logo logo
AI Search

نفاس والی عورت کے ساتھ کھانا کھانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نفاس والی عورت کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نفاس (یعنی جس عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے ایسی عورت) کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانا، جائز ہے؟

جواب

جی ہاں! نفاس (یعنی جس عورت کو بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے ایسی عورت) کے ساتھ کھانا کھانا، جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ نفاس (بچے کی پیدائش کے بعد آنے والے خون) کی وجہ سے اس کے استعمال کی تمام چیزیں ناپاک نہیں ہوجاتیں، بلکہ صرف وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے۔ لہٰذا نفاس والی عورت کے ساتھ کھانا کھانا، اس کے ساتھ بیٹھنااور اس کا جھوٹا کھانا بھی شرعاً جائز ہے، گناہ نہیں ہے۔ شریعت نے جن کاموں کی ممانعت فرمائی ہے (مثلاً: نماز روزہ، تلاوتِ قرآن، طواف و مسجد میں داخل ہونا اور ازدواجی معاملات وغیرہ) تو یہ سارے واضح ہیں، ان سے بچتے ہوئے دیگر گھریلو معمولی کام کاج اور ساتھ بیٹھنا، کھانا پینا یہ منع نہیں ہے، ہاں ایسی عورت کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے اور کھانے پینے کو برا، منحوس سمجھنا یا کسی بھی قسم کی بدشگونی لینا، یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے: ﴿وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِیْضِؕ- قُلْ هُوَ اَذًىۙ- فَاعْتَزِلُوا النِّسَآءَ فِی الْمَحِیْضِۙ- وَ لَا تَقْرَبُوْهُنَّ حَتّٰى یَطْهُرْنَۚ- فَاِذَا تَطَهَّرْنَ فَاْتُوْهُنَّ مِنْ حَیْثُ اَمَرَكُمُ اللّٰهُؕ- اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ وَ یُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِیْنَ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور تم سے حیض کے بارے میں پوچھتے ہیں تم فرماؤ: وہ ناپاکی ہے تو حیض کے دنوں میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ جب تک پاک نہ ہوجائیں پھر جب خوب پاک ہوجائیں تو ان کے پاس وہاں سے جاؤ جہاں سے تمہیں اللہ نے حکم دیاہے، بیشک اللہ بہت توبہ کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے اور خوب صاف ستھرے رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ (القرآن، پارہ 02، سورۃ البقرۃ: 222)

تفسیر صراط الجنان میں ہے: ”عرب کے لوگ یہودیوں اور مجوسیوں کی طرح حیض والی عورتوں سے بہت نفرت کرتے تھے، ان کے ساتھ کھانا پینا، ایک مکان میں رہنا انہیں گوارا نہ تھا بلکہ یہ شدت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ ان کی طرف دیکھنا اور ان سے کلام کرنا بھی حرام سمجھتے تھے جبکہ عیسائیوں کا طرزِ عمل اس کے بالکل برعکس تھا یعنی وہ ان دنوں میں عورتوں سے ملاپ میں بہت زیادہ مبالغہ کرتے تھے۔ مسلمانوں نے حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے حیض کا حکم دریافت کیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اور اِفراط و تفریط کی راہیں چھوڑ کر اعتدال کی تعلیم فرمائی گئی اور بتادیا گیا کہ حیض کی حالت میں عورتوں سے ہم بستری کرنا حرام ہے۔ اور چونکہ یہ قرآن کی واضح آیت سے ثابت ہے لہٰذا ایسی حالت میں جماع جائز جاننا کفر ہے اور حرام سمجھ کر کر لیا تو سخت گنہگار ہوا اس پر توبہ فرض ہے۔یونہی ناف سے لے کر گھٹنے کے نیچے تک کی جگہ سے لذت حاصل کرنا منع ہے۔ بقیہ ان سے گفتگو کرنا، ان کے ساتھ کھانا پینا حتی کہ ان کا جوٹھا کھانا بھی جائز ہے، گناہ نہیں۔ اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ عورت کے پچھلے مقام میں جماع کرنا حرام ہے کیونکہ وہ بھی گندگی کا مقام ہے۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 342، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”چُوڑ یاں، چارپائی، مکان سب پاک ہیں فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”اپنے ساتھ کھلانا یا ایک جگہ سونا جائز ہے۔ بلکہ اس وجہ سے ساتھ نہ سونا مکروہ ہے۔ ۔ ۔ ان باتوں میں نفاس کے وہی احکام ہیں جو حیض کے ہیں۔ نِفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے، اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حَرَج نہیں۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے برتن تک الگ کر دیتی ہیں، بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں، یہ ہندؤوں کی رسمیں ہیں، ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم، اکثر عورتوں میں یہ رواج ہے کہ جب تک چلّہ پورا نہ ہولے اگرچہ نِفاس ختم ہو لیا ہو، نہ نماز پڑھیں نہ اپنے کو قابل نماز کے جانیں یہ محض جہالت ہے، جس وقت نِفاس ختم ہوا اسی وقت سے نہا کر نماز شروع کردیں، اگر نہانے سے بیماری کا پوراا ندیشہ ہو تو تیمم کرلیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 383، 384، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: FatwaQA-002
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ / 02 ستمبر 2026ء