بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا خاوند کی واسکٹ یا جیکٹ وغیره بیوی استعمال کرسکتی ہے؟
بیوی کا خاوند کی مردانہ واسکٹ یا جیکٹ وغیرہ استعمال کرنا، ناجائز و گناہ ہے، اس لیے کہ عورتوں کو مردوں سے مشابہت اختیار کرنے سے شریعت مطہرہ نے منع کیا ہے اور حدیث مبارکہ میں ایسی عورتوں پر لعنت آئی ہے۔
بخاری شریف میں ہے
لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم: المتشبھین من الرجال بالنساء و المتشابھات من النساء بالرجال
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عورتوں سے مشابہت رکھنے والے مردوں اور مردوں سے مشابہت رکھنے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔ (صحیح البخاری، صفحہ 1090، حدیث: 5885، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
عمدۃ القاری میں ہے
تشبہ الرجال بالنساء فی اللباس والزینۃ التی تختص بالنساء مثل لبس المقانع و القلائد و المخانق و الاسورۃ و الخلاخل و القرط و نحو ذلک مما لیس للرجال لبسہ۔۔۔ و کذلک لا یحل للرجال التشبہ بھن فی الافعال التی ھی مخصوصۃ بہن کالانخناث فی الأجسام و التأنیث فی الکلام و المشی
ترجمہ: مردوں کا عورتوں سے لباس میں مشابہت اختیار کرنا منع ہے، اور ایسی زینت میں مشابہت اختیار کرنا منع ہے، جو عورتوں کے ساتھ خاص ہے، مثلا اوڑھنی، ہار، مالا، کنگن، پازیب، بالی اور ان کی مثل وہ چیزیں، جو مرد نہیں پہنتے۔ اسی طرح مردوں کو عورتوں کے ساتھ ان افعال میں تشبہ جائز نہیں جو عورتوں کے ساتھ خاص ہوں، جیسے جسموں میں لچک اور گفتگو اور چلنے میں زنانہ پن پیدا کرنا۔ (عمدۃ القاری، جلد 22، صفحہ 41، دار احیاء التراث العربی، بیروت)
التوضيح لشرح الجامع الصحیح میں ہے
لا يجوز للرجال التشبه بالنساء في اللباس و الزينة التي هي للنساء خاصة، و لا يجوز للنساء التشبه بالرجال مما كان من ذلك للرجال خاصة
ترجمہ: مردوں کا عورتوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا اس لباس و زینت میں جائز نہیں جو عورتوں کے لئےہی خاص ہو، اور عورتوں کا مردوں کے ساتھ مشابہت اختیار کرنا بھی اسی لباس وغیرہ میں جائز نہیں جو مردوں کے لئے خاص ہوں۔ (التوضیح لشرح الجامع الصحیح، جلد 28، صفحہ 100، دار الفلاح)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یعنی عورَتوں کو مردانہ جوتا نہیں پہننا چاہیے، بلکہ وہ تمام باتیں جن میں مردوں اور عورتوں کا امتیاز ہوتا ہے، ان میں ہر ایک کودوسرے کی وَضع اختیار کرنےسے مُمانَعَت ہے، نہ مرد عورت کی وَضع اختیار کرے، نہ عورت مرد کی۔ (بہارِشريعت، جلد 3، حصہ 16، صفحہ 442، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فتاوی رضویہ میں ہے ان حدیثوں سے ثابت ہو اکہ کسی ایک بات میں بھی مرد کو عورت، عورت کو مرد کی وضع لینی حرام وموجب لعنت ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 21، صفحہ 602، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4584
تاریخ اجراء: 08 رجب المرجب 1447ھ / 29 دسمبر 2025ء