عورت کا غیر محرم رشتے داروں کو سلام کرنا کیسا؟

عورت جیٹھ دیور بہنوئی وغیرہ غیر محرم کو سلام کر سکتی ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ عورت کا اپنے گھر میں اپنے دیور، جیٹھ اور بہنوئی کو سلام کرنا جائز ہے یا نہیں؟ یونہی تعلیمی ادارے کے مرد ملازمین، سیکورٹی گارڈ وغیرہ کو سلام کرنا جائز ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

جوان عورت کا اجنبی مرد کو سلام کرنا شرعاً مکروہ و ممنوع ہے، کیونکہ اجنبی مرد و عورت کے درمیان سلام، بات چیت کی ابتداء بن جاتا ہے جو کہ رفتہ رفتہ باہمی بے تکلفی اور فتنہ و فساد کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ دیور، جیٹھ اور بہنوئی جیسے قریبی رشتہ داروں سے بلاضرورت کی بات چیت سے زیادہ ممانعت ہے، کیونکہ عموماً ان سے جان پہچان اور رشتہ داری کے باعث جھجک کم ہوتی ہے اور فتنے کا اندیشہ زیادہ۔ البتہ جہاں اجنبی گھریلو افراد جیسے دیور، جیٹھ اور بہنوئی وغیرہ کو سلام نہ کرنے سے آپس میں بلاوجہ کی رنجشیں اور بدگمانیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہو اور فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو وہاں ضرورتاً لوچ دار انداز، نرم آواز اور نزاکت والا لہجہ اپنائے بغیر انتہائی سادہ انداز میں عورت کو اُنہیں سلام کرنے کی شرعاً گنجائش ہوگی۔

عورت کو اجنبی غیر محرم کوسلام کرنے کی ممانعت سے متعلق فتح الباری شرح صحیح البخاری میں ہے:

و قال الكوفيون: لا يشرع للنساء ابتداء السلام على الرجال لأنهن منعن من الأذان و الإقامة و الجهر بالقراءة، قالوا: و يستثنى المحرم فيجوز لها السلام على محرمها

ترجمہ:اور کوفی فقہاء نے فرمایا: عورتوں کے لیے مردوں کو سلام کی ابتداء کرنا مشروع نہیں، کیونکہ انہیں اذان، اقامت اور اونچی آواز میں تلاوت سے منع کیا گیا ہے۔ اور انہوں نے کہا: محرم اس سے مستثنیٰ ہے، لہٰذا عورت اپنے محرم کو سلام کرسکتی ہے۔ (فتح الباری، جلد 11، صفحہ 34، مصر)

علامہ زين الدين ابن نجيم مصری رحمۃ اللہ علیہ’’ الاشباہ والنظائر ‘‘میں لکھتے ہیں:

و لا تبتدأ الشابة بسلام و تعزية

ترجمہ: نوجوان عورت سلام اور تعزیت کی ابتداء نہ کرے۔ (الاشباہ و النظائر، صفحہ 279،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

الاشباہ و النظائر کی شرح ’’غمز عیون البصائر‘‘ میں ہے:

سلام الشابة غير مسنون بل منهي عنه لما فيه من الفتنة

ترجمہ: جوان عورت کا (اجنبی مرد کو) سلام کرنا سنت نہیں، بلکہ فتنے کی وجہ سے اس کو سلام سے ممانعت کی گئی ہے۔ (غمز عیون البصائر فی شرح الاشباہ و النظائر، جلد 3، صفحہ 392،دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتح الباری شرح صحیح البخاری، التوضیح لشرح الجامع الصحیح، شرح النووی لمسلم، شرح المشکوٰۃ للطیبی،مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوۃ المصابیح میں ہے:

