logo logo
AI Search

رکوع میں العظیم کی جگہ الکریم پڑھنے کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

رکوع کی تسبیح میں "العظیم " کی جگہ" الکریم" پڑھنے کا شرعی حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ کچھ بزرگ آدمی نماز میں رکوع میں سبحان ربی العظیم صحیح سے نہیں پڑھ سکتے، 'العظیم' کی جگہ 'العزیم' پڑھ لیتے ہیں، تو کیا ہم ان سے کہہ سکتے ہیں کہ وہ اس کی جگہ نماز میں سبحان ربی الکریم پڑھ لیں؟ رہنمائی فرمائیں؟

جواب

نماز کے رکوع میں "العظیم" کی جگہ "العزیم" پڑھنا، نماز کو فاسد کر دیتا ہے، لہذا جو شخص اس کے درست تلفظ پر قادر نہ ہو، اس کو "سبحان ربی الکریم" پڑھنے کا کہا جائے۔رد المحتار میں ہے:"السنة في تسبيح الركوع سبحان ربي العظيم إلا إن كان لا يحسن الظاء فيبدل به الكريم لئلا يجري على لسانه العزيم فتفسد به الصلاة"ترجمہ: رکوع کی تسبیح میں سنت "سبحان ربی العظیم" پڑھنا ہے، لیکن اگر کوئی "ظا" کو اچھی طرح ادا نہ کر پاتا ہو، تو وہ "الکریم" پڑھ لے، تاکہ اس کی زبان پہ "العزیم" جاری نہ ہو، کہ اس سے نماز فاسد ہو جائے گی۔(رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، صفحہ 242، مطبوعہ: کوئٹہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5303

تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ/15 اگست 2026ء