جمعہ کا ایک خطبہ پڑھنے سے نماز ہو جائیگی؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جمعہ کا صرف ایک خطبہ پڑھا تو کیا جمعہ کی نماز ہو جائے گی؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جمعہ کے دو خطبے سنتِ متوارثہ ہیں، حضور اکرم صلی اللہ تعالی علیہ و الہ و سلم کا مبارک عمل یہی تھا اور امتِ مسلمہ کا آغاز سے لے کر اب تک یہی طریقہ رہا ہے۔ لہٰذا جمعہ کے دو خطبوں میں سے ایک خطبہ چھوڑ دینا ،خلافِ سنت اور مکروہ (یعنی ناپسندیدہ عمل) ہے، البتہ! اس صورت میں نماز جمعہ ہوجائے گی۔
صحیح مسلم شریف میں ہے”عن جابر بن سمرة، قال: كانت للنبي صلى اللہ عليه و سلم خطبتان يجلس بينهما“ ترجمہ: حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم دو خطبے ارشاد فرماتے تھے، جن کے درمیان کچھ دیر بیٹھتے تھے۔ (صحیح مسلم، باب ذکر الخطبتین، ص 308، رقم الحدیث 862، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے ”(و) يسن (خطبتان) للتوارث إلى وقتنا ۔ ۔ ۔ (و يكره التطويل ۔ ۔ ۔ و ترك شيء من السنن) التي بيناها“ ترجمہ: (جمعہ میں) دو خطبے دینا سنت ہے، اس توارث (تواتر) کی وجہ سے، جو ہمارے زمانے تک چلا آ رہا ہے، اور جو سنتیں ہم نے بیان کی ہیں، ان سنتوں میں سے کسی کو چھوڑنا مکروہ ہے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، صفحہ 267،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
ہدایہ میں ہے ”و يخطب خطبتين يفصل بينهما بقعدة و به جرى التوارث“ ترجمہ: خطیب دو خطبے دے گا، جن کے درمیان بیٹھ کر فاصلہ کرے گا، اور اسی پر (امت کا) توارث چلا آ رہا ہے۔
اس کے تحت بنایہ شرح ہدایہ میں ہے ”يعني هكذا فعل النبي صلی اللہ علیہ وسلم والأئمة من بعده إلى يومنا هذا ۔ ۔ ۔ ثم الخطبة الواحدة تجوز عندنا“ ترجمہ: یعنی اسی طرح نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے عمل فرمایاہے اور آپ علیہ الصلوۃ و السلام کے بعد آج کے دور تک کے ائمہ نے عمل فرمایا ہے اور (اس کے باوجود) ایک خطبہ دینا بھی کافی ہے۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ، جلد 3، صفحہ 55، دار الكتب العلمية، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5315
تاریخ اجراء: 06 ربیع الاول 1448ھ / 20 اگست 2026ء