logo logo
AI Search

نماز کی شرائط کتنی ہیں؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز کی شرائط کے متعلق وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

نماز کی چھ(6) شرائط ہیں، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

(1) طہارت: یعنی نمازی کے بدن کا حدث اصغرو اکبر (بے وضوئی اور جنابت) سے اوربقدرمانع نجاست حقیقیہ سے پاک ہونا، نیز اس کے کپڑے اور نماز کی جگہ کا بقدر مانع نجاست حقیقیہ سے پاک ہونا۔ (2) سِتر عورت: یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا ضروری ہے، اس کا نماز میں بقدر مانع کھلا نہ ہونا۔ اگر اعضاے سترمیں سے کسی عضو کا چوتھائی حصہ کھلا ہوا تھا، اسی حالت میں نماز شروع کی، تو نماز ہی شروع نہیں ہوگی، اور اگر نماز کے دوران چوتھائی حصہ ظاہر ہوا، تو اگر قصدا ظاہر کیا، تو نماز فاسد ہوگئی، اور اگر قصدا ظاہر نہیں کیا، تو اگر فورا چھپا لیا تو ٹھیک اور اگر اتنی دیر کھلا رہا کہ ایک کامل رکن ادا کرلیا، یا تین بار سبحان اللہ کہنے کی مقدار کھلا رہا، تو نماز فاسد ہوگئی۔ نیز اگر چند اعضا میں کچھ کچھ کھلا رہا کہ ہر ایک اس عضو کی چوتھائی سے کم ہے، مگر مجموعہ ان کا اُن کھلے ہوئے اعضا میں جو سب سے چھوٹا ہے، اس کی چوتھائی کی برابر ہے، نماز نہ ہوئی۔(3) استقبالِ قبلہ:یعنی نماز میں قبلہ کی طرف منہ کرنا۔ (4)وقت (5)نیت (6)تکبیرِ تَحریمہ۔

نماز کی شرائط بیان کرتے ہوئے فتاوی عالمگیری میں ہے "شروط الصلاة و هي۔ ۔ ۔ الطهارة۔ ۔ ۔ و ستر العورة و استقبال القبلة و الوقت و النية و التحريمة" ترجمہ: نماز کی شرائط یہ ہیں: (1) طہارت، اور (2) ستر عورت، اور (3) استقبال قبلہ، اور (4) وقت، اور (5) نیت، اور (6) تکبیر تحریمہ۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 58، مطبوعہ: کوئٹہ)

نماز کی شرائط کے متعلق بہار شریعت میں ہے صحتِ نماز کی چھ شرطیں ہیں: (1) طہارت۔ (2) ستر عورت۔ (3) استقبال قبلہ۔ (4) وقت۔ (5) نیت۔ (6) تحریمہ۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 475، 476، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

ان کی تفصیل بیان کرتے ہوئے صدرالشریعہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: طہارت: یعنی مصلّی کے بدن کا حدث اکبر و اصغر اور نجاست حقیقیہ قدر مانع سے پاک ہونا، نیز اس کے کپڑے اور اس جگہ کا جس پر نماز پڑھے، نجاست حقیقیہ قدر مانع سے پاک ہونا ۔ ۔ ۔ ستر عورت: یعنی بدن کا وہ حصہ جس کا چھپانا فرض ہے، اس کو چھپانا۔ ۔ ۔ ۔ جن اعضا کا ستر فرض ہے، ان میں کوئی عضو چوتھائی سے کم کھل گیا، نماز ہوگئی اور اگر چوتھائی عضو کھل گیا اور فوراً چھپا لیا، جب بھی ہوگئی اور اگر بقدر ایک رکن یعنی تین مرتبہ سبحان اللہ کہنے کے کھلا رہا یا بالقصد کھولا، اگرچہ فوراً چھپا لیا، نماز جاتی رہی۔ اگر نماز شروع کرتے وقت عضو کی چوتھائی کھلی ہے، یعنی اسی حالت پر اللہ اکبر کہہ لیا، تو نماز منعقد ہی نہ ہوئی۔ اگر چند اعضا میں کچھ کچھ کھلا رہا کہ ہر ایک اس عضو کی چوتھائی سے کم ہے، مگر مجموعہ ان کا اُن کھلے ہوئے اعضا میں جو سب سے چھوٹا ہے، اس کی چوتھائی کی برابر ہے، نماز نہ ہوئی، مثلاً عورت کے کان کا نواں حصہ اور پنڈلی کا نواں حصہ کھلا رہا تو مجموعہ دونوں کا کان کی چوتھائی کی قدر ضرور ہے، نماز جاتی رہی۔ ۔ ۔ استقبال قبلہ: یعنی نما زمیں قبلہ یعنی کعبہ کی طرف مونھ کرنا۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 476 تا 486، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5280
تاریخ اجراء: 23 صفر المظفر 1448ھ / 07 اگست 2026ء