عورت کا سوتیلے بھتیجے کے ساتھ عمرے پر جانا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
عورت کا سوتیلے بھتیجے کے ساتھ عمرےپہ جانا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
بھتیجا چاہے سگا ہو، یا سوتیلا یعنی باپ شریک بھائی کا بیٹا ہو یا ماں شریک بھائی کا بیٹا، وہ محرم ہے اور اس سے ہمیشہ ہمیشہ نکاح حرام ہے، لہذا عورت اپنے سوتیلے بھتیجے کے ساتھ شرعی سفر کر سکتی ہے، جبکہ وہ بالغ ہو یا کم از کم مراہق (قریب البلوغ یعنی اسلامی مہینوں کے اعتبار سے 12 سال کا)، اور اگر وہ مراہق بھی نہیں، تو پھر اس کے ساتھ شرعی سفر نہیں کرسکتی۔
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: پردہ صرف ان سے نادرست ہے جو بسبب نسب کے عورت پر ہمیشہ ہمیشہ کو حرام ہوں اور کبھی کسی حالت میں ان سے نکاح ناممکن ہو جیسے باپ، دادا، نانا، بھائی، بھتیجا، بھانجا، چچا، ماموں، بیٹا، پوتا، نواسا۔ (فتاوی رضویہ، ج 22، ص 235، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: جزئیت کے بارے میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اپنی فرع اور اپنی اصل کتنی بعید ہو مطلقاً حرام ہے اور اپنی اصل قریب کی فرع اگرچہ بعید ہو حرام ہے، اور اپنی اصل بعید کی فرع بعید حلال،اپنی فرع جیسے بیٹی پوتی نواسی کتنی ہی دور ہو اور اصل ماں دادی نانی کتنی ہی بلند ہو اور اصل قریب کی فرع یعنی اپنی ماں اور باپ کی اولاد یا اولا د کی اولاد کتنی ہی بعید ہو اور اصل بعید کی فرع قریب جیسے اپنے دادا، پردادا، نانا، دادی، پردادی، نانی، پرنانی کی بیٹیاں یہ سب حرام ہیں، اور اصل بعید کی فرع بعید جیسے انہی اشخاص مذکورہ آخر کی پوتیاں نواسیاں جو اپنی اصل قریب کی فرع نہ ہوں حلال ہیں۔ ۔ ۔ نقایہ میں ہے: حرم علی المرء اصلہ و فرعہ و فرع اصلہ القریب و صلبیۃ اصلہ البعید۔ (ترجمہ: مرد پر اس کے اصول و فروع، اصل قریب کی فرع اور اصل بعید کی صلبی بیٹیاں حرام ہیں۔) (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 516، 517، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فتاوی ہندیہ میں ہے "يشترط أن يكون مأمونا عاقلا بالغا ۔ ۔ ۔ و المراهق كالبالغ۔ ۔ ۔ و لا عبرة للصبي الذي لا يحتلم و المجنون الذي لا يفيق" ترجمہ: (عورت کے لیےمحرم کے ساتھ سفر پہ جانے کی) شرط ہے کہ وہ امانت دار، عاقل و بالغ ہو۔ اور مراہق (قریب البلوغ) بھی بالغ کے حکم میں ہے۔ جبکہ ایسے نابالغ بچے کا اعتبار نہیں جو ابھی بلوغت کو نہ پہنچا ہو، اور نہ ہی ایسے مجنون کا جسے کبھی افاقہ نہ ہوتا ہو۔ ( فتاوی ہندیہ، جلد 1، صفحہ 219، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے "شوہر یا محرم جس کے ساتھ سفر کرسکتی ہے اُس کا عاقل بالغ غیر فاسق ہونا شرط ہے۔ ۔ ۔ مراہق و مراہقہ یعنی لڑکا اور لڑکی جو بالغ ہونے کے قریب ہو ں بالغ کے حکم میں ہیں یعنی مراہق کے ساتھ جاسکتی ہے اور مراہقہ کو بھی بغیر محرم یا شوہر کے سفر کی ممانعت ہے۔" (بہار شریعت، ج 1، حصہ 6، ص 1044، 1045،مکتبۃ المدینہ، کراچی)
مراہق کی عمر کے متعلق ردالمحتار میں ہے "أنه لا بد ۔ ۔ ۔ من سن المراهقة وأقله ۔ ۔ ۔ للذكر اثنا عشر؛ لأن ذلك أقل مدة يمكن فيها البلوغ" ترجمہ: اس کا مراہق کی عمر تک پہنچنا ضروری ہے، لڑکے کے لیے اس کی کم از کم عمر بارہ سال ہے؛ کیونکہ یہی سب سے کم عمر ہے کہ جس میں بلوغ ممکن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 4، صفحہ 118، مطبوعہ: کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے مراہق یعنی وہ لڑکا کہ ہنوز بالغ نہ ہوا مگر اس کے ہم عمر بالغ ہوگئے ہوں، اس کی مقدار بارہ برس کی عمر ہے۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 7، صفحہ 25، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد بلال عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5252
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر 1448ھ / 06 اگست 2026ء