بکری، بکرا، بھیڑ، دنبہ سب جنتی جانور ہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
کیا بکری، بکرا، بھیڑ، دنبہ سب جنتی جانور والی فضیلت میں شامل ہیں ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک حدیث پاک ہے: ’’بکری کی عزت کرو کہ بکری جنتی جانور ہے‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا اس سے مراد صرف بکری یعنی مادہ ہے، یا پوری جنس مراد ہے اور بکری کے ساتھ بکرا بھی شامل ہے؟ اگر جنسِ بکری مراد ہے، تو کیا جنسِ بکری کے ساتھ مینڈھا، بھیڑ بھی شامل ہے یا نہیں؟
جواب
سوال میں بیان کردہ حدیث ’’بکری کی عزت کرو کہ یہ جنتی جانوروں میں سے ہے‘‘ اس فضیلت میں بکرا، بکری، بھیڑ، دنبہ سب شامل ہیں۔
تفصیل یہ ہے کہ بکری کی فضیلت والی روایات مختلف الفاظ کے ساتھ آئی ہے، جن میں ’’مِعزیٰ‘‘، ’’ماعز‘‘، ’’ماعزۃ‘‘، ’’شاۃ‘‘اور ’’غنم‘‘ کے الفاظ موجود ہیں۔ ان سب روایات کی روشنی میں ثابت ہوتا ہے کہ بکری کی فضیلت والی روایت میں جنس بکری اور جنس بھیڑ مراد ہے، صرف بکری ہی مراد نہیں۔
(1): سب سے پہلے عام بیان کی جانے والی حدیث کے متعلق کلام کرتے ہیں جس میں ’’اکرموا الِمعزٰی‘‘ یعنی بکری کی عزت کرو کے الفاظ آئے ہیں۔ اس میں لفظ ’’مِعزیٰ‘‘ موجود ہے۔ لغوی اعتبار سے جنسِ بکری کے لیے کئی عربی لفظ آتے ہیں، جیسے’’مَعْز‘‘، ’’مَعيزُ، ’’اُمْعوزُ‘‘۔ انہی میں ایک لفظ ’’مِعزیٰ‘‘ بھی ہے۔ یہ بھی دیگر الفاظ کی طرح اسم جنس ہے، جو جنسِ بکری پر بولا جاتا ہے اور اس میں نر و مادہ دونوں شامل ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ ’’مِعزیٰ‘‘ کے لفظ والی روایت میں بکری کےساتھ بکرا بھی شامل ہے۔
(2): بکری کی جنس میں مذکر (نَر) کے لیے ’’ماعِز‘‘ جبکہ مؤنث (مادہ) کے لیے ’’ماعِزۃ ‘‘ کا لفظ بولا جاتا ہے اور ان دونوں الفاظ کے ساتھ بھی اس کے جنتی جانوروں میں سے ہونے کی روایات موجود ہیں۔ جب خود ’’ماعِز‘‘ کے لفظ کے ساتھ روایت موجود ہے، تو اب بکرے کے شامل ہونے میں اصلاً کوئی شبہ نہیں۔
(3): بکری کے جنتی جانور ہونے سے متعلق بعض روایات میں’’شاۃ‘‘ اور ’’غنم‘‘ کے الفاظ آئے ہیں۔’’شاۃ‘‘ اور ’’غنم‘‘ کے الفاظ میں سے ہر ایک جنسِ بکری اور جنسِ بھیڑ دونوں کو شامل ہے، یعنی شاۃ اور غنم کے لفظ کا اطلاق مذکر مؤنث بھیڑ اور مذکر مؤنث بکری دونوں پر ہوتا ہے۔ دنبہ بھی بھیڑ کی ہی ایک قسم ہے، بھیڑ اور بکری سے الگ کوئی تیسری قسم نہیں، لہذا یہ بھی’’شاۃ‘‘ اور ’’غنم‘‘ کے عموم میں داخل ہوکر فضیلت میں شامل ہوگا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ بکری کے جنتی جانور ہونے والی فضیلت میں صرف بکری مراد نہیں، بلکہ تمام بھیڑ، بکریاں شامل ہیں، چاہے وہ نر ہوں، یا مادہ۔
جزئیات ملاحظہ ہوں:
(1): وہ حدیث جس میں مِعزیٰ کا لفظ آیا ہے: چنانچہ مجمع الزوائد، مسندِ بزار، جامع الصغیر، کنز العمال، الفردوس بمأثور الخطاب میں ہے: واللفظ للاول: ’’عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: "«أكرموا المعزى، وامسحوا رغامها، فإنها من دواب الجنة»‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکری کی عزت کرو اور اس سے مٹی جھاڑو، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ (مسند بزار، جلد 15، صفحہ 280، رقم الحدیث: 8771، مطبوعہ مدينة المنورہ)
