کیا اعرابی کے مسجد میں پیشاب کرنے کی روایت صحیح ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اعرابی کے مسجد میں پیشاب کرنے والی روایت کی وضاحت
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اس طرح کی کوئی سچی روایت ہے کہ ایک دیہاتی نے مسجد میں پیشاب کرنا شروع کردیا، اور صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اس کو روکنا بھی چاہا، لیکن نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمادیا؟
جواب
جی ہاں! یہ واقعہ متعدد معتبر کتبِ حدیث میں مذکور ہے۔ ذیل میں ہم یہ روایت اور اس کی شرح کو نقل کرتے ہیں، جس سے یہ حکمت بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ نبیِ رحمت صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم کو اس اعرابی کو فوراً روکنے سے کیوں منع فرمایا۔ اس شرح سے معلوم ہوگا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ طرزِ عمل سراسر حکمت، رحمت اور بہترین تعلیم و تربیت پر مبنی تھا۔
صحيح البخاری میں ہے ”أن أبا هريرة قال: قام أعرابي فبال في المسجد، فتناوله الناس، فقال لهم النبي صلی اللہ علیہ و سلم: "دعوه وهريقوا على بوله سجلا من ماء - أو: ذنوبا من ماء - فإنما بعثتم ميسرين، و لم تبعثوا معسرين“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نےفرمایا: ایک اعرابی (دیہاتی) نے مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کر نا شروع کردیا۔ لوگوں نے اسے روکنے اور پکڑنے کا ارادہ کیا، تو نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ان سےفرمایا: اسے چھوڑ دو، اور اس کے پیشاب پر ایک ڈول پانی بہا دو؛ کیونکہ تمہیں لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنے والا بنا کر بھیجا گیا ہے، تنگی اور سختی پیدا کرنے والا بنا کر نہیں بھیجا گیا۔ (صحیح البخاری، ص 57، رقم الحدیث 220، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مذکورہ حدیث پاک کے تحت مرقاۃ المفاتیح میں ہے (فقال لهم النبي صلى اللہ عليه و سلم: دعوه): أي: اتركوه ; فإنه معذور ; لأنه لم يعلم عدم جواز البول في المسجد ; لقربه بالإسلام، و بعده عنه عليه الصلاة و السلام، و قيل: لئلا يتعدد مكان النجاسة، و قيل: لئلا يتضرر بانحباس البول“ ترجمہ: (پس نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے چھوڑ دو) یعنی اسے مت روکو؛ کیونکہ وہ معذور ہے، اس لیے کہ اسے مسجد میں پیشاب کرنے کے ناجائز ہونے کا علم نہیں تھا، کیونکہ وہ ابھی نیا مسلمان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے دور تھا،اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے اس لیے نہ روکا گیا تاکہ نجاست ایک سے زیادہ جگہ نہ پھیل جائے، اور ایک قول یہ ہے کہ اس لیے نہ روکا گیا تاکہ پیشاب روکنے کی وجہ سے اسے جسمانی تکلیف نہ پہنچے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، ج 2، ص 460، دار الفکر، بیروت)
مذکورہ حدیث پاک کی مثل ہی دوسری حدیث مبارکہ ذکر کرکے اس سے حاصل ہونے والے احکام بیان کرتے ہوئے علامہ بدر الدین عینی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: الحادي عشر: فيه مراعاة التيسير على الجاهل و التألف للقلوب“ ترجمہ: گیارہواں حکم: اس واقعہ میں جاہل آدمی پر آسانی کرنے اور دلوں کو مانوس کرنے کا سبق ہے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، ج 3، ص 127،دار إحياء التراث العربي، بيروت)
مسند البزار میں یہ روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے ”قال: بينما نحن في المسجد مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم إذ جاء أعرابي فقام يبول في المسجد فقام إليه أصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: لا تزرموه فتركوه حتى بال، ثم أتى به رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فقال: إن هذه المساجد لا تصلح لشيء من هذا البول و لا القذر إنما هي لذكر اللہ و الصلاة و قراءة القرآن، ثم قال لرجل من القوم فجاء رجل بذنوب من ماء فشنه عليه“ ترجمہ: حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ہم مسجد میں اللہ تعالی کے رسول صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی صحبت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ اتنے میں ایک اعرابی آیا، اور مسجد میں کھڑے ہو کر پیشاب کرنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اسے روکنے کے لیے، اس کی طرف اٹھ کھڑے ہوئے، تو رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اسے نہ روکو! چنانچہ صحابۂ کرام علیہم الرضوان نے اسے چھوڑ دیا، یہاں تک کہ وہ پیشاب سے فارغ ہوگیا، پھر اسے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں لایا گیا، تو آپ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: یہ مساجد اس قسم کی چیزوں، پیشاب اور گندگی کے لیے نہیں بنائی گئیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور قرآنِ کریم کی تلاوت کے لیے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے حاضرین میں سے ایک شخص کو حکم فرمایا، تو وہ ایک ڈول پانی لے آیا، تو اسے پیشاب پر بہا دیا۔ (مسند البزار، ج 13، ص 78، مطبوعہ: المدينة المنورة)
مراۃ المناجیح میں ہے (اسے چھوڑدو) یعنی اسے نہ مارو پیٹو کیونکہ یہ شرعی احکام سے ناواقف ہے۔ اسلام سے پہلے لوگ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا اور سب کے سامنے ننگے ہونے کو عیب نہ جانتے تھے، نیز وہ مسجد کے آداب وغیرہ سے بے علم تھے۔ معلوم ہوا کہ ناواقف پر سختی نہ کی جائے اسے نرمی سے سمجھایا جائے۔
(اسے نہ روکو) کیونکہ پیشاب بیچ میں روکنے سے سخت بیماری پیدا ہوجاتی ہے۔ معلوم ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ و سلم فن طب سے پورے واقف ہیں اور امت پر بہت رحیم و کریم۔ فرمایا مسجد دُھل جائے گی، لیکن اگر یہ بیمارہوگیا تو اس کو اورہم کوسخت دشواری ہو گی۔ اس میں مبلغین کو طریقۂ تبلیغ کی تعلیم ہے کہ تبلیغ اخلاق اورنرمی سے ہونی چاہیئے۔ (مراۃ المناجیح، ج 01، ص 325 / 326، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5141
تاریخ اجراء: 16 محرم الحرام 1448ھ / 02 جولائی 2026ء