دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ ایسی خوشبو جس کی مہک پھیلتی ہو، عورت اگر ایسی خوشبو لگا کر گھر سے باہرجائے، تو کیا وہ گنہگار ہوگی ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
احادیثِ مبارکہ میں عورت کے لیے گھر سے نکلنے کا ادب یہی بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ خوشبو لگائے بغیر ہی گھر سے باہرنکلے، خوشبو لگا کر گھر سے باہر جانے کی عورت کو احادیث مبارکہ میں ممانعت فرمائی گئی ہے۔ لہذا عورت کا پھیلنے والی خوشبو لگا کر گھر سےباہر جانا، مکروہ وممنوع ہے۔ البتہ اگر کوئی عورت، مذموم قصد و ارادہ سے مثلاً: اجنبی مردوں کو متوجہ یا مائل کرنے کے ارادے سے ایسی خوشبو لگائے، تو اب وہ فاسقہ اور گنہگار بھی ہوگی، کیونکہ ایسے قصد والی عورت کو حدیث پاک میں زانیہ سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یاد رہے کہ گھر کے اندر جہاں سارے محرم ہوں، وہاں پر عورت جیسی چاہے، ہر طرح کی خوشبو لگا سکتی ہے، جبکہ غیرمحرم تک وہ خوشبو پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو۔
خوشبو لگائے بغیر گھر سے نکلنے کی ترغیب میں جو حدیث پاک ہے، اسے مسند امام احمد، سنن ابی داؤد اور دیگر کتبِ حدیث میں روایت کیا گیاہے:
”واللفظ لسنن ابی داؤد: لكن ليخرجن وهن تفلات“
ترجمہ: عورتیں گھر سے باہرجب نکلیں تو بغیرخوشبو لگائے ہوئے نکلیں۔ (سنن ابی داؤد، صفحہ185، حدیث نمبر 565، مطبوعہ بیروت)
حدیث پاک کے الفاظ ”وهن تفلات“ کے تحت امام علامہ بدر الدین عینی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”یقال: امراۃ تفلۃ اذا لم تطیب و نساء تفلات۔۔۔۔و التفل: الذی قد ترک استعمال الطیب“
ترجمہ: ”امراۃ تفلۃ“ اور ”نساء تفلات“ ان عورتوں کو کہا جاتا ہے، جو خوشبو کا استعمال نہ کریں۔۔۔۔اور ”التفل“ اس شخص کو کہا جاتا ہے جس نے خوشبو کا استعمال چھوڑدیا ہو۔ (شرح سنن ابی داؤد، جلد2، صفحہ219، مطبوعہ بیروت)
خوشبو لگا کر نکلنے کی ممانعت کے بارے میں صحیح مسلم شریف میں ہے:
”قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: أيما امرأة أصابت بخورا فلا تشهد معنا العشاء الآخرة“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کے کپڑوں میں بخور کی خوشبو بسی ہو، وہ ہمارے ساتھ عشاء میں حاضرنہ ہو۔ (الصحیح لمسلم، صفحہ219، حدیث نمبر 998، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت مراۃ المناجیح میں ہے: ”دھونی کی خوشبو کپڑوں میں نہایت معمولی بستی ہے، مگر اس پر بھی انہیں نکلنے سے منع کیا گیا۔“ (مراۃ المناجیح، جلد2، صفحہ155، مطبوعہ لاھور)
مذموم قصد سے خوشبو لگانے والی عورت کے بارے میں سنن ترمذی، مسند امام احمد، سنن ابی داؤد، سنن نسائی اور دیگر کتب حدیث کی روایت میں ہے:
”واللفظ للنسائی: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهی زانية“
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو عورت خوشبو لگائے اور لوگوں کے پاس سے اس لیے گزرے تاکہ لوگ اس کی خوشبو کی طرف متوجہ ہوں، تو یہ عورت، زانیہ(یعنی زنا کا سبب بننے والی) ہے۔ (سنن نسائی، صفحہ1143، حدیث نمبر5126، مطبوعہ بیروت)
اس حدیث پاک کے تحت التیسیر بشرح الجامع الصغیر میں علامہ زین الدین عبد الرؤوف مناوی رحمہ اللہ حدیث پاک کے الفاظ کی شرح یوں فرماتے ہیں:
