نماز وتر بیٹھ کر پڑھنے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسئلہ معلوم نہ ہونے کی بنا پر وتر بیٹھ کر پڑھے تو کیا حکم ہے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مجھے ایک مسئلے کے بارے میں بہت پریشانی ہو رہی ہے۔ میں تقریباً دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے وتر پڑھتی رہی ہوں، لیکن مجھے کل معلوم ہوا کہ صحت مند شخص کے لیے وتر بیٹھ کر پڑھنے کا کیا حکم ہے۔ میرا طریقہ یہ تھا کہ میں تین رکعت وتر پڑھتی تھی۔ تینوں رکعتیں بیٹھ کر پڑھتی تھی، دوسری رکعت کے بعد قعدہ کرتی تھی، اور تیسری رکعت میں قیام کی جگہ بیٹھ کر دعائے قنوت پڑھتی تھی۔ کبھی ایسا بھی ہوا کہ پہلی رکعت کھڑے ہو کر شروع کی اور پھر بیٹھ گئی۔ مجھے اس مسئلے کا بالکل علم نہیں تھا، میں صرف یہ سمجھ کر وتر پڑھتی رہی کہ میرا طریقہ درست ہے۔ براہِ کرم یہ بتا دیں کہ کیا میرے پچھلے وتر صحیح شمار ہو سکتے ہیں؟ کیا مجھے ان سب کی قضا کرنی ہوگی، یا میری سابقہ نمازوں کے صحیح ہونے کی کوئی گنجائش موجود ہے؟
جواب
فرض و وتر و عیدین و سنت فجر میں قیام فرض ہے، بغیر صحیح عذر کے یہ نمازیں بیٹھ کر پڑھنے سے ادا نہ ہوں گی۔ لہذا صورت مسئولہ میں جب آپ کھڑے ہو کر نماز وتر پڑھ سکتی تھیں، تو بلاعذر بیٹھ کر پڑھنے سے اس مذکورہ عرصے کی وترکی نمازیں نہیں ہوئیں۔ لہذا آپ پر اتنے عرصے کے ہر دن کےصرف تین رکعت نماز وتر کی قضا کرنی لازم ہے۔ نیز اس گناہ سے توبہ بھی کریں۔
بقیہ آپ کا یہ عذر پیش کرنا کہ مجھے معلوم نہیں تھا، شرعاً اس کا اعتبار نہیں ہے؛ کیونکہ نماز کے فرائض واجبات کا علم حاصل کرنا آپ پر لازم تھا، تو اسے نہ سیکھنا بھی ایک گناہ ہے، جس سے توبہ کرنا لازم ہے۔
منیہ کی شرح حلبی کبیر میں عُمْدَۃُ الْمَحَقِّقِین علاّمہ ابراہیم حلبی عَلَیْہِ الرَّحْمَۃ فرماتے ہیں: ”(و الثانیۃ) من الفرائض (القیام و لو صلی الفریضۃ قاعدًا مع القدرۃ علی القیام لا تجوز) صلٰوتہ“ ترجمہ: دوسرا فر ض قیام ہے، تو اگر فرض نماز قیام پر قادر ہونے کے باوجود بیٹھ کر پڑھی تو اس کی نماز جائز نہیں ہوگی۔ (حلبی کبیر، فرائض الصلاۃ، صفحہ 229، مطبوعہ:کوئٹہ)
فتاوی عالمگیری میں ہے ”(منھا القیام) وھو فرض فی صلاۃ الفرض و الوتر“ ترجمہ: نماز کے فرائض میں سے ایک فرض قیام ہے اور وہ فرض نماز اور وتر میں فرض ہے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 69، مطبوعہ: کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5312
تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ/18 اگست 2026ء