اس حدیث کی شرح میں علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ ’’التیسیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’(أكرموا المعزي) اسم جنس لا واحد له من لفظه وهي ذوات الشعر من الغنم وألفها للإلحاق لا للتأنيث وتقصر وتمد (وامسحوا برغامها) بتثليث الراء والفتح أفصح وغين معجمة مخففة أي امسحوا التراب عنها والرغام التراب وروى بعين مهملة والرغام بالضم المخاط أي امسحوا ما يسيل من انفها من نحو مخاط والأمر إرشادي (فإنها من دواب الجنة) أي نزلت منها أو تدخلها بعد الحشر أو من نوع ما فيها‘‘ ترجمہ: بکری کی عزت کرو۔’’معزى‘‘ بکریوں کی جنس کا نام ہے، اس کے لفظ سے اس کا واحد نہیں۔ اس سے مراد بالوں والی بکریاں ہیں۔ اس کے آخر میں جو الف ہے، وہ الحاق کے لیے ہے، تانیث کے لیے نہیں، اور اسے مقصر اور ممدود دونوں طرح پڑھا جاتا ہے۔ (اور اس سے مٹی جھاڑو) رغام میں ’’راء‘‘ کو تینوں حرکات (زبر، زیر، پیش) کے ساتھ پڑھا گیا ہے، البتہ زبر کے ساتھ پڑھنا زیادہ فصیح ہے، اور ’’غین‘‘ معجمہ مخففہ ہے۔ معنی یہ ہے کہ ان سے مٹی صاف کرو، کیونکہ ’’الرغام‘‘ کے معنی مٹی کے ہیں۔ ایک روایت میں ’’غین‘‘ کے بجائے ’’عین‘‘ مہملہ کے ساتھ آیا ہے۔ ’’الرغام‘‘ (میں راء کے) پیش کے ساتھ، اس کا معنی ناک سے بہنے والی رینٹھ ہے، یعنی ان کی ناک سے بہنے والی چیز مثلاً رینٹھ وغیرہ صاف کرو۔ یہ حکم استحباب و رہنمائی کے طور پر ہے۔ (کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہے) یعنی جنت سے نازل ہوئی ہے، یا حشر کے بعد جنت میں داخل ہو گی، یا جنت میں موجود جانوروں کی قسم میں سے ہے۔ (التیسیر بشرح الجامع الصغیر، جلد 1، صفحہ 203، مكتبة الإمام الشافعي، الرياض)
علامہ عبد الرؤف مناوی رحمۃ اللہ علیہ ’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں فرماتے ہیں: ’’(فإنها من دواب الجنة) أي نزلت منها أو تدخلها بعد الحشر أو من نوع ما في الجنة بمعنى أن في الجنة أشباهها وشبيه الشيء يكرم لأجله»‘‘ ترجمہ: (کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہے)، یعنی جنت سے نازل ہوئی ہے، یا حشر کے بعد جنت میں داخل ہوگی، یا جنت میں پائی جانے والی مخلوق کی قسم میں سے ہے، یعنی جنت میں ان جیسی مخلوق موجود ہوگی، اور کسی چیز کے مشابہ کو بھی اسی کی وجہ سے عزت دی جاتی ہے۔
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’(فإنها من دواب الجنة) على ما تقرر فيما قبله وجاء في أخبار أن الضأن كذلك وإنما أفرد المعزى هنا لأنه سئل عنها فذكره‘‘ ترجمہ: (کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہے)، جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا۔اور بعض روایات میں آیا ہے کہ بھیڑ بھی اسی حکم میں شامل ہے، لیکن یہاں خاص طور پر بکریوں کا ذکر اس لیے کیا گیا، کیونکہ سوال انہی کے بارے میں کیا گیا تھا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد 2، صفحہ 91، مطبوعہ مصر) لغت کی کتابیں ’’الصحاح تاج اللغۃ‘‘، ’’مختارالصحاح‘‘، ’’لسان العرب‘‘ میں ہے: والفظ للاول: ’’ [معز] المَعْزُ من الغنم: خلافُ الضأن، وهو اسمُ جنس.