logo logo
AI Search

کیا عورت حیض میں چار قل پڑھ سکتی ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیض کی حالت میں عورت کا چاروں قل پڑھنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیافرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کےبارے میں کہ کیا عورت مخصوص ایام میں چہار قل پڑھ سکتی ہے؟

جواب

تلاوتِ قرآنِ کریم کی نیت سے ایامِ مخصوصہ میں چہار قل پڑھنا جائز نہیں، کیونکہ ایامِ مخصوصہ میں عورت کے لئے قرآنِ کریم کی تلاوت حرام ہے، البتہ قرآنِ کریم کی ایسی آیات جو دعا، ذکر یا ثناء کے معانی پر مشتمل ہوں اور متکلم کے صیغے کے ساتھ نہ ہوں، تو ان کو تلاوتِ قرآن کی نیت کئے بغیر، محض ذکر، دعا یا ثناء کے ارادے سے پڑھا جا سکتا ہے، لہذا آخری تینوں قل شریف (سورۂ اخلاص، فلق اور ناس) کو ایامِ مخصوصہ میں لفظِ ”قل“ کے بغیر،دعا و ثناء کی نیت سے پڑھنا چاہیں، تو اس کی اجازت ہے، جبکہ سورۂ کافرون ان معانی پر مشتمل نہ ہونے کی وجہ سے قرآنیت (تلاوتِ قرآن ہونے) کے لئے متعین ہے، تو اس کو ناپاکی کی حالت میں پڑھنا بہر صورت جائز نہیں۔

چنانچہ سننِ ترمذی اور متعدد دیگر کتبِ حدیث میں بھی ہے:

عن ابن عمر، عن النبي صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم قال: لا تقرأ الحائض و لا الجنب شيئا من القرآن

ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالی عنہما نبیِ پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: حائضہ عورت یا جنبی شخص، قرآنِ پاک میں سے کچھ بھی نہ پڑھے۔ (سنن ترمذی، جلد 1، صفحہ 170، مطبوعہ دار الغرب، بیروت)

حائضہ کے لئے قرآنِ مجید کو بقصدِ تلاوت پڑھنے کے متعلق در مختار میں ہے:

(و) يحرم به (تلاوة قرآن) و لو دون آية المختار (بقصده)

ترجمہ: اور اس (یعنی جنبی وحائضہ) کے لیے قرآن کی نیت سے قرآن پڑھنا حرام ہے، مختار قول کے مطابق اگرچہ ایک آیت سے کم بھی پڑھے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، صفحہ 29، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: حیض و نِفاس والی عورت کو قرآنِ مجید پڑھنا دیکھ کر، یا زبانی اور اس کا چھونا اگرچہ اس کی جلد یا چولی یا حاشیہ کو ہاتھ یا انگلی کی نوک یا بدن کا کوئی حصہ لگے یہ سب حرام ہیں۔  (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 2،صفحہ 379، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

حائضہ عورت کے لئے دعا و ثناء کی نیت سے قرآنی آیات پڑھنا مخصوص شرائط کے ساتھ جائز ہے، چنانچہ در مختار میں ہے:

فلو قصد الدعاء أو الثناء أو افتتاح أمر أو التعليم ولقن كلمة كلمةحل

ترجمہ: اگر دعا اور ثنا کی نیت سے یا کسی کام کے آغاز میں (حصولِ برکت کی نیت سے) پڑھے یا تعلیم کی نیت سے کلمہ کلمہ کر کے پڑھائے، تو یہ جائز ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، صفحہ 29، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

اس صورت میں بھی محض ان آیاتِ ثناء کو پڑھ سکتے ہیں کہ جن میں صیغہ متکلم نہ ہو، چنانچہ امامِ اہلسنت اما م احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن لکھتے ہیں: تمام کتب میں آیات ثنا کو مطلق چھوڑا اور اس میں ایک قید ضروری ہے کہ ضروری یعنی بدیہی ہونے کے سبب علما نے ذکر نہ فرمائی وہ آیات ثنا جن میں رب عزوجل نے بصیغہ متکلم اپنی حمد فرمائی جیسے

و انی لغفار لمن تاب

ان کو بنیت ثنا بھی پڑھنا حرام ہے کہ وہ قرآنیت کے لئے متعین ہیں بندہ انہیں میں انشائے ثنا کی نیت کر سکتا ہے جن میں ثنا بصیغہ غیبت یا خطاب ہے۔ (فتاوٰی رضویہ،جلد 01، صفحہ 1113، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آخری تینوں قل کو دعا و ثناء کے معانی پر مشتمل ہونے کی وجہ سے لفظِ ”قل“ کے بغیر دعا و ثناء کی نیت سے پڑھا جا سکتا ہے، چنانچہ فتاوی رضویہ شریف میں ہے: بعض آیتیں یا سورتیں ایسی ہی دعا و ثنا ہیں کہ بندہ ان کی انشا کرسکتا ہے بلکہ بندہ کو اسی لئے تعلیم فرمائی گئی ہیں مگر اُن کے آغاز میں لفظ قل ہے جیسے تینوں قل اور کریمہ

قل اللّٰھم مٰلک الملک

ان میں سے یہ لفظ چھوڑ کر پڑھے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 01، صفحہ 1114، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہارِ شریعت میں ہے: یوہیں تینوں قل بلا لفظ قل بہ نیتِ ثنا پڑھ سکتا ہے اور لفظِ قُل کے ساتھ نہیں پڑھ سکتا اگرچہ بہ نیت ثنا ہی ہو کہ اس صورت میں ان کا قرآن ہونا متعین ہے نیت کو کچھ دخل نہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 326، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

سورۂ کافرون، چونکہ دعا و ثناء وغیرہ پر مشتمل نہیں، لہذا ایسی سورتوں اور آیات کے متعلق فتاوی رضویہ شریف میں ہے: جن آیات میں بندہ دعا وثنا کی نیت نہیں کرسکتا بحال جنابت و حیض انہیں بطور عمل بھی نہیں پڑھ سکتا۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 01، صفحہ 1115، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9640
تاریخ اجراء: 30 جمادی الاولی 1447ھ/22 نومبر 2025ء