساقط نہیں ہوئے اور اسی طرح اسے آئندہ آنے والے کلام میں محمد ہاشم سندی نے برقرار رکھا ہے جیساکہ علامہ سندی نے ان کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ (تقریرات الرافعی علی ھامش رد المحتار، ج 02، ص 654، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "فاسق کے پیچھے نماز مکروہ تحریمی اور اسے امام بنانا گناہ، اور جو نمازیں اس کے پیچھے پڑھی ہوں ان کا پھیرنا واجب" (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 537، رضا فاونڈیشن، لاہور)

اس فتوے میں امام اہلسنت علیہ الرحمۃ نے فاسق کے پیچھے ادا کی گئیں ساری نمازوں کے اعادے کو واجب قرار دیا ہے، جو اس بات کی واضح دلیل ہے کہ جو نماز واجب الاعادہ ہو، وہ وقت کے بعد بھی واجب الاعادہ ہی رہتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: محمد عرفان مدنی

مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری

فتوی نمبر: Lar-10907

تاریخ اجراء: 05 ربیع الاول 1443ھ/12 اکتوبر 2021ء