logo logo
AI Search

حدیث میں آسمان کے دروازے کھلنے کا کیا مطلب ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حدیث میں آسمان کے دروازے کھولے جانے کا ذکر ہے، اس سے کیا مراد ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

احادیثِ مبارکہ میں بعض مقامات پر یہ الفاظ آتے ہیں کہ: "فلاں وقت یا فلاں مہینے میں آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں، یا بعض اعمال کے وقت آسمان کے دروازے کھل جاتے ہیں، اوردعائیں قبول ہوتی ہیں۔" میرا سوال یہ ہے کہ ان احادیث میں مذکور آسمان کے دروازوں سے کیا حقیقی اور واقعی دروازے مراد ہیں، جو آسمان میں موجود ہیں، یا یہ ایک مجازی تعبیر ہے، جس سے رحمتِ الٰہی، قبولیتِ دعا، یا کسی اور معنی کی طرف اشارہ مقصود ہے؟

جواب

احادیثِ مبارکہ سے آسمان کے دروازوں کا وجود،اور بعض مواقع پر اُن کا کھلنا ثابت ہے،لہذا آسمان کےدروازوں کےحقیقی وجود کے انکار کی توگنجائش ہی نہیں۔ البتہ! بعض جگہ آسمان کے دروازوں کے کھلنے سےحقیقی معنی مراد ہوتاہے، یعنی اس صورت میں واقعی آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں، اور بعض جگہ مجازی معنی مراد ہوتا ہے، یعنی اس صورت میں آسمان کے دروازے کھلنا مراد نہیں ہوتا، بلکہ کچھ اور معنی مثلاً دُعا جلد قبول ہونا، اور بارگاہِ الہی تک جلد پہنچنا مراد ہوتا ہے۔ اللہ کریم ارشاد فرماتا ہے: ﴿اِنَّ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا وَ اسْتَكْبَرُوْا عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ اَبْوَابُ السَّمَآءِ وَ لَا یَدْخُلُوْنَ الْجَنَّةَ حَتّٰى یَلِجَ الْجَمَلُ فِیْ سَمِّ الْخِیَاطِؕ- وَ كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُجْرِمِیْنَ﴾ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا اور ان کے مقابلے میں تکبر کیا توان کے لیے آسمان کے دروازے نہ کھولے جائیں گے اور وہ جنت میں داخل نہ ہوں گے حتّٰی کہ سوئی کے سوراخ میں اونٹ داخل ہو جائے اور ہم مجرموں کو ایسا ہی بدلہ دیتے ہیں۔ (پارہ 8، سورہ اعراف، آیت: 40)
اس کے تحت تفسیرِ خازن میں ہے ”يعني لا تفتح لأرواحهم إذا خرجت من أجسادهم و لا يصعد لهم إلى اللہ عز وجل في وقت حياتهم قول و لا عمل لأن أرواحهم و أقوالهم و أعمالهم كلها خبيثة و إنما يصعد إلى اللہ تعالى الكلم الطيب و العمل الصالح يرفعه، قال ابن عباس رضي اللہ عنهما: لا تفتح أبواب السماء لأرواح الكفار و تفتح لأرواح المؤمنين.“ ترجمہ: یعنی جب ان کی روحیں جسموں سے نکلیں گی تو ان کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جائیں گے، اور نہ ہی دنیا کی زندگی میں ان کا کوئی قول یا عمل اللہ عزوجل کی بارگاہ میں بلند کیا جائے گا، کیونکہ ان کی روحیں، ان کے اقوال اور ان کے اعمال سب خبیث ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو صرف پاکیزہ کلمات اور نیک اعمال ہی بلند ہوتے ہیں۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کافروں کی روحوں کے لیے آسمان کے دروازے نہیں کھولے جاتے جبکہ مؤمنوں کی روحوں کے لیے کھولے جاتے ہیں۔ (تفسیر خازن، ج 02، ص 199،دار الكتب العلمية، بيروت)
بخاری شریف میں موجودحدیثِ معراج میں نبی پاک علیہ الصلوۃ و السلام کے اِس "فعرج بِي إِلَى السَّمَاء" جملے سے حاصل ہونے والے فوائد بیان کرتے ہوئے، علامہ بدرالدین عینی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: و منها: أنه علم منه أن للسماء أبوابا حقيقة و حفظة موكلين بها“ یعنی ان فوائد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے معلوم ہوا کہ آسمان کے حقیقی دروازے ہیں، اور ان پر نگہبان (فرشتے) مقرر ہیں۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، ج 04، ص 47، مطبوعہ: بیروت)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے (فاستفتح) أي: طلب جبريل فتح باب السماء الدنيا (قيل: من هذا)؟ أي: المستفتح (قال: جبريل): بتقدير هو أو أنا، قال القاضي عياض: و فيه أن للسماء أبوابا حقيقة و حفظة موكلين بها“ ترجمہ: حضرت جبرئیل علی نبیناو علیہ الصلوۃو السلام نے آسمانِ دنیا کا دروازہ کھولنے کامطالبہ فرمایا۔ پوچھا گیا: یہ دروازہ کھلوانے والا کون ہے؟ انہوں نے جواب دیا: میں جبرئیل ہوں۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کے حقیقی دروازے ہیں، اور ان پر نگہبان (فرشتے) مقرر ہیں۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 10، ص 551، مطبوعہ: کوئٹہ)
آسمان کے دروازے کھولے جانے سے مراد کبھی حقیقتاً دروازے کھلنا ہی ہوتا ہے، چنانچہ ایک حدیثِ پاک جس میں توبہ کادروازہ کھلے ہونے کا ذکر ہے، اس کی تشریح میں مفتی احمدیار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”یعنی آسمانوں میں بہت دروازے ہیں:بعض دروازے فرشتوں کے اترنے کے لیے،بعض رزق عباد نازل ہونے کے لیے،بعض اعمال عباد چڑھنے کے لیے،ایک دروازہ وہ ہے جس سے بندوں کی توبہ جاتی ہے اور بارگاہ الٰہی میں پیش ہوتی ہے یہ دروازہ مدینہ منورہ سے جانب مغرب آسمان میں واقع ہے اس کی چوڑائی ستر سال کی راہ ہے تو اس کی لمبائی اور اونچائی کتنی ہوگی یہ رب ہی جانے۔ حدیث بالکل اپنے ظاہری معنی پر ہے کسی قسم کی تاویل یا توجیہ کی ضرورت نہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، ج 03، ص 366، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
آسمان کے دروازے کھولے جانے سے کبھی مراد حقیقی معنی نہیں ہوتے،بلکہ مجازی معنی مراد ہوتے ہیں۔ چنانچہ ترمذی کی حدیث پاک میں ہے ”عن أبي هريرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: «ثلاثة لا ترد دعوتهم: الصائم حين يفطر والإمام العادل ودعوة المظلوم يرفعها اللہ فوق الغمام و تفتح لها أبواب السماء و يقول الرب: و عزتي لأنصرنك ولو بعد حين“یعنی:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:تین اشخاص کی دعا رد نہیں کی جاتی:روزہ دار کی دعا جب وہ افطار کرے،عادل حکمران کی دعا،اور مظلوم کی دعا۔ اللہ تعالیٰ مظلوم کی دعا کو بادلوں کے اوپر بلند فرما دیتا ہے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دئیےجاتے ہیں، اور رب تعالیٰ فرماتا ہے: مجھے اپنی عزت کی قسم! میں ضرور تیری مدد کروں گا، اگرچہ کچھ وقت بعد ہی سہی۔ (سنن ترمذی، ص 1311، رقم الحدیث 3598،دار ابن کثیر، دمشق)
(أبواب السماء) کے تحت علامہ علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: و روي بالتذكير و التأنيث على بناء المجهول، و الرفع و الفتح كنايتان عن سرعة القبول و الحصول إلى الوصول. قال الطيبي - رحمه اللہ -: و رفعها فوق الغمام، و فتح أبواب السماء لها، مجاز على إثارة الآثار العلوية“ یعنی: یہ لفظ مذکر اور مؤنث دونوں صیغوں کے ساتھ، مجہول کے طور پر مروی ہے۔ اوردعا بلند کیے جانے اور آسمان کے دروازےکھولے جانے کا ذکر، دعا کے جلد قبول ہونے اور بارگاہِ الٰہی تک پہنچنے سے کنایہ ہے۔ علامہ طیبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مظلوم کی دعا کا بادلوں کے اوپر اٹھایا جانا اور اس کے لیے آسمان کے دروازوں کا کھولا جانا، ان اعلیٰ (آسمانی) آثار و برکات کے ظہور اور ان کے متحرک ہونے سے بطورِ مجاز تعبیر ہے۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، ج 05، ص 129، 130، مطبوعہ: کوئٹہ)
اسی طرح اس حدیثِ پاک کے تحت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: دعا کو بادلوں پر اٹھانے، اس کے لیے آسمان کے دروازے کھولے جانے کا مطلب بہت جلد سننا اور اس کی دعا کی عزت افزائی اور اہمیت کا اظہا ر فرمانا۔ (مراٰۃ المناجیح، ج 03، ص 300، نعیمی کتب خانہ، گجرات)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4707
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء