logo logo
AI Search

سسر کا بیٹے کی مطلقہ یا بیوہ بہو سے نکاح کرنا کیسا ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بہو کی طلاق یا بیٹے کے انتقال کے بعد سسر کا بہو سے نکاح کرنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا سسر اپنی بہو سے نکاح کر سکتا ہے؟ جب کہ بیٹے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہو یا بیٹے کا انتقال ہو گیا ہو، اور ان دونوں صورتوں میں عدت پوری ہو چکی ہو؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں وضاحت فرما دیں۔

جواب

سسر کا اپنی بہو سے نکاح حرام ہے، اگرچہ بیٹے نے اپنی زوجہ کو طلاق دے دی ہو یا اس کا انتقال ہو گیا ہو اور عدت بھی گزر چکی ہو، کیونکہ جب کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرتا ہے تو یہ عورت اس مرد کے والد اور باقی اصول و فروع پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتی ہے۔

قرآن پاک میں اللہ تعالی کا ارشاد پاک ہے: ”حُرِّمَتْ عَلَیْكُمْ اُمَّهٰتُكُمْ وَ بَنٰتُكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ وَ عَمّٰتُكُمْ وَ خٰلٰتُكُمْ وَ بَنٰتُ الْاَخِ وَ بَنٰتُ الْاُخْتِ وَ اُمَّهٰتُكُمُ الّٰتِیْۤ اَرْضَعْنَكُمْ وَ اَخَوٰتُكُمْ مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَ اُمَّهٰتُ نِسَآىٕكُمْ وَ رَبَآىٕبُكُمُ الّٰتِیْ فِیْ حُجُوْرِكُمْ مِّنْ نِّسَآىٕكُمُ الّٰتِیْ دَخَلْتُمْ بِهِنَّ٘-فَاِنْ لَّمْ تَكُوْنُوْا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ٘-وَ حَلَآىٕلُ اَبْنَآىٕكُمُ الَّذِیْنَ مِنْ اَصْلَابِكُمْۙ-وَ اَنْ تَجْمَعُوْا بَیْنَ الْاُخْتَیْنِ اِلَّا مَا قَدْ سَلَفَؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔“ ترجمہ کنز الایمان: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں اور بیٹیاں اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں اور بھتیجیاں اور بھانجیاں اور تمہاری مائیں جنہوں نے دودھ پلایا اور دودھ کی بہنیں اور عورتوں کی مائیں اور ان کی بیٹیاں جو تمہاری گود میں ہیں، اُن بی بیوں سے جن سے تم صحبت کر چکے ہو، تو پھر اگر تم نے ان سے صحبت نہ کی ہو تو ان کی بیٹیوں میں حرج نہیں اور تمہاری نسلی بیٹوں کی بیبییں اور دو بہنیں اکٹھی کرنا، مگر جو ہو گزرا، بے شک اللّٰہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پارہ: 4 سورۃ النسآء: 4، آیت: 23)

فقہ حنفی کی مشہور کتاب کافی میں ہے: ”و إذا وطی الرجل امرأۃ بملک یمین أو نکاح أو فجور یحرم علیہ أمھا وابنتھا وتحرم ھی علی آباء ہ و أبناء ہ“۔ اور اگر کوئی شخص کسی عورت کے ساتھ ملک یمین، نکاح یا گناہ کی وجہ سے وطی کرے تو اس مرد پر موطوءہ عورت کی ماں اور بیٹی حرام ہو جائے گی، اور یہ عورت مرد کے باپ دادا اور بیٹوں پوتوں پر حرام ہو جائے گی۔ (کتاب الکافی مع شرحہ المبسوط کتا ب النکاح ج 4 ص 228، مطبوعہ کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’بیٹا مر جائے، خواہ طلاق دے دے، اس کی زوجہ سے نکاح ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہے ۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 461، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

فقیہ ملت مفتی جلال الدین امجدی علیہ رحمۃ اللہ القوی سے بیٹے کے انتقال کے بعد بہو سے نکاح کرنے کے بارے میں سوال ہوا، تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’بہو کے ساتھ نکاح کرنا قطعی حرام ہے، ہر گز ہر گز جائز نہیں ۔‘‘ (فتاوی فیض الرسول، ج 1، ص 568، مطبوعہ، شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Pin-7524
تاریخ اجراء: 20 جمادی الثانیہ 1444ھ/13 جنوری 2023ء