استحاضہ کسے کہتے ہیں اور اس حالت میں نماز کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
استحاضہ کی تعریف اور حالتِ استحاضہ میں نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
حیض ( ماہواری) اور نفاس (بچے کی پیدائش کے بعد آنے والے خون) کے علاوہ عورت کے رحم سے آنے والے خون کو استحاضہ کہتے ہیں۔ جس عورت کے بارے میں شرعی اصول و ضوابط کے مطابق یہ ثابت ہوجائے کہ اسے آنے والا خون استحاضہ ہے، اسے مستحاضہ کہتے ہیں۔ استحاضہ والی عورت نماز، روزہ اور دیگر عبادات ادا کرے گی، کیونکہ استحاضہ کے احکام حیض و نفاس کے احکام سے مختلف ہیں۔ استحاضہ کی وجہ سے نہ نماز معاف ہوتی ہے اور نہ روزہ اور نہ ہی ایسی عورت کو ازدواجی معاملات کرنا گناہ ہے۔ نیز استحاضہ کا خون حدثِ اصغر کے حکم میں ہے، یعنی خون جاری ہونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، لیکن استحاضہ کی وجہ سے غسلِ جنابت کی طرح غسل لازم نہیں ہوتا۔ البتہ استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد غسل کرنا مستحب ہے۔
نیز اگر استحاضہ اس حد تک مسلسل جاری رہے کہ عورت کو اتنی مہلت بھی نہ ملے کہ نماز کے ایک وقت میں وہ وضو کر کے فرض نماز ادا کرسکے، اور نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جائے، تو ایسی عورت شرعی معذور شمار ہوگی۔ پھر اس کے لیے ایک وضو سے اس نماز کے وقت میں جتنی نمازیں چاہے، پڑھنا جائز ہوگا، اور اس دوران استحاضہ کا خون آنے سے اس کا وضو نہیں ٹوٹے گا، البتہ اگلی نماز کا وقت شروع ہونے پر نیا وضو کرنا ہوگا۔
مستحاضہ کے احکام کے متعلق امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ ایک حدیث پاک روایت کرتے ہیں: ”أنه قال في المستحاضة: تدع الصلاة أيام أقرائها التي كانت تحيض فيها، ثم تغتسل و تتوضأ عند كل صلاة و تصوم و تصلي“ ترجمہ: بے شک نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے مستحاضہ عورت کے بارے میں فرمایا: وہ اپنے حیض کے مقررہ ایام میں نماز چھوڑ دے، جن دنوں میں اسے حیض آتا تھا، پھر غسل کرے اور ہر نماز کے لیے وضو کرے، روزہ رکھے اور نماز ادا کرے۔ (سنن الترمذی، جلد 01، صفحہ 168، مطبوعہ دار الغرب الاسلامی، بیروت)
علامہ ابنِ عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”و اما الاستحاضۃ فحدث اصغر کالرعاف“ ترجمہ: بہر حال استحاضہ، تو وہ نکسیر کی طرح حدثِ اصغر ہے۔ (منھل الواردین من مجموعۃ رسائل ابن عابدین، صفحہ 185، مطبوعہ بیروت)
علامہ شُرُنبلالی حنفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”تتوضأ المستحاضة و من به عذر: كسلس بول و استطلاق بطن لوقت كل فرض و يصلون به ما شاء و من الفرائض و النوافل“ ترجمہ: مستحاضہ عورت اور وہ شخص جسے کوئی شرعی عذر لاحق ہو، مثلاً پیشاب کے قطرے جاری رہنے یا دست آنے کی بیماری ہو، ہر فرض نماز کے وقت وضو کرے گا اور اس وضو سے جتنی چاہے فرض اور نفل نمازیں ادا کر سکتا ہے۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 97، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”دمِ استحاضہ پیشاب کے مقام سے نکلتا ہے اور یہ غیر معتاد ہے اور ناقضِ وضو ہے“ (نزھۃ القاری، جلد 1، صفحہ 691، فرید بک اسٹال، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: ”استحاضہ کا خون بند ہونے کے بعد، نماز کسوف و خسوف و اِسْتِسقاء اور خوف و تاریکی اور سَخْت آندھی کے لیے اور بدن پر نَجاست لگی اور یہ معلوم نہ ہوا کہ کس جگہ ہے، ان سب کے لیے غُسل مستحب ہے۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2، صفحہ 325، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اسی میں ہے: ”اِستحاضہ میں نہ نماز معاف ہے نہ روزہ، نہ ایسی عورت سے صحبت حرام۔ اِستحاضہ اگر اس حد تک پہنچ گیا کہ اس کو اتنی مہلت نہیں ملتی کہ وُضو کر کے فرض نماز ادا کر سکے تو نماز کا پورا ایک وقت شروع سے آخر تک اسی حالت میں گزر جانے پر اس کو معذور کہا جائیگا ،ایک وُضو سے اس وقت میں جتنی نمازیں چاہے پڑھے، خون آنے سے اس کا و ضو نہ جائے گا۔ (بہار شریعت،جلد 01،حصہ 02،صفحہ 385،مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
نوٹ: استحاضہ کاخون ناپاک ضرور ہوتا ہے اور جسم یا کپڑوں کے جس حصے پر لگے اسے بھی ناپاک کر دیتا ہے، لہذا کپڑے یا بدن کے جس حصے پر خون لگا ہو، عورت جسم اور کپڑوں کے اس حصے کو پاک کر نے کے بعدصرف وضو کرکے بھی نماز ادا کر سکتی ہے، البتہ بعض صورتوں میں کپڑوں کے معاملے میں بھی رخصت ہوتی ہے، لیکن اس کی بہت ہی کم صورتیں پائی جاتی ہیں، اگر کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش ہو تو وہ اپنی خاص کیفیت بتا کر رہنمائی حاصل کرے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-001
تاریخ اجراء: 18 ربیع الاول 1448ھ / 01 ستمبر 2026ء