حیض بند ہونے کی عمر نیز اس عمر کے بعد خون آنے کا حکم

عورت کو حیض آنا کب بند ہوجاتا ہے؟ اس عمر کے بعد بھی خون آئے تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اھلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتےہیں علمائےدین و مفتیانِ شرعِ متین اس بارےمیں کہ عورت کو کس عمر میں حیض آنا بند ہوتا ہے؟ اگر اس کے بعد بھی کسی عورت کو خون آئے، تو اسے حیض شمار کریں گے یا نہیں؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

عورت پچپن (55) سال کی عمر کو پہنچ جائے، تو عموماً اُسے حیض آنا ختم ہوجاتا ہے، اس عمر والی عورت کو ”آئسہ“ اور اس عمر کو ” سن ایاس “ کہتے ہیں۔ بنیادی طور پر اس بارے میں دو آراء ہیں:

(۱) اس کی کوئی خاص عمر مقرر نہیں، بلکہ مختلف علاقوں، مختلف جسمانی کیفیات کے اعتبارسے مختلف عورتوں کے اعتبار سے سنِ ایاس کی عمر مختلف ہوسکتی ہے اور اس میں عورت کی سنِ ایاس کا اندازہ اس کے ساتھ والیوں میں سے اس جیسی خواتین کے ساتھ کیا جائے گایعنی اس کی طرح کی خواتین کو جس عمر میں حیض آنا ختم ہوتا ہے، اُس کے لیے وہ عمر سن ایاس قرار پائے گی۔

(۲) سن ایاس کی عمر مخصوص و مقرر ہو گی، اکثر فقہائے کرام کی یہی رائے ہیں، لیکن اس کے لیے کتنی عمر مقرر ہے، اس میں کئی اقوال ہیں:

* 50سال * 55 سال *60 سال * 62 سال * 70 سال

اس کے علاوہ بھی اقوال موجود ہیں، لیکن ان سب اقوال میں سے راجح قول 55 سال والا ہے کہ اسے الفاظِ فتوی (علیہ الفتوی و الاعتماد علیہ ) کے ساتھ نقل کیا گیا اوریہی اکثر مشائخ کرام کا مختار مذہب ہے اور یہ بھی حقیقت میں تجربے پر مبنی عمومی حکم ہی ہے کہ اکثر کے لئے یہی عمر حیض کے اختتام کی ہوتی ہے ورنہ اس کے بعد بھی حیض جاری رہنا یقینا ممکن ہے۔

اللہ تعالیٰ نے عدت کے بیان میں سنِ ایاس والی عورتوں کا ذکریوں فرمایا:

﴿وَ اللَّائِي یَىٕسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآىٕكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ﴾

ترجمہ کنز العرفان: اور تمہاری عورتوں میں جنہیں حیض کی امید نہ رہی، اگر تمہیں کچھ شک ہو، تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ (پارہ 28، سورۃ الطلاق، آیت 4)

اس کے تحت تفسیر مظہری میں ہے:

”یعنی القواعد اللاتي قعدن عن الحيض فلا يرجى أن يحضن وهن العجائز الآيسات من الحيض“

ترجمہ: یعنی وہ بوڑھی عورتیں جنہیں حیض آنا بند ہو گیا کہ انہیں حیض آنے کی امید نہ رہی، وہ بوڑھی عورتیں آئسہ / حیض سے ناامید قرار پاتی ہیں۔ (تفسیر الخازن، ج 4، ص 308، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

سنِ ایاس کی حدبندی کے متعلق اختلاف ہے۔ چنانچہ الاختیار لتعلیل المختار میں ہے:

و اختلف اصحابنا فی حد الایاس قال بعضھم یعتبر باقرانھا من قرابتھا و قیل یعتبر بترکیبھا لانہ یختلف بالسمن و الھزال و عن محمد انہ قدرہ بستین سنۃ و عنہ فی الرومیات بخمس و خمسین و فی المولدات ستین و قیل خمسین سنۃ

ترجمہ: ایاس کی حد بندی میں ہمارے اصحاب کا اختلاف ہے، بعض نے فرمایا کہ اس معاملے میں اس کے ساتھ والی رشتہ دار خواتین کااعتبار کیا جائے گا اور یہ کہا گیا کہ اس کے جسم کی ہیئت و جسامت کا اعتبار کیا جائے گا، کیونکہ یہ معاملہ موٹے اور پتلےہونے کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے روایت ہے کہ انہوں نے سن ایاس کے لیے ساٹھ سال کی عمر مقرر کی ہے اور ان ہی سے رومیات میں پچپن سال مروی ہے اور مولدات میں ساٹھ سال مروی ہےاور پچاس سال کا بھی کہا گیا۔ (الاختیار لتعلیل المختار، ج 3، ص 176، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

پچپن(55) سال والا قول مفتی بہ و معتمد علیہ ہےنیز یہی اکثر مشائخ کا مختار مذہب ہے۔ جیسا کہ تبیین الحقائق میں ہے:

