ماہواری میں بلا احرام مدینہ سے مکہ جانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ماہواری کی حالت میں مدینہ شریف سے ایک دن کے لئے مکہ آنا ہو، تو کیا حکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی عورت مدینہ منورہ میں ہے اسے ماہواری آئی ہے، جس سے وہ پانچ دن بعد پاک ہوگی، ابھی اسے مکہ جانا ہے اور وہاں ایک دن ہی ٹھہر کر پھر پاکستان جانا ہے، ایسی صورت میں وہ عورت ماہواری کی حالت میں بلا احرام مکہ جا سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی عورت مدینۃ المنورہ سے براہ راست مکہ مکرمہ آئے تو اس صورت میں میقات عبور کرنے سے پہلے احرام باندھنا یعنی احرام کی نیت سے تلبیہ وغیرہ پڑھ لینا ضروری ہے، احرام کے بغیر میقات عبور کیا تو دَم لازم ہوگا، اور ایسا کرنے کی وجہ سے گناہ گار بھی ہوگی۔ نیز حالتِ حیض میں احرام باندھنے میں تو حرج نہیں، البتہ ایسی حالت میں عمرہ کاطواف نہیں کرے گی بلکہ پاک ہونے کا انتظار کرے گی۔

لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر عورت کو معلوم ہے کہ مکہ مکرمہ آنے کے بعد وہاں اتنا وقت ملے گا کہ پاکی کے بعد عمرہ ادا کرلے گی تو مدینہ منورہ سے مکہ مکرمہ آتے ہوئے حالتِ احرام میں ہی میقات سے گزرے، اور پھر پاک ہونے کے بعد عمرہ ادا کرلے۔

البتہ اگر مکہ مکرمہ آنے کے بعد وہاں ایک دن ہی ٹھہرنا ہے اور اتنے دنوں میں پاک ہونے کی امید نہیں تو معلم وغیرہ کو اعتماد میں لے کر عورت اپنے گھر کے افراد کے ساتھ بقیہ ایک دن بھی مدینہ منورہ میں ہی گزار لے، ایک دن کے لیے کم اخرجات میں کوئی ہوٹل با آسانی مل سکتا ہے، پھر مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے بغیر مدینہ منورہ سے ہی اپنے طور پر گاڑی وغیرہ کے ذریعہ براہ راست جدہ ائیر پورٹ پر اپنے محرم کے ساتھ چلی جائے، اور وطن واپس آجائے۔

بعض اوقات مخصوص ایام کی وجہ سے خواتین آزمائش کا شکار ہوجاتی ہیں، ایسی صورت حال سے بچنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اس کے متعلق محقق اہل سنت مفتی علی اصغر عطاری دامت برکاتہم العالیہ اپنی کتاب 27 واجبات حج میں چند مفید مشورے تحریر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (1)عمرے کا ایسا پیکیج منتخب کریں جس میں آپ کو مکۂ مکرمہ صرف ایک بار جانا پڑے۔ فی الوقت ایسے پیکیجز کی کثرت ہے جس میں پہلے مکۂ مکرمہ پھر مدینہ شریف اور پھر دوبارہ مکۂ مکرمہ وہاں سے جدّہ ائیر پورٹ کا شیڈول ہوتا ہے۔ یہاں خواتین کو دو مرتبہ مکۂ مکرمہ میقات کے باہر سے جانا پڑے گا تو پاکی ناپاکی کی صورت کا دو مرتبہ خیال رکھنا پڑے گا اور دِقت و دشواری بڑھے گی۔ (2) ٹکٹ بک کرتے وقت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ابتدائے سفر میں ناپاکی کے ایام نہ ہوں۔ اگر دشواری ہو تو براہ راست مکۂ مکرمہ جانے کے بجائے مدینہ منورہ کی فلائٹ بک کروائی جائے اور اس میں بھی اتنا موقع ملنا چاہیے کہ عورت پاک ہو جائے اور مسجدِ نبوی شریف میں کم از کم ایک بار حاضر ہو کر بارگاہِ رسالت میں حاضری کی سعادت پالے۔ (3) اگر عمرہ کر کے مدینہ منورہ آگئے تھے اب دوبارہ دو چار دن کے لئے مکہ شریف جانا ہے لیکن گھر میں سے کسی خاتون کی پاکی کا مسئلہ ہے تو تھوڑی سی کوشش کر کے یہ بقایا دن مدینہ منورہ ہی میں گزارے جا سکتے ہیں سستا ہوٹل بہ آسانی مل سکتا ہے یہاں سے اپنے طور پر براہِ راست جدّہ کی گاڑی کرکے جدّہ ائیر پورٹ پر پہنچا جاسکتا ہے۔ چار افراد بمع سامان بآسانی سیون سیٹر گاڑی میں جا سکتے ہیں۔ جدّہ کے لئے رُوٹ کی بسیں بھی جاتی ہیں وہ اور زیادہ سستی ہوتی ہیں۔ لیکن معلّم کو اعتماد میں لینا ہوگا تا کہ وہ مدینہ منورہ میں پاسپورٹ حوالے کر دے۔ (4) اگر پیکیج ایسا لیا ہو کہ مدینہ ائیرپورٹ سے ہی واپسی ہونی ہے تو اس میں کئی اعتبار سے آسانی ہوتی ہے اس لئے کہ مکۂ مکرمہ میں عوامی ائیر پورٹ نہیں ہے اس کے لئے تقریباً 80 کلو میٹر جدّہ شہر تک پھر 20 سے زائد کلو میٹر شہر کے اندر سفر کرکے ائیر پورٹ پہنچنا ہوتا ہے اور جدّہ ائیر پورٹ پر رَش بھی زیادہ ہوتا ہے اور گاڑی بھی بسا اوقات بہت دور اُتارتی ہے تو سامان کے ساتھ دشواری بڑھ جاتی ہے۔ (27 واجبات حج، ص 160 ۔ 162، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا فرحان احمد عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2315

تاریخ اجراء: 24رجب المرجب 1446ھ / 25 جنوری 2025ء