وكذلك المَعَزُ والمَعيزُ، والأُمْعوزُ والمِعْزى. وواحد المعز ماعز، مثل صاحب وصحب. والانثى ماعزة۔۔۔ قال سيبويه: معزى منون مصروف، لان الالف للالحاق لا للتأنيث»‘‘ ترجمہ: ’’مَعْز‘‘ بکریوں میں سے بھیڑ کے خلاف ایک جانور ہے، اور یہ اسمِ جنس ہے۔ اسی طرح ’’المَعَزُ‘‘، ’’المَعِيزُ‘‘، ’’الأُمْعُوزُ‘‘ اور ’’المِعْزَى‘‘ بھی ہیں۔ (یعنی یہ سب بھی اسم جنس ہیں) ’’مَعْز‘‘ کا واحد ’’ماعِز‘‘ ہے، جیسے ’’صاحب‘‘ اور ’’صَحب‘‘۔ اور اس کی مؤنث ’’ماعِزَة‘‘ ہے۔۔۔سیبویہ نے کہا: ’’مِعْزَى‘‘ تنوین والا اور منصرف لفظ ہے، کیونکہ اس کا الف الحاق کے لیے ہے، تانیث کے لیے نہیں۔ (الصحاح تاج اللغۃ، جلد 3، صفحہ 896، مطبوعہ بيروت)
’’المصباح المنیر فی غريب الشرح الكبير‘‘ میں ہے: ’’والمِعزٰى ألفها للإلحاق لا للتأنيث ولهذا ينون في النكرة ويصغر على معيز ولو كانت الألف للتأنيث لم تحذف والذكر ماعز والأنثى ماعزة‘‘ ترجمہ: اور ’’مِعْزَى‘‘ کا الف الحاق کے لیے ہے، تانیث کے لیے نہیں، اسی وجہ سے نکرہ کی حالت میں اس پر تنوین آتی ہے، اور اس کی تصغیر ’’مُعَيْز‘‘ بنائی جاتی ہے۔ اگر یہ الف تانیث کے لیے ہوتا تو حذف نہ کیا جاتا۔ نر کو ’’ماعِز‘‘ اور مادہ کو ’’ماعِزَة‘‘ کہتے ہیں۔ (المصباح المنیر، جلد 2، صفحہ 575، المكتبة العلمية، بيروت)
(2): وہ احادیث جن میں ماعز اور ماعزۃ کا لفظ آیا ہے: چنانچہ مسند بزار کی حدیث پاک ہے: ’’عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة فيما أعلم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أسحنوا إلى الماعز وأميطوا عنها الأذي فإنها من دواب الجنة‘‘ ترجمہ: حضرت سعید بن مسیب سےمروی ہے، وہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں (جیسا کہ میں جانتا ہوں) انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکرے کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان سے تکلیف دہ چیزیں دور کرو، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ (مسند بزار، جلد 15، صفحہ 280، رقم الحدیث: 8771، مطبوعہ مدينة المنورہ)
’’جزء حنبل بن اسحاق‘‘ میں ہے: ’’عن سعيد بن المسيب، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «أحسنوا إلى الماعزة، وامسحوا عنها الرعام، فإنها دابة من دواب الجنة، وما من نبي إلا وقد رعى الغنم» قالوا: وأنت يا رسول الله، قد رعيت الغنم؟ قال: «وأنا قد رعيت الغنم»‘‘ ترجمہ: حضرت سعید بن مسیب، حضرت ابو ہریرہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکری کے ساتھ اچھا سلوک کرو اور ان کی ناک کی گندگی صاف کرو، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ایک جانور ہے۔ اور کوئی نبی ایسا نہیں جس نے بکریاں نہ چرائی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا آپ نے بھی بکریاں چرائی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اور میں نے بھی بکریاں چرائی ہیں۔ (جزء حنبل بن اسحاق، صفحہ 116، مطبوعہ رياض)
