رضاعی بھتیجی سے نکاح جائز ہے یا حرام؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
رضاعی بھتیجی سے نکاح کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیافرماتے ہیں علمائےدین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے کزن نے میری والدہ کا دودھ دو سال کی عمر کے بعد اور اڑھائی سال کی عمر سے پہلے پیا ہے۔ اب اس کی بیٹی جوان ہے۔ کیا ہم اپنے چھوٹے بھائی کا نکاح اس سے کر سکتے ہیں؟
جواب
شرعی طور پر دوسال کے بعد بچے کو دودھ پلانا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر کسی نے اڑھائی سال سے پہلے پہلے دودھ پلا دیا تو اس سے حرمت رضاعت ثابت ہو جاتی ہے۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ کی والدہ کا دو سال کے بعد آپ کے کزن کو دودھ پلانا اگرچہ جائز نہیں تھا۔ لیکن چونکہ وہ اڑھائی سے پہلے پلایا گیا ہے ، جس کی وجہ سے حرمت رضاعت ثابت ہونے کی وجہ سے وہ کزن آپ سب بہن بھائیوں کا رضاعی بھائی ہوگیا۔ اب اس کی بیٹی آپ کی اور آپ کے چھوٹے بھائی کی رضاعی بھتیجی بنے گی۔ جس طرح حقیقی بھتیجی سے نکاح کرنا حرام ہے، اسی طرح رضاعی بھتیجی سے نکاح کرنا بھی حرام ہے۔ کیونکہ جو رشتے نسب سے حرام ہوتے ہیں وہ رضاعت سے بھی حرام ہو جاتے ہیں۔ لہذا صورت مسئولہ میں آپ لوگ اپنے بھائی کا مذکورہ کزن(رضاعی بھائی) کی بیٹی سے نکاح نہیں کر سکتے۔
دودھ پلانے کے متعلق اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے ﴿وَ الْوٰلِدٰتُ یُرْضِعْنَ اَوْلَادَہُنَّ حَوْلَیْنِ کَامِلَیْنِ لِمَنْ اَرَادَ اَنْ یُّتِمَّ الرَّضَاعَۃَ﴾ ترجمہ: اور مائیں دودھ پلائیں اپنے بچوں کوپورے دو برس اس کے لئے جو دودھ کی مدت پوری کرنی چاہئے۔ (پ 2، سورۃ بقرہ، آیت 233)
علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں (و لم یبح الإرضاع بعد مدتہ) لأنہ جزء آدمی و الانتفاع بہ لغیر ضرورۃ حرام علی الصحیح" ترجمہ: مدت رضاعت کے بعد دودھ پلانا جائز نہیں کیونکہ یہ انسان کا جز وہے اور جزوِ انسانی سے بلاضرورت نفع حاصل کرنا حرام ہے صحیح قول کے مطابق۔ (درمختار، کتاب النکاح، باب الرضاع، ج 3، ص 211، دار الفکر، بیروت)
المختارمیں ہے: و حكم الرضاع يثبت بقليله، و كثيره. إذا وجد في مدته، و هي ثلاثون شهرا" یعنی: تھوڑا یازیادہ دودھ پینے سے رضاعت کا حکم ثابت ہوجاتاہےجبکہ وہ مدت رضاعت میں ہو اور وہ مدت تیس ماہ (یعنی اڑھائی سال) ہے۔ (الاختيار لتعليل المختار، ج 3، ص 117، مطبعة الحلبي، القاهرة )
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں بچہ کو دو برس تک دودھ پلایا جائے، اس سے زیادہ کی اجازت نہیں۔ دودھ پینے والا لڑکا ہو یا لڑکی اور یہ جو بعض عوام میں مشہور ہے کہ لڑکی کو دو برس تک اور لڑکے کو ڈھائی برس تک پلا سکتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ یہ حکم دودھ پلانے کا ہے اور نکاح حرام ہونے کے لیے ڈھائی برس کا زمانہ ہے یعنی دو برس کے بعد اگرچہ دودھ پلانا حرام ہے مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلادے گی، حرمت نکاح ثابت ہو جائے گی اور اس کے بعد اگر پیا، تو حرمت نکاح نہیں اگرچہ پلانا جائز نہیں۔ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 7، ص 36، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قرآن پاک میں اللہ عزوجل حرام کردہ عورتوں کے بارے میں ارشادفرماتاہے ﴿حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ اُمَّهَاتُكُمْ وَ بَنَاتُكُمْ وَ اَخَوَاتُكُمْ وَ عَمَّاتُكُمْ وَ خَالَاتُكُمْ وَ بَنَاتُ الْاَخِ وَ بَنَاتُ الْاُخْتِ﴾ ترجمۂ کنزالایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں۔ (پ 4، سورۃ النساء، آیت نمبر 23)
