شوہر کی اجازت کے بغیر بچے کو دودھ پلانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی کے بچے کو شوہر کی اجازت کے بغیر دودھ پلانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

دودھ پلانے والی عورت اگر کسی دوسرے کے بچے کو دودھ پلائے، اور جس کے بچے کو دودھ پلائے، وہ رشتے دار ہو یا غیر رشتے دار، تو کیا دودھ پلانے والی کو لازم ہے کہ وہ اپنے شوہر سے اجازت طلب کر کے ہی دودھ پلائے؟

جواب

عورت کا اپنے بچے کے علاوہ کسی اور کے بچے کو، شوہر کی اجازت کے بغیر دودھ پلانا مکروہ ہے، لیکن اگر بھوک کی وجہ سے بچہ تڑپ رہا ہو، اور بچے کی ہلاکت کا اندیشہ ہو، تو ایسی صورت میں شوہر کی اجازت کے بغیر بھی دودھ پلاسکتی ہے، لیکن اس صورت میں یہ چاہیے کہ بچے کے والدین وغیرہ افراد کو بھی دودھ پلانے کا بتا دے، اور خود بھی یاد رکھے، تا کہ بعد میں نکاح وغیرہ کے معاملات میں پریشانی کا باعث نہ بنے۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے

و في البحر عن الخانية يكره للمرأة أن ترضع صبيا بلا إذن زوجها إلا إذا خافت هلاكه

ترجمہ: اور بحر میں خانیہ کے حوالے سے ہے کہ عورت کے لیے مکروہ ہے کہ وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر کسی بچے کو دودھ پلائے، سوائے یہ کہ بچے کی ہلاکت (جان جانے) کا اندیشہ ہو۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 4، ص 392، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے عورتوں کو چاہيے کہ بلاضرورت ہر بچہ کو دودھ نہ پلا دیا کریں اور پلائیں تو خود بھی یاد رکھیں اور لوگوں سے یہ بات کہہ بھی دیں، عورت کو بغیر اجازت شوہر کسی بچہ کو دودھ پلانا مکروہ ہے، البتہ اگر اس کے ہلاک کا اندیشہ ہے تو کراہت نہیں۔ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 7، ص 37، مکتبۃ المدینہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4580

تاریخ اجراء: 05 رجب المرجب 1447ھ / 26 دسمبر 2025ء