غسل فرض ہونے کی حالت میں دودھ پلانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
غسل فرض ہونے کی صورت میں دودھ پلانا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جنابت کی وجہ سے غسل فرض ہو تو کیا عورت اس حالت میں اپنے بچے کو دودھ پلا سکتی ہے یا نہیں ؟
جواب
جنابت نجاستِ حقیقیہ نہیں، بلکہ حکمیہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ نے اس حالت میں نماز، قرآنِ پاک کی تلاوت، دخولِ مسجد وغیرہ مخصوص امور سے ممانعت فرمائی ہے۔ اس کے علاوہ جُنبی کا پسینہ، لُعاب وغیرہ پاک ہی رہتے ہیں، لہٰذا غسل فرض ہونے کی حالت میں بھی عورت کا دودھ پاک ہے اور اس حالت میں بچہ کو پلانا بھی جائز ہے کہ اس کے لئے طہارت ضَروری نہیں ہے۔
تنبیہ: یاد رہے کہ جس پر غسل فرض ہو، اسے چاہیے کہ نہانے میں تاخیر نہ کرے، اگر فی الوقت غسل نہیں کرتا تو کم از کم اسے وضو کر لینا چاہیے، کیونکہ فرشتے جُنبی شخص کے قریب نہیں آتے۔ لیکن یہ جلدی غسل کرنا یا وضو کرنا فرض یا واجب نہیں، بلکہ مستحب ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص بلاوجہ غسل میں تاخیر بھی کرے تو گنہگار نہیں ہوگا۔ ہاں اتنی تاخیر کہ جس سے نماز کا وقت نکل جائے یا مکروہ تحریمی وقت شروع ہو جائے بلاشبہ ناجائز ہے، اتنی تاخیر سے ضَرور گنہگار ہوگا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Book-209