logo logo
AI Search

سنتوں میں قراءت سے پہلے سبحان اللہ کہنے پر نماز کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سنتوں کی آخری دو رکعتوں میں قراءت سے پہلے سبحان اللہ کہنے سے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں جب چار رکعتی سنتیں ادا کرتا ہوں، تو بعض اوقات سنتوں کی تیسری یا چوتھی رکعت کو فرض کی تیسری اور چوتھی رکعت سمجھ کر تین مرتبہ سبحان اللہ کہہ کر رکوع میں جانے لگتا ہوں، تو فوراً قیام میں ہی مجھے یاد آجاتا ہے کہ میں نے تو قراءت کرنی ہے، پھر سورت فاتحہ اور سورت ملا کر رکوع کر لیتا ہوں، تو اس صورت میں میری سنتوں کے متعلق کیا حکم ہو گا؟ کیا تین مرتبہ تسبیحات کہنے سے قراءت میں تاخیر ہونے کے سبب سجدہ سہو واجب ہو جائے گا؟ اور نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی یا نہیں؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ کی سنتیں ادا ہو جائیں گی، قراءت سے پہلے تین بار تسبیحات کہنے کی وجہ سے آپ پر سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا اور نہ ہی نماز کو دوبارہ پڑھنا لازم ہو گا۔ اس مسئلے کی تفصیل جاننے سے پہلے دو تین اصول سمجھ لیجئے کہ (1) سجدہ سہو تب لازم ہوتا ہے، جب بھولے سے کوئی واجب چھوٹ جائے۔ (2) فرائض کی پہلی دو رکعتوں اور سنن و نوافل اور وتر کی ہر رکعت میں قراءت (سورت فاتحہ پڑھنا اور سورت وغیرہ ملانا) واجب ہے، لیکن اس قراءت کا قیام کے ساتھ متصل ہونا یعنی قیام کے لئے کھڑے ہوتے ہی قراءت شروع کر دینا واجب نہیں ہے۔ (3) نماز کی تمام رکعتوں کا قیام ثناء کا محل (یعنی اللہ تعالیٰ کی تعریف و حمد کی جگہ) ہے۔ اب ان اصولوں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے، تو واضح ہوتا ہے کہ اگر کسی نے سنتوں کی تیسری یا چوتھی رکعت کی ابتداء سبحان اللہ سے کی اور اس کے بعد واجب قراءت کر لی، تو اس نے کوئی واجب ترک نہیں کیا، کیونکہ سبحان اللہ یہ کلمات اللہ عزوجل کی حمد و ثناء پر مشتمل ہیں اور ہم جان چکے کہ نماز کی تمام رکعتوں کا قیام ثناء کا محل ہے، تو اس نے کلماتِ ثناء اپنی جگہ پر ادا کیے، پھر قراءت شروع کرنے میں تین بار تسبیحات پڑھنے کی وجہ سے جو تاخیر ہوئی، یہ بھی ترکِ واجب نہیں، کیونکہ قراءت کا قیام کے متصل ہونا شرعاً واجب نہیں ہے، لہذا آپ کا سنتوں کی تیسری یا چوتھی رکعت میں سورت فاتحہ سے پہلے تین بار سبحان اللہ کہنے سے سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا۔

بھولے سے واجب چھوڑنے پر سجدہ سہو لازم ہوتا ہے۔ چنانچہ تبیین الحقائق میں ہے: ’’(یجب بعد السلام سجدتان بتشھد وتسلیم بترک واجب وان تکرر)۔۔ واکثرھم علی انہ یجب بترک واجب او تغییرہ او تاخیر رکن او تقدیمہ او تکرارہ،۔۔ والصحیح انہ یجب بترک الواجب لا غیر،۔۔ لان فی التقدیم والتاخیر والتغییر ترک الواجب‘‘ ترجمہ: (بھول کر) واجب چھوڑنے سے سجدہ سہو واجب ہو جائے گا، اگرچہ واجب کئی مرتبہ چُھوٹا ہو،۔۔ (سجدہ کب واجب ہو گا؟ اس میں فقہاء کا اختلاف ہے) اکثر فقہاء فرماتے ہیں کہ واجب کے چھوڑنے یا بدلنے یا فرض میں تاخیر کرنے یا پہلے ادا کرلینے یا تکرار کرنے سے سجدہ واجب ہوتا ہے، اور صحیح یہ ہے کہ ترکِ واجب سے ہی لازم ہوتا ہے، اس کے علاوہ سے نہیں اور جو چیزیں بیان کی گئیں کہ پہلے ادا کر لینا یا تاخیر کرنا یا بدل دینا یہ بھی ترکِ واجب ہی ہیں (تو ترکِ واجب ان سب کو شامل ہے)۔ (ملخصاً از تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 191 تا 193، مطبوعہ ملتان)