مصنف ابن ابی شیبہ، صحیح مسلم ج 2، ص 1086، ص 1070، سنن ابی داؤد ج 2، ص 221، سنن ابن ماجہ، ج 1، ص 623، مصنف عبد الرزاق ج 7، ص 476، اور دیگر کئی کتب میں الفاظ مختلفہ کے ساتھ حدیث پاک میں ہے: و اللفظ للاول یحرم من الرضاعۃ، ما یحرم من النسب" ترجمہ: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، ج 3، ص 549، مطبوعہ ریاض)
امام بخاری رضی اللہ عنہ نے حضرت سیدتناعائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہاسے روایت کی ہےآپ رضی اللہ عنہاسے حضرت افلح رضی اللہ عنہ نے آنے کی اجازت مانگی توآپ رضی اللہ عنہانے ان کواجازت نہیں دی، توانہوں نے کہاکہ آپ مجھ سے پردہ کرتی ہیں حالانکہ میں توآپ کاچچاہوں، تومیں نے کہاوہ کیسے؟ انہوں نے کہا: أرضعتك امرأة أخي بلبن أخي، فقالت: سألت عن ذلك رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم فقال: صدق أفلح ائذني له"ترجمہ:کہ آپ کومیرے بھائی کی بیوی نے میرے بھائی کے دودھ سے پلایا ہے۔ آپ فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس بارے میں عرض کی۔ توآپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ افلح نے سچ کہا۔ تم اسے اجازت دے دو۔ (بخاری شریف، ج 3، ص 169، دارطوق النجاة، مصر)
ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اس بارے میں عرض کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: انه عمك،فليلج عليك،قالت عائشة:وذلك بعد أن ضرب علينا الحجاب، قالت عائشة: يحرم من الرضاعة مايحرم من الولادة"ترجمہ:بیشک وہ تیراچچاہے پس وہ تیرے پاس آسکتا ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: یہ پردے کے احکام لازم ہونے کے بعدکاواقعہ ہے۔ آپ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں: رضاعت کی وجہ سے وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں۔ (بخاری شریف، ج 7، ص 38،دارطوق النجاة، مصر)
جوہر نیرہ میں ہے: کذلک بنات اخیہ وبنات اختہ من الرضاعۃ ترجمہ:یعنی نسبی کی طرح رضاعی بھائی بہن کی بیٹیاں بھی حرام ہیں۔ (الجوہرۃ النیرہ، کتاب النکاح، جلد 2، صفحہ 68، مطبوعہ ملتان)
امام اہل سنت اعلی حضرت الشاہ احمدرضاخان علیہ رحمۃ اللہ الحنان فرماتے ہیں: بھانجا بھانجی، بھتیجا بھتیجی نسب سے حرام ہیں یا نہیں؟ ضرور ہیں، تو دودھ سے بھی قطعا حرام ہیں، اور شک نہیں کہ اپنی نسبتی ماں کی رضاعی اولاد اپنی بہن بھائی ہے، تو اس اولاد کی نسبتی اولاد اپنے سے یہی رشتے رکھتی ہے، اسے یوں سمجھئے مثلا زید کی ماں ہندہ کا دودھ عمرو نے پیا، تو عمرو اور زید رضاعی بھائی ہوئے، اگر کہے نہ ہوئے تو ہندہ مرضعہ کی بیٹی لیلیٰ بھی عمرو رضیع کی بہن نہ ہوگی کہ جب ہندہ کا بیٹا زید عمرو کا بھائی نہ ہوا، تو ہندہ کی بیٹی لیلیٰ کس رشتہ سے عمرو کی بہن ہوجائے گی حالانکہ وہ بہ نص قطعی قرآن عمرو کی بہن ہے۔ قال اللہ تعالیٰ: ﴿و امھتکم الّتی ارضعنکم واخواتکم من الرضاعۃ﴾اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تمھاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا اور تمھاری رضاعی بہنیں۔ (ت)
وعلٰی ہذا القیاس باقی صورتیں، اور جب مرضعہ کی سب اولاد رضیع کے بہن بھائی ہوگئے تو رضیع کی اولاد اولادمرضعہ کے لیے یقینا اپنے بہن بھائی کی اولاد ہے، اور اپنے بہن بھائی کی اولاد یقینا اجماعا حرام ہے، تو پھوپھی بھتیجے یا چچا بھتیجی یا خالہ بھانجے یاماموں بھانجی کا زنا کیونکر حلال ہوسکتا ہے، و لاحول و لاقوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 491، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11647
تاریخ اجراء: 25 صفر المظفر 1444ھ / 22 ستمبر 2022ء