عمرہ کے بعد تاخیر سے تقصیر کروانے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد تھوڑی تاخیر سے قصر کروائی تو کیا حکم ہے
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک خاتون نے عمرہ کرلیا اور قینچی نہ ملنے کی وجہ سے اس وقت تقصیر نہیں کروائی، بلکہ تقریباً دو گھنٹے بعد میں کروائی، تو اس خاتون کے لیے کیا حکم ہے؟
جواب
عمرے کے بعد عورت پر تقصیر واجب ہے اور یہ بھی واجب ہے کہ تقصیر حدودِ حرم میں ہو جب تک تقصیر نہ کرلے اس وقت تک احرام کی پابندیاں باقی رہتی ہیں ،لہٰذا اگر تقصیر سے پہلے احرام کے خلاف کوئی کام کیا یا تقصیر حرم سے باہَر کی تو دَم وغیرہ واجب ہوگا۔ ہاں تقصیر فوراً واجب نہیں بلکہ تاخیر سے کرے تب بھی واجب ادا ہوجائے گا، لہٰذا اگر کسی سبب سے تاخیر کی مگر پھر تقصیر حدود حرم ہی میں کرلی اور اس دوران کوئی جنایت بھی نہیں کی تو کوئی حرج نہیں،دَم وغیرہ کچھ بھی لازم نہیں ہوگا۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2405
تاریخ اجرا: 21صفرالمظفر1447ھ/16اگست2025ء