logo logo
AI Search

مشترکہ مکان پارٹنر کو کرائے پر دینا کیسا؟

مشترکہ مکان اپنے پارٹنر کو کرائے پر دینا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت(دعوت اسلامی)

سوال

سمیع اور علی نے مل کر ایک گھر خریدا ہے اور اس میں علی رہائش پذیر ہے۔ سمیع نے اپنا حصہ علی کو کرایہ پر دیا ہوا ہے۔ کیا یہ جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ

مشترکہ چیز اپنے شریک کو کرایہ پر دینا جائز ہے لہٰذا سمیع کے لئے وہ گھر علی کو کرایہ پر دینا اور اس سے کرایہ وصول کرنا، جائز ہے۔

صدرُالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”مشاع یعنی بغیر تقسیم چیز کو بیع کردیا جائے تو بیع صحیح ہے اور اس کا اجارہ اگر شریک کے ساتھ ہو تو جائز ہے، اجنبی کے ساتھ ہو تو جائز نہیں۔“(بہارِ شریعت، جلد 3، صفحہ 73، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب:مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی
فتوی نمبر:Web-1929
تاریخ اجراء:14ربیع الاوّل1446ھ/19ستمبر2024ء