بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا پھوپھی کا اپنی بھتیجی کے بیٹے سے پردہ ہے؟
پھوپھی کا اپنی بھتیجی کے بیٹے سے شرعی پردہ نہیں ہے، کہ بھتیجی کی اولاد اس کے محارم میں شامل ہے۔ چنانچہ سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ اس حوالے سے ارشاد فرماتے ہیں: جیسے بھتیجی بھانجی ویسے ہی ان کی اور بھتیجوں اور بھانجوں کی اولاد، اور اولاد اولاد کتنے ہی دور سلسلہ جائے سب حرام ہیں، بنات پوتیوں نواسیوں دور تک کے سلسلے سب کو شامل ہے، جس طرح فرمایا گیا:
حرمت علیکم امھٰتکم و بنتکم
تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں۔ اور ماؤں میں دادی، نانی، پردادی، پرنانی جتنی اوپر ہوں سب داخل ہیں، اوربیٹیوں میں پوتی، نواسی، پرپوتی، پر نواسی جتنی ہوں نیچے سب داخل ہیں، یوں ہی فرمایا:
و بنٰت الاخ و بنٰت الاخت
تم پر حرام کی گئیں بھائی کی بیٹیاں اور بہن کی بیٹیاں۔ ان میں بھی بھائی بہن کی پوتی، نواسی، پرپوتی، پر نواسی جتنی دور ہوں سب داخل ہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 11، ص 447، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
محرمات کے متعلق بہارِ شریعت میں ہے بھتیجی، بھانجی سے بھائی، بہن کی اولادیں مراد ہیں، ان کی پوتیاں، نواسیاں بھی اسی میں شمار ہیں۔(بہارِ شریعت، ج 02، حصہ 07، ص 22، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4581
تاریخ اجراء: 05 رجب المرجب 1447ھ / 26 دسمبر 2025ء