(3): وہ حدیث جس میں شاۃ کا لفظ آیا ہے: چنانچہ ’’سنن ابن ماجہ‘‘، ’’جامع الصغیر‘‘، ’’جمع الجوامع‘‘، ’’کنز العمال‘‘ کی حدیث پاک ہے: واللفظ للاول: ’’عن ابن عمر، رضي الله عنه، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الشاة من دواب الجنة»‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکری جنت کے جانوروں میں سے ہے۔ (سنن ابن ماجہ، جلد 2، صفحہ 773، رقم الحدیث: 2306، دار إحياء الكتب العربية)
اس حدیث کی شرح میں’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں ہے: ’’أي أن الجنة فيها شياه وأصل هذه منها أو أنها تكون يوم القيامة في الجنة‘‘ ترجمہ: یعنی جنت میں کچھ بکریاں موجود ہیں، اور ان (دنیا کی بکریوں) کی اصل اسی (جنت میں موجود بکریوں) سے ہے، یا یہ کہ وہ قیامت کے دن جنت میں داخل کی جائیں گی۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد 4، صفحہ 170، مطبوعہ مصر)
(4): وه احاديث جن میں ’’غنم‘‘ کا لفظ آیا ہے: چنانچہ ’’مصنف عبد الرزاق‘‘، ’’موطا امام مالک‘‘، ’’جمع الجوامع‘‘، ’’کنزالعمال‘‘ کی حدیث پاک ہے: واللفظ للاول: ’’عن أبي هريرة أنه قال: "أحسن إلى غنمك، وامسح عنها الرعام، وصل في ناحيتها - أو قال: في مرابضها - فإنها من دواب الجنة‘‘ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اپنی بھیڑ بکریوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو، ان کی ناک کی گندگی صاف کرو، اور ان کے باڑے میں، یا ان کے ٹھہرنے کی جگہوں میں نماز پڑھو، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں۔ (مصنف عبد الرزاق، جلد 2، صفحہ 120، رقم الحدیث: 1659، دار التاصیل)
الفاظ کی تبدیلی کے ساتھ اس مفہوم کی مزید احادیث بھی وارد ہیں۔
غنم کے لفظ والی ایک روایت ’’مجمع الزوائد‘‘ میں ہے: ’’عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "«عليكم بالغنم، فإنها من دواب الجنة فصلوا في مراحها وامسحوا رغامها»". قلت: ما الرغام؟ قال: "المخاط‘‘ ترجمہ: حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم بکریاں اختیار کرو، کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں، پس ان کے باڑے میں نماز پڑھو اور ان کی ناک کی گندگی صاف کرو۔ میں نے عرض کیا: رغام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ناک سے نکلنے والی رطوبت۔ (مجمع الزوائد، جلد 4، صفحہ 67، رقم الحدیث: 6259، مكتبة القدسي، القاهرة)
اس حدیث کی شرح میں ’’فیض القدیر شرح جامع الصغیر‘‘ میں ہے: ’’(عليكم بالغنم) أي اتخذوها واقتنوها (فإنها من دواب الجنة فصلوا في مراحها) بالضم مأواها (وامسحوا أرغامها) تمام الحديث عند مخرجه الطبراني قلت يا رسول الله ما الرغام؟ قال: المخاط والأمر للإباحة والغنم اسم جنس يطلق على الضأن والمعز ولا واحد للغنم من لفظها»‘‘ ترجمہ: (تم بکریاں اختیار کرو) یعنی تم بکریاں لو اور انہیں پالو۔ (کیونکہ وہ جنت کے جانوروں میں سے ہیں، اس لیے ان کے باڑے میں نماز پڑھو)۔ ’’مراح‘‘ ضمہ کے ساتھ ان کے ٹھہرنے کی جگہ کو کہتے ہیں۔(ان کی ناک کی گندگی صاف کرو) پوری حدیث امام طبرانی کے تخریج میں موجود ہے۔ (راوی کہتے ہیں) میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! رغام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ناک سے نکلنے والی رطوبت اور یہ حکم اباحت کے لیے ہے۔ اور’’غنم‘‘ اسمِ جنس ہے جو بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، اور غنم کے لفظ سے اس کا کوئی واحد نہیں آتا۔ (فیض القدیر شرح الجامع الصغیر، جلد 4، صفحہ 345، مطبوعہ مصر)