سنتوں اور نوافل کی تمام رکعتیں قراءت کے معاملے میں فرضوں کی پہلی دو رکعات کی طرح ہیں کہ ان کی ہر رکعت میں قراءت واجب ہے۔ بہار شریعت میں ہے: ’’نماز فرض میں پہلی دو رکعتوں میں قراءت واجب ہے۔() الحمد اور اس کے ساتھ سورت ملانا فرض کی دو پہلی رکعتوں میں اور نفل و وتر کی ہر رکعت میں واجب ہے۔“ (بھار شریعت، حصہ 3، صفحہ 517، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

قیام ثناء اور قراءت کا محل ہے اور سبحان اللہ کے کلماتِ ثناء ہونے میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ فتاوی تاتار خانیہ اور محیط برہانی وغیرہ کتبِ فقہ میں ہے: ’’القیام موضع الثناء والقراءۃ‘‘ ترجمہ: قیام ثناء اور قراءت کا محل ہے۔ (فتاوی تاتار خانیہ، جلد 1، صفحہ 522، مطبوعہ کراچی)

قیام کا قراءت سے متصل ہونا واجب نہیں، لہذا اگر کسی نے سورت فاتحہ سے پہلے کلماتِ ثناء کہہ دیے، تو کسی واجب کا ترک لازم نہیں آئے گا۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ’’لانسلم وجوب القراءۃ متصلۃ بالقیام بل لو بدا بالثناء کالاولی لم یترک واجبا‘‘ ترجمہ: قیام کے ساتھ متصل قراءت کے وجوب کو ہم تسلیم نہیں کرتے، بلکہ اگر کسی نے فرض کی پہلی رکعت کی طرح دوسری رکعت کی ابتداء بھی ثناء سے کر دی، تو کسی واجب کا ترک لازم نہیں آئے گا۔ (جدالممتار، جلد 3، صفحہ 527، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اس مسئلے کی نظیر (مثال) یہ ہے کہ اگر کسی نے فرض کی پہلی یا دوسری رکعت میں سورت فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھ لیا، تو تشہد کے ثناء پر مشتمل ہونے اور قیام کے محلِ ثناء ہونے کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا اور بیان ہو چکا کہ قراءت کے معاملے میں سنن و نوافل کی تمام رکعات فرائض کی پہلی دو رکعتوں کی مثل ہی ہیں۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: ’’لو قرا التشھد فی القیام، ان کان فی الرکعۃ الاولی، لایلزمہ شئ وان کان فی الرکعۃ الثانیۃ، اختلف المشائخ فیہ، الصحیح انہ لایجب کذا فی الظھیریۃ ولو تشھد فی قیامہ قبل قراءۃ الفاتحۃ، فلاسھو علیہ وبعدھا یلزمہ السھو وھو الاصح، لان بعد الفاتحۃ محل قراءۃ السورۃ، فاذا تشھد فیہ، فقد اخر الواجب وقبلھا محل الثناء، کذا فی التبیین ولو تشھد فی الاخریین، لایلزمہ السھو‘‘ ترجمہ: اگر کسی نے فرضوں کی پہلی رکعت کے قیام میں تشہد پڑھ لیا، تو کوئی چیز لازم نہیں ہو گی اور اگر دوسری رکعت میں پڑھا، تو مشائخ کا اس میں اختلاف ہے اور صحیح قول کے مطابق سجدہ لازم نہیں ہو گا، اسی طرح فتاوی ظہیریہ میں ہے اور اگر کسی نے قیام میں سورت فاتحہ سے پہلے تشہد پڑھ لیا، تو اس پر سجدہ سہو نہیں اور فاتحہ کے بعد پڑھے، تو سجدہ سہو لازم ہو گا، یہی اصح ہے، کیونکہ فاتحہ کے بعد قراءت کا محل ہے، تو تشہد پڑھنے کی صورت میں واجب (یعنی فاتحہ کے ساتھ سورت ملانے) میں تاخیر ہوگی اور فاتحہ سے پہلے ثناء کا محل ہے اور دوسری دو رکعتوں میں تشہد پڑھنے کی صورت میں مطلقاً سجدہ سہو لازم نہیں آئے گا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 140، مطبوعہ کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Pin-6709

تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم 1442ھ/01 اپریل 2021ء