تفسیر من لم یقدر الایاس ظاھر و ھو ان تبلغ حدا لا یحیض فیہ مثلھا و ذلک یعرف بالاجتھاد و اما علی قول من قدر قدرہ فقد اختلفوا فیہ فقال بعضھم ستون سنۃ و قال الصفار سبعون سنۃ و قال الصدر الشھید خمس و خمسون سنۃ و علیہ اکثر المشائخ و فی المنافع و علیہ الفتوی

ترجمہ: جن فقہاء نے سن ایاس کی کوئی مدت مقرر نہیں کی، ان کے قول کی تفسیر ظاہر ہے اور یہ ہے کہ عورت عمر کے اس حصے کو پہنچ جائے کہ اس جیسی عورتوں کو حیض نہ آتا ہو اور یہ اجتہاد (غور و فکر) سے معلوم ہو سکتا ہے اور جن فقہاء نے اس کی مدت مقرر کی ہے، ان کا اس کی حد بندی میں اختلاف ہے، ان میں سے بعض نے سن ایاس کی عمر کے متعلق فرمایا کہ ساٹھ سال ہے اور امام صفارنے فرمایا : ستر سال اور صدر شہید نے فرمایا پچپن سال اور اسی پر اکثر مشائخ ہیں اور منافع میں ہے کہ اسی پر فتوی ہے۔ (تبیین الحقائق، ج 3، ص 29،مطبوعہ القاھرۃ)

الجوہرۃ النیرۃ میں ہے:

و اختلفوا فی مدۃ الایاس قال بعضھم ستون سنۃ و قیل سبعون و فی النھایۃ الاعتماد علی خمس و خمسین سنۃ و الیہ ذھب اکثر المشائخ المتاخرین و عند الشافعی اثنان و ستون سنۃ

ترجمہ: سن ایاس کی مدت کے بارے میں فقہاء کا اختلاف ہے ، ان میں سے بعض نے فرمایا کہ ساٹھ سال ہے اور کہا گیا کہ ستر سال اور نہایہ میں ہے کہ اعتماد اس پر ہے کہ سن ایاس کی عمر پچپن سال ہے اور اسی طرف اکثر متاخرین مشائخ گئے اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک اس کی عمر باسٹھ سال ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، ج 2، ص 76، المطبعۃ الخیریۃ)

”علیہ الفتوی و الاعتماد علیہ“ الفاظِ فتوی میں سے ہیں۔ چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمۃ اللہ علیہ علاماتِ فتوی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

و فی اول "المضمرات "اما العلامات للافتاء فقولہ:۔۔۔۔ و علیہ الفتوی، و بہ یفتی، و بہ ناخذ،و علیہ الاعتماد

ترجمہ: مضمرات کی ابتداء میں ہے، بہرحال افتا کی علامات، تو وہ فقہاء کا یہ قول ہے: اسی پر فتوی ہے، اسی پر فتوی دیا جائے گا،اسی کو ہم لیتے ہیں،اسی پر اعتماد ہے۔‘‘(شرح عقود رسم المفتی، صفحہ 184، دار النور للتحقیق و التصنیف، کراچی)

(2) اگر کوئی عورت پچپن سال کی عمر کے بعد بھی خون دیکھے، تواس کی دوصورتیں ہیں:

(۱) اگروہ خالص خون ہو یعنی کالا یاسرخ ہو یا اس کا رنگ اسی خون کی طرح ہو جیسا اُسے سنِ ایاس سے پہلے آتا تھا، تو اُس پہ حیض والا حکم ہو گا ۔

(۲) اگر وہ خون خالص نہیں، نہ ہی اُس کا رنگ سن ایاس سے پہلے آنے والے خون کی طرح ہو، تو اُس پہ حیض والا حکم نہیں لگے گا۔

درمختار میں ہے:

(و ما راتہ بعدھا فلیس بحیض فی ظاھر المذھب) الا اذا کان دما خالصا فحیض

ترجمہ: اور عورت نے جوخون اس مدت(سنِ ایاس ) کے بعد دیکھا ، وہ ظاہر مذہب کے مطابق وہ حیض نہیں ہو گا، مگر جب وہ خالص خون ہو، تو وہ حیض کہلائے گا۔ (درمختار، ج 1، ص 553، مطبوعہ پشاور)

اس کے تحت رد المحتار میں ہے:

(دما خالصا)ای کالاسود و الاحمر۔۔۔ لو لم یکن خالصا و کانت عادتھا کذلک قبل الایاس یکون حیضا

ترجمہ: خالص خون ہو یعنی کالا اور سرخ ہو۔۔۔۔ اگر خالص خون نہ ہو اور ایاس سے پہلے اسے عادتاً ایسا خون آتا تھا، تو (بھی) وہ حیض قرار پائے گا۔ (رد المحتار، ج 1، ص 553، مطبوعہ پشاور)

صدر الشریعۃ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”نو برس کی عمر سے پیشتر جو خون آئے، استحاضہ ہے، یوہیں پچپن سال کی عمر کے بعد جوخون آئے،۔ ہاں! پچھلی صورت میں اگر خالص خون آئے یا جیسا پہلے آتا تھا، اسی رنگ کا آیا، تو حیض ہے۔“ (بھارِ شریعت، ج 1، حصہ 2، ص 373، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: Pin-7588

تاریخ اجراء: 18 ذو القعدۃ الحرام 1446ھ / 16 مئی 2025ء