لفظِ’’غنم‘‘، بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے، چنانچہ ’’المصباح المنیر‘‘ میں ہے: ’’والغنم اسم جنس يطلق على الضأن والمعز وقد تجمع على أغنام على معنى قطعانات من الغنم ولا واحد للغنم من لفظها قاله ابن الأنباري‘‘ ترجمہ: اور ’’غنم‘‘ اسمِ جنس ہے، جو بھیڑ اور بکری دونوں پر بولا جاتا ہے۔ اور کبھی اس کی جمع ’’اغنام‘‘ بھی آتی ہے، یعنی بھیڑ، بکریوں کے ریوڑوں کے معنی میں۔ اور ’’غنم‘‘ کا کوئی واحد اس کے اپنے لفظ سے نہیں آتا۔ یہ بات ابن الانباری نے بیان کی ہے۔ (المصباح المنیر، جلد 2، صفحہ 454، المكتبة العلمية، بيروت)
’’شاۃ‘‘ اور’’ غنم ‘‘میں سے ہر ایک لفظ بھیڑ اور بکری کی جنس پر بولا جاتا ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’وقال الفاضل یوسف چلپی فی ذخیرۃ العقبٰی حاشیۃ شرح الوقایۃ، ضأنا جمع ضائن خلاف الماعز، وھما نوعان من جنس الغنم، یقال للاول بالفارسی میش وللثانی بُز، والشاۃ اسم جنس یشملھا کالغنم۔۔۔ کذا فی الصحاح، والاسماء اھ باختصار‘‘ ترجمہ: اور فاضل یوسف چلپی نے ذخیرۃ العقبیٰ میں فرمایا: ’’ضَأن‘‘، ’’ضائن‘‘ کی جمع ہے، بخلاف ’’ماعِز‘‘ کے اور یہ دونوں جنس’’غنم‘‘ کی دو قسمیں ہیں۔ پہلی قسم کو فارسی میں ’’میش‘‘ اور دوسری کو ’’بُز‘‘ کہا جاتا ہے، جبکہ ’’شَاۃ‘‘ اسمِ جنس ہے جو ’’غنم‘‘ کی طرح ان دونوں کو شامل ہے یونہی صحاح اور اسماء میں مذکور ہے۔ اختصار کے ساتھ ختم ہوا۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 399، 398، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ’’اطبق اھل التفسیر والحدیث والفقہ واللغۃ من العرب والعجم، ان الغنم نوعان، ضان و معز، میش وبُز‘‘ ترجمہ: عرب و عجم کے اہل تفسیر و حدیث و فقہ و لغت اس بات پر متفق ہیں کہ غنم کی دو قسمیں ہیں: ضان اور معز، جس کی تعبیر فارسی میں میش اور بُز سے کی جاتی ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 407، 406، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
’’ضان‘‘ بھیڑ، مینڈھے کو کہتے ہیں اور دُنبہ بھی اسی کی ایک قسم ہے، لہذا وہ بھی بھیڑ کے ساتھ شامل ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ فتاوی رضویہ میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ’’دنبہ اور بھیڑ ایک ہی نوع ہیں اور دونوں کا ایک ہی حکم۔۔۔ بالیقین معلوم کہ ضان وہی چیز ہے جسے فارسی میں میش، اردو میں بھیڑ، اور اسی کی ایک صنف (قسم) کو دنبہ کہتے ہیں، عرب دونوں (یعنی) معز ضان کے سوا (علاوہ غنم میں کسی تیسرےکو) نہیں جانتے، نہ یہاں تیسری نوع ہے۔‘‘ (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 436،437 ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1193
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء