گردن اور کمر درد کیوجہ سے کرسی پر نماز پڑھنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
سروائیکل (گردن کمر میں) درد کی وجہ سے کرسی پر نماز پڑھنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
شرعی لحاظ سے جب تک زمین پر یا سطح زمین سے نو انچ تک اونچی کسی تختی وغیرہ پر سجدہ کرنے کی قدرت ہو، تو سجدہ کرنا ہی فرض ہے، بلا عذرِ شرعی اس کا ترک جائز نہیں۔ پھر اگر بیماری کی حالت میں سجدہ کرنے سے معمولی درد کا اضافہ ہوتا ہے، کہ جسے برداشت کیا جا سکتا ہو، تو ایسی صورت حال میں سجدہ ترک کرنا شرعا جائز نہیں، لہذا ایسی صورت میں کرسی پر نماز پڑھنا جائز نہیں ہو گا, لیکن اگر ایسی صورت حال ہو کہ مذکور طور پر سجدہ کرنے سےدرد کی شدت ناقابلِ برداشت ہو، تو ایسی صورت میں سجدہ چھوڑنے کی اجازت ہو گی، اور اب آپ کی نماز سر کے اشارے سے اس طرح ہو گی کہ رکوع کے لیے کم اور سجدے کے لیے کچھ زیادہ سر جھکائیں گی۔ پھر اس میں بھی بہتر یہ ہے کہ زمین میں بیٹھ کر اشارے سے نماز پڑھیں، تاہم! کرسی پر بھی پڑھی، تو نماز ہو جائے گی۔
حدیث پاک میں ہےکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: صل قائما، فإن لم تستطع فقاعدا، فإن لم تستطع فعلى جنب“ ترجمہ: نماز کھڑے ہو کر پڑھو، پس اگر اسکی استطاعت نہ ہو تو بیٹھ کر پڑھو اور اگر اسکی بھی استطاعت نہ ہو تو لیٹ کر پڑھو۔ (صحيح البخاري، ص 209، رقم الحدیث 1117،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے "فإن كان عجزه عنه بسبب المرض بأن كان مريضا لا يقدر على القيام و الركوع و السجود - يسقط عنه؛ لأن العاجز عن الفعل لا يكلف به، و كذا إذا خاف زيادة العلة من ذلك؛ لأنه يتضرر به و فيه أيضا حرج۔ ۔ ۔ فإن عجز عن الركوع و السجود يصلي قاعدا بالإيماء، و يجعل السجود أخفض من الركوع"ترجمہ: اگر یہ عجزبیماری کی وجہ سے ہو، اس طو پہ کہ اتنابیمار ہو کہ قیام، رکوع اور سجدے پر قادر نہ ہو، تو اس سے یہ افعال ساقط ہو جائیں گے؛ کیونکہ کسی کام سے عاجزشخص کو اس کام کا مکلف نہیں بنایا جاتا۔ اسی طرح اگر کھڑے ہونے، رکوع یا سجدے کی وجہ سے بیماری کے مزید بڑھ جانے کا اندیشہ ہو، (تب بھی یہ افعال ساقط ہو جائیں گے)؛ کیونکہ اس سےمریض کو ضرر ہو گااور اس میں حرج بھی ہے۔ پس اگر وہ رکوع و سجود سے عاجز ہو تو بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کرے، اور سجدے کا اشارہ رکوع کے اشارے سے پست رکھے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 284، مطبوعہ: کوئٹہ)
غنیۃالمتملی میں ہے "ان عجز المريض عن القيام عجزا حقيقيا او حكميا كما اذا قدر حقيقة لكن يخاف بسببه زيادة مرض او بطوءبرء او يجد الما شديدا يصلي قاعدا يركع و يسجد" ترجمہ: اگر مریض قیام سے عاجز ہو، چاہے عجز حقیقی ہو یا حکمی، جیسے جب وہ حقیقتاً تو قادر ہو لیکن کھڑے ہونے سے مرض بڑھ جانے یا صحت یابی میں تاخیر ہونے کا اندیشہ ہو یا شدید تکلیف محسوس ہو تو بیٹھ کر رکوع و سجودکے ساتھ نماز ادا کرے۔ (غنیۃ المتملی، صفحہ 229، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے کھڑے ہونے سے محض کچھ تکلیف ہونا عذر نہیں، بلکہ قیام اس وقت ساقط ہوگا کہ کھڑا نہ ہو سکے یا سجدہ نہ کر سکے یا کھڑے ہونے یا سجدہ کرنے میں زخم بہتا ہے یا کھڑے ہونے میں قطرہ آتا ہے یا چوتھائی ستر کھلتا ہے یا قراء ت سے مجبور محض ہو جاتا ہے۔ یوہیں کھڑا ہو تو سکتا ہے مگر اس سے مرض میں زیادتی ہوتی ہے یا دیر میں اچھا ہوگا یا ناقابلِ برداشت تکلیف ہوگی، تو بیٹھ کر پڑھے۔ (بہار شریعت، ج 1، حصہ 3، ص 511، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
نوٹ: ان جزئیات سے معلوم ہوا کہ کوئی رکن ساقط ہونے میں شدید، ناقابل برداشت تکلیف کالحاظ ہے، معمولی تکلیف کا اعتبار نہیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5279
تاریخ اجراء: 23 صفر المظفر 1448ھ / 07 اگست 2026ء