”(إذا استعطرت المرأة) أی استعملت الطيب الظاهر ريحه (فمرت على القوم) الرجال (ليجدوا) أي لأجل أن يشموا (ريحها) أي ريح عطرها (فهي زانية) أی هی بسبب ذلك متعرضة للزنا ساعية فی أسبابه وفيه أن ذلك بالقصد المذكور كبيرة فتفسق به ويلزم الحاكم المنع منه“
ترجمہ: جب عورت ایسی خوشبو لگائے جس کی مہک پھیلنے والی ہو، پھر وہ مَردوں کے پاس سے اس لیے گزرے، تاکہ مرد اس کی خوشبو کی مہک کو محسوس کریں تو یہ عورت زنا اور زنا کے اسباب میں کوشش کرنے والی کہلائے گی۔ اس حدیث سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس قصد و ارادے کی وجہ سے یہ گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوگی اور فاسقہ کہلائے گی، حاکم پرلازم ہے کہ وہ اس سے منع کرے۔ (التیسیربشرح الجامع الصغیر، جلد1، صفحہ70، 71، مطبوعہ ریاض )
فیض القدیرمیں فرمایا:
”(ليجدوا ريحها) أی بقصد ذلك (فهی زانية) أی كالزانية فی حصول الاثم وان تفاوت لأن فاعل السبب كفاعل المسبب قال الطيبی: شبه خروجها من بيتها متطيبة مهيجة لشهوات الرجال التی هی بمنزلة رائد الزنا بالزنا مبالغة وتهديدا وتشديدا عليها“
ترجمہ: اجنبی مردوں کو خوشبو محسوس کرانے کے قصد و ارادے کی وجہ سےگنہگار ہونے میں یہ زانیہ کی طرح ہوگی، اگرچہ زنا اور قصدِ سببِ زنا میں تفاوت ہے، کیونکہ سبب کو اختیار کرنے والا، مسبب کو اختیار کرنے والے کی طرح ہے۔ امام طیبی رحمہ اللہ نے فرمایا: عورت کا اپنے گھر سے اس حال میں نکلنا کہ وہ خوشبو لگا کر مردوں کی شہوت کو ابھارے، یہ زنا کی ترغیب دینے کی طرح ہے، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مبالغے اور مذمت کی شدت کو بیان کرنے کے لیے زنا کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ (فیض القدیر، جلد3، صفحہ176، مطبوعہ بیروت)
شیخ محقق حضرت علامہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمہ اللہ نے اپنی دونوں کتب ”اشعۃ اللمعات اور لمعات التنقیح“ میں مذکورہ حدیث کی شرح میں فرمایا:
”واللفظ للآخر(فمرت بالمجلس) أی الذی فیہ الرجال مریدۃ تطلعھم الیھا ونظرھم بالشھوۃ۔(فھی کذا وکذا یعنی زانیۃ)“
ترجمہ: عورت خوشبو لگا کر مردوں کی مجلس کے پاس سے گزرے، یہ قصد کرتے ہوئے کہ لوگ اس کی طرف متوجہ ہوں اور اسے شہوت کی نظر سے دیکھیں، تو یہ عورت ایسی ایسی ہے، یعنی زانیہ ہے۔ (لمعات التنقیح، جلد3، صفحہ205، 206، مطبوعہ بیروت)
اپنے محارم کے درمیان عورت جیسی چاہے خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
”فی شرح السنة قال سعد: أراهم حملوا قوله: وطيب النساء على ما اذا أرادت أن تخرج، فأما اذا كانت عند زوجها فلتتطيب بما شاءت“
ترجمہ: شرح السنہ میں ہے، حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: عورت کی خوشبو کے بارے میں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے(کہ عورت کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ظاہر ہو اور مہک کم ہو)، یہ اس وقت ہے جب عورت گھر سے باہر جانے کا ارادہ کرے، اپنے شوہرکے پاس عورت جیسی چاہے خوشبو استعمال کرسکتی ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد8، صفحہ287، مطبوعہ بیروت)
مراۃ المناجیح میں ہے: ”عورتوں کو مہک کی ممانعت اس صورت میں ہے جبکہ وہ خوشبو اجنبی مردوں تک پہنچے، اگر وہ گھر میں عطر لگائیں جس کی خوشبو خاوند، یا اولاد، ماں باپ تک ہی پہنچے تو حرج نہیں۔“ (مراۃ المناجیح، جلد6، صفحہ103، مطبوعہ لاھور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: OKR-0162
تاریخ اجراء: 12 جمادی الاخری 1447ھ/04دسمبر2025ء