و اللفظ للمرقاۃ:  و أما المرأة مع الرجل، فإن كانت زوجته أو جاريته أو محرما من محارمه فهي معه كالرجل، و إن كانت أجنبية؛ فإن كانت جميلة يخاف الافتتان بها لا يسلم الرجل عليها و لو سلم لم يجز لها رد الجواب و لا تسلم عليه، فإن سلمت لم تستحق جوابا، فإن أجابها كره له، و إن كانت عجوزا لا يفتتن بها جاز أن تسلم على الرجل، و عليه الرد. قاله أبو سعيد المتولي قال: و إذا كان النساء جماعة فسلم عليهن الرجل، أو كان الرجال جمعا فسلموا على المرأة الواحدة جاز إذا لم يخف عليه و لا عليهن و لا عليها أو عليهم فتنة

ترجمہ: عورت کا مرد کے ساتھ (سلام کے بارے میں حکم) یہ ہے کہ اگر وہ اس کی بیوی، لونڈی یا اس کی محارم عورتوں میں سے محرم ہو تو و ہ اس کے ساتھ مرد کی طرح ہے( یعنی جو آپس میں دو مردوں کا حکم ہے یعنی دونوں میں سے ہر ایک کے لیے دوسرے کو سلام میں ابتدا کرنا مستحب ہے اور دوسرے پر اس کا جواب دینا واجب ہے) اور اگر وہ اجنبی عورت ہو، تو اگر وہ خوبصورت ہو اور اس سے فتنہ کا اندیشہ ہو تو مرد اس پر سلام نہ کرے، اور اگر سلام کرے تو اس کے لیے جواب دینا جائز نہیں، اور نہ وہ مرد پر سلام کرے، اور اگر سلام کرے تو جواب کی مستحق نہیں، اور اگر مرد (زبان سے) جواب دے تو یہ اس کے لیے مکروہ ہے۔ اور اگر وہ بوڑھی عورت ہو جس سے فتنہ کا اندیشہ نہ ہو، تو اس کے لیے مرد پر سلام کرنا اور مرد کے لیے اس کا جواب دینا جائز ہے۔ یہ ابو سعید متولی کا قول ہے۔ انہوں نے(مزید) فرمایا: اور اگر عورتیں ایک جماعت ہوں اور مرد ان سب کو سلام کرے، یا مرد ایک جماعت ہوں اور وہ کسی ایک عورت کو سلام کریں، تو یہ جائز ہے ،بشرطیکہ نہ ان سب عورتوں پر، نہ اکیلی عورت پر، یا نہ ان سب مردوں پر فتنہ کا اندیشہ ہو (ورنہ اگر کسی پر فتنے کا اندیشہ ہو، تو جائز نہیں)۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2939،دار الفكر، بيروت)

مرقاۃ المفاتیح میں ہی ہے:

قيل: و كثير من العلماء لم يكرهوا تسليم كل منهما على الآخر اهـ. و مهما قيل بالكراهة على ما هو الصحيح، فلم يثبت استحقاق الجواب

ترجمہ: کہا گیا ہے کہ بہت سے علما نے دونوں(مرد و عورت) میں سے ہر ایک کا دوسرے کو سلام کرنا مکروہ نہیں کہا۔ اورجبکہ صحیح قول کے مطابق کراہت کا قول کیا گیا ہے تو جواب کے مستحق ہونے کا ثبوت نہیں ہوا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 7، صفحہ 2945، دار الفكر، بيروت)

دیور، جیٹھ اور بہنوئی سے فتنے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے، چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ”جیٹھ، دیور، پھپا، خالو، چچا زاد، ماموں زاد پھپی زاد ، خالہ زاد بھائی سب لوگ عورت کے لئے محض اجنبی ہیں، بلکہ ان کاضرر نرے بیگانے شخص کے ضرر سے زائد ہے کہ محض غیر آدمی گھر میں آتے ہوئے ڈرے گا، اور یہ آپس کے میل جول کے باعث خوف نہیں رکھتے۔ عورت نرے اجنبی شخص سے دفعۃً میل نہیں کھا سکتی، اور ان سے لحاظ ٹوٹا ہوتاہے۔ لہٰذا جب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم نے غیر عورتوں کے پاس جانے کو منع فرمایا، ایک صحابی انصاری نے عرض کی: یا رسول اللہ ! جیٹھ دیور کے لئے کیا حکم ہے؟ فرمایا: الحموالموت، رواہ الحمد والبخاری عن عقبۃ بن عامر رضی اللہ تعالی عنہ جیٹھ دیور تو موت ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 217، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

اگر مرد کسی اجنبیہ عورت کو سلام کرے تو اگر مرد جوان ہو تو عورت کو حکم ہے کہ صرف دل میں جواب دے، چنانچہ رد المحتار علی الدر المختار میں ہے:

و إذا سلمت المرأة الأجنبية على رجل إن كانت عجوزا رد الرجل عليها السلام بلسانه بصوت تسمع، و إن كانت شابة رد عليها في نفسه، و كذا الرجل إذا سلم على امرأة أجنبية فالجواب فيه على العكس

ترجمہ: اور اگر کوئی اجنبیہ عورت مرد کو سلام کرے تو اگر وہ بوڑھی ہو تو مرد زبان سے اتنی آواز میں جواب دے کہ وہ سن لے، اور اگر وہ جوان ہو تو دل میں (یعنی زبان سے بغیر) جواب دے۔ اسی طرح اگر مرد نے کسی اجنبیہ عورت کو سلام کیا ہو تو اس کا حکم بھی یہی ہوگا (یعنی مرد بوڑھا ہو تو عورت اتنی آواز سے جواب دے کہ وہ سن لے،اور اگر مرد جوان ہو تو دل میں جواب دے)۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 9، صفحہ 609، دار المعرفۃ، بیروت)

ضرورتاً اجنبی مرد و عورت کے درمیان بات چیت کی اجازت دی گئی ہے، لہذا ضرورتاً سلام کرنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ لوچ دار انداز، نرم آواز اور نزاکت والا لہجہ نہ ہو۔ چنانچہ علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں فرماتے ہیں:

نجيز الكلام مع النّساء للأجانب و محاورتهنّ عند الحاجة إلى ذلك، و لا نجيز لهنّ رفع أصواتهنّ و لا تمطيطها و لا تليینها و تقطيعها لما في ذلك من استمالة الرّجال إليهنّ وَتحريك الشَهوَات منهم و من ھذا لم تجز ان تؤذن المراۃ

ترجمہ: ہم وقتِ ضرورت اجنبی عورتوں سے کلام اور بات چیت کو جائز قرار دیتے ہیں، اور ہم عورتوں کیلئے اپنی آوازیں بلند کرنے، اسےمخصوص میلان والے لہجے میں لمبا کرنے، اس میں نرم لہجہ اختیار کرنے اور اس میں طرز بنانے کی اجازت نہیں دیتے، کیونکہ ان سب باتوں میں مردوں کو اپنی طرف مائل کرنا اور ان کی شہوات کو ابھارنا ہے، اسی وجہ سے یہ جائز نہیں کہ عورت اذان دے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، مطلب فی ستر العورۃ، صفحہ 97، دار المعرفۃ، بیروت)

سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے فتاوی رضویہ میں سوال ہو ا کہ کتنے شخص ایسے ہیں جن سے عورتوں کو گفتگو کرنا اوران کو اپنی آواز سنانا جائز ہے؟ آپ رحمۃ اللہ علیہ نے جواب ارشاد فرمایا: ’’تمام محارم اور حاجت ہو اور اندیشہ فتنہ نہ ہو، نہ خلوت ہو تو پردہ کے اندر سے بعض نامحرم سے بھی۔ واللہ تعالٰی اعلم‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 22، صفحہ 243، رضافاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتویٰ نمبر: FAM-953

تاریخ اجراء: 27 ربیع الاخر1447ھ / 21 اکتوبر 2025ء