مسبعاتِ عشر کا وظیفہ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
خلافِ ترتیب سورتیں وظیفے کے طور پر پڑھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ وظیفہ مسبعاتِ عشر پڑھنا کیا درست ہے، جبکہ اس میں سورتوں کی ترتیب مصحف کے مطابق نہیں ہے؟ وظیفے میں سورتوں کی ترتیب یوں ہے: 1۔ الحمد شریف سات بار، 2۔ سورۃ الناس سات بار، 3۔ سورۃ الفلق سات بار، 4۔ سورۃ الاخلاص سات بار، 5۔ قل یا ایھا الکافرون سات بار، 6۔ آیت الکرسی سات بار، اس کے بعد مزید اذکار و دعائیں بھی وظیفے میں شامل ہیں۔
جواب
مذکورہ بالا وظیفہ اسی بیان کردہ ترتیب کے مطابق پڑھنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں؛ یہ بزرگانِ دین سے ثابت ہے اور اس کے بے شمار فوائد و برکات ہیں۔ رہا یہ اشکال کہ اس میں بعض سورتوں کی ترتیب الٹی ہے، جبکہ ترتیب کا لحاظ رکھنا تلاوت کے واجبات میں سے ہے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تلاوت بطریقِ معہود ہو، تو بے شک ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب ہے؛ مگر وظیفے میں ہر سورت کو مقررہ تعداد میں پڑھنے والا بطریقِ معہود تلاوت نہیں کر رہا، بلکہ اس کا مقصد ہر سورت کو الگ الگ متعین تعداد میں پڑھنا ہوتا ہے۔
لہٰذا اس صورت میں اس پر ترتیب کا لحاظ رکھنا واجب نہیں ہے کہ وظیفے میں یہاں ہر سورت ایک الگ مستقل عمل ہے۔
فتاویٰ رضویہ میں ہے: "نماز ہو یا تلاوت بطریقِ معہود ہو، دونوں میں لحاظِ ترتیب واجب ہے، اگر عکس کرے گا گنہگار ہوگا۔ سیّدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایسا شخص خوف نہیں کرتا کہ اللہ عزوجل اس کا دل اُلٹ دے۔
ہاں، اگر خارجِ نماز ہے کہ ایک سورت پڑھ لی، پھر خیال آیا کہ دوسری سورت پڑھوں، وہ پڑھ لی اور یہ اس سے اوپر کی تھی، تو اس میں حرج نہیں۔ یا مثلاً حدیث میں شب کے وقت چار سورتیں پڑھنے کا ارشاد ہوا ہے: یٰسین شریف کہ جو رات میں پڑھے گا، صبح کو بخشا ہوا اٹھے گا۔ سورہ دخان شریف کہ جو اسے رات میں پڑھے گا، صبح اس حالت میں اٹھے گا کہ ستّر ہزار فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہوں گے۔ سورہ واقعہ شریف کہ جو اسے رات میں پڑھے گا، محتاجی اس کے پاس نہ آئے گی۔ سورہ تبارک الذی شریف کہ جو اسے ہر رات پڑھے گا، عذابِ قبر سے محفوظ رہے گا۔
ان سورتوں کی ترتیب یہی ہے، مگر اس غرض کے لئے پڑھنے والا چار سورتیں متفرق پڑھنا چاہتا ہے کہ ہر ایک مستقل جدا عمل ہے، اسے اختیار ہے کہ جس کو چاہے پہلے پڑھے، جسے چاہے پیچھے پڑھے۔" (فتاویٰ رضویہ، ج 6، ص 239، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
رد المحتار میں ہے: "لو قرأ إنسان سورة ثم سكت ثم قرأ ما فوقها، فلا كراهة فيه" یعنی: کسی نے سورت پڑھی، پھر خاموش ہو گیا، پھر اس سے اوپر کی سورت پڑھی، تو اس میں کوئی کراہت نہیں ہے۔ (رد المحتار، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 547، دار الفکر، بیروت)
امام محمد بن محمد غزالی علیہ الرحمۃ نے احیاء العلوم میں وظیفہ مسبعات عشر لکھا ہے، جس میں سورتوں کی ترتیب وہی ہے جو سوال میں مذکور ہے۔ اس وظیفے کی ترغیب دیتے ہوئے امام غزالی فرماتے ہیں: "وإن قرأ المسبعات العشر التي أهداها الخضر عليه السلام إلى إبراهيم التيمي رحمه الله ووصاه أن يقولها غدوة وعشية فقد استكمل الفضل وجمع له ذلك فضيلة جملة الأدعية المذكورة "یعنی اگر تو ان "مسبعاتِ عشرہ" کو بھی پڑھے، جو حضرت سیّدنا خضر عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے حضرت سیّدنا ابراہیم تیمی علیہ الرحمۃ اللہ القوی کو تحفہ دے کر صبح شام پڑھنے کی وصیت فرمائی، تو فضیلت مکمل ہو جائے گی اور تیرے لئے مذکورہ تمام دعاؤں کی فضیلت جمع ہو جائے گی۔ (احیاء علوم الدین، جلد 1، صفحہ 335، دار المعرفہ، بیروت)
امام غزالی رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے اس کے بعد مذکورہ وظیفے سے متعلق ایک تفصیلی حکایت بھی نقل فرمائی ہے، جس میں حضرت خضر علیہ السلام کا یہ وظیفہ حضرت ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو تحفے میں دینے، اور حضرت خضر علیہ السلام کا اسے حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و علیٰ آلہ وسلم سے سننے کا ذکر ہے؛ پھر حضرت ابراہیم تیمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کا نبیِ آخر الزمان صلی اللہ تعالی علیہ و علیٰ آلہ وسلم کی خواب میں زیارت کر کے اس وظیفے کی تصدیق و تصویب حاصل کرنا، اور اس کے فوائد معلوم کرنا بھی مذکور ہے۔ تفصیل کے لیے احیاء العلوم اور عوارف المعارف ملاحظہ فرمائیے۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو صدیق محمد ابوبکر عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-0347
تاریخ اجراء: 03 رمضان المبارک 1443ھ / 05 اپریل 2022ء