
سحری کے وقت غسل فرض ہو تو بغیر غسل روزہ ہوجائے گا؟
سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان ِ شرع متین اس مسئلے میں کہ اگر سحری میں کسی کی آنکھ دیر سے کھلی اور اس پر غسل فرض ہو، اب اگر وہ غسل کرتا ہے تو سحری کھانے کا موقع نہیں مل پائے گا اور اسے بھوکے پیٹ روزہ رکھنا پڑے گا، کیا اس مجبوری کی وجہ سے سحری کھا کر غسل کر سکتا ہے؟ اس صورت میں روزہ شروع ہونے کے بعد غسل ہوگا، کیا اس طرح روزہ ادا ہوجائے گا؟ یا سحری کا وقت ختم ہونے سے پہلے غسل کرنا ضروری ہے؟
مقتدی فوم والی صف پر ہو اور امام عام مصلے پر تو نماز کا حکم
جواب: مکروہ ہے، پھر اگر یہ بلندی تھوڑی ہو، مکروہ تنزیہی اور زیادہ ہو، تو مکروہ تحریمی ہے، البتہ مقتدی کا موٹی صف پر کھڑا ہونے اور امام کا عام صف پر کھڑے ہون...
نمازکے دوران کسی تحریرکوسمجھنا
جواب: مکروہ ہے کہ اعمال نمازکے علاوہ کسی اورکام میں مشغول ہونا ہے،اوراگروہ تحریرغیردینی ہو،توکراہت زیادہ ہے۔ہاں اگر بلاقصد ہوا تو مکروہ بھی نہیں ۔ در م...
حالتِ احرام میں بغیر خوشبو والے صابن یا لیکوئیڈ سے ہاتھ دھونا
جواب: مکروہ تنزیہی ہے، اس لیے کہ حاجی کا پراگندہ بال اور میلا کچیلا ہونا مناسب و محبوب ہے۔ البتہ اگر حالتِ احرام میں ان کا استعمال کر لیا تو مُحرم پر کوئی ...
بادلوں میں گرج چمک پیدا ہونے کا سبب
جواب: وقت کیا کرنا چاہئے۔ احادیث میں آیا ہے کہ ایسی صورتحال میں حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و سلم مختلف قسم کی دعا ئیں مانگا کرتے، لہذا اس وقت ہمیں بھی یہی ...
قرض وقت پر واپس نہ کرنے کی وجہ سے نقصان لینے کا حکم
سوال: میرا سوال یہ ہے کہ تین ماہ پہلے میرے ایک دوست کی والدہ نے مجھ سے پندرہ لاکھ روپے لئے جس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ہم نے کچھ مشینیں اپنے کاروباری معاملات کے لیے ڈسکاؤنٹ پر منگوائی ہیں جس کی وجہ سے پندرہ لاکھ روپے کی اشد ضرورت ہے ، آپ ہمیں دے دیں بطور ضمانت آپ ہمارے فلیٹ کی فائل رکھ لیں جس کی مالیت 45 لاکھ ہے۔ چاہیں تو آپ یہ فلیٹ رکھ لیجئے گا باقی رقم آپ بلڈر کو ادا کر دیجئے گا جس پر میں نے صاف منع کر دیا کہ فلیٹ سے میرا کوئی لینا دینا نہیں ہے ، میں آپ کو رقم دے رہا ہوں، تین ماہ بعد رقم ہی واپس لوں گا اور میں نے کوئی فائل وغیرہ بطور ضمانت بھی نہیں رکھی تو انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم آپ کو تین ماہ بعد اصل رقم کے ساتھ کچھ نہ کچھ نفع بطور مٹھائی آپکو دیں گے ( نفع کی رقم طے نہیں کی گئی کہیں سود کے زمرے میں نہ آئے) جب ادائیگی کا وقت نزدیک آیا تو میں نے پیغام بھیجا کہ میری رقم وقت پر مل جائے گی؟ جس پر مجھے یقین دہانی کروائی کہ رقم مقررہ وقت پر ادا کر دی جائے گی۔ اس کے بھروسے میں نے ایک پلاٹ کا سودا کیا اور بیعانہ کی مد میں ایک لاکھ روپے دے دئیے پھر جب مقررہ وقت پر میں نے اپنی رقم واپس لینے کے لیے ان سے تقاضہ کیا تو انہوں نے مجھ سے ایک ماہ کا وقت مزید مانگ لیا اور میری رقم ادا نہیں کی جس کی وجہ سے دوسری جگہ دیا گیا ایڈوانس ضائع ہو گیا ۔ میں نے ان سے کہا : میری جو رقم آپ کی وجہ سے ضائع ہوئی ہے یہ آپ ادا کریں تو ان کا کہنا ہے کہ یہ تو سود میں آجائے گا آپ بھی اس سے بچیں اور ہمیں بھی سودی معاملات میں نہ لائیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ سارا معاملہ سود ہوگا ؟ کیا میرے مطالبہ کے بغیر جو رقم وہ اپنی خوشی سے دیں گی وہ بھی سود کے زمرے میں آئے گی ؟ کیا میں اضافی رقم کے بجائے کسی اور چیز کی ڈیمانڈ کر سکتا ہوں مثلاً کوئی بائیک یا دیگر اشیاء؟ واضح رہے مجھ سے رقم انہوں نے اپنے پارلر اور جم کی مشینری ٪50 ڈسکاؤنٹ پر خریدنے کے لیے لی تھی تو کیا اس سے ہونے والے نفع میں میرا حصہ جائز ہے ؟ برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں۔
ناک سے مسلسل خون بہہ رہا ہو اور نماز کا وقت تنگ ہو، تو کیا حکم ہے؟
سوال: اگر وضو کے دوران ناک سے خون بہنا شروع ہو جائے اور رُک نہ رہا ہو اور ساتھ ہی نماز کا وقت بھی تنگ ہو ، تو اس صورت میں کیا کرنا چاہیے؟
توجہ بٹانے والی چیز کا تدارک کئے بغیر نماز پڑھنے کا حکم
سوال: نماز میں نمازی کی توجہ بٹانے والی کوئی چیز یا وجہ ہو جیسے ڈیزائن والی جائے نماز اور نمازی اس کا تدارک کئے بغیر نماز شروع کر دے، تو نماز مکروہ تحریمی ہو گی یا تنزیہی؟
جواب: وقت ایسا گزرجائے کہ اس پورے وقت میں وضو توڑنے والی کوئی چیز مثلا ریح کا خارج ہونا،اس طرح مسلسل پایا جائے کہ اسے اتنا وقت بھی نہ ملے کہ وہ وضو کرکے فر...