logo logo
AI Search

نفاس والی عورت کے استعمال شدہ برتن استعمال کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

نفاس والی عورت کے استعمال کے برتن دوسرے لوگ استعمال کر سکتے ہیں ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نفاس والی عورت (یعنی ایسی عورت جسے بچے کی پیدائش کے بعد آئے) اس کے استعمال کیے ہوئے برتن بعد میں گھر کے دوسرے افراد استعمال کرسکتے ہیں؟ یا اس کے لیے برتن الگ رکھنا ضروری ہے؟

جواب

جی ہاں! نفاس والی عورت (یعنی ایسی عورت جسے بچے کی پیدائش کے بعد خون آئے) کے استعمال کیے ہوئے برتن اسی وقت یا بعد میں بھی گھر کے دوسرے افراد استعمال کرسکتے ہیں، بلکہ اس کے لیے الگ برتن رکھنا یا اس کے برتنوں کو ناپاک سمجھنا غیر مسلموں کا طریقہ اور جاہلیت کی رسموں میں سے ہے، مسلمانوں کو ایسی غلط رسموں اور توہمات سے بچنا چاہیے، البتہ اگر برتن پر کوئی حقیقی نجاست لگ جائے تو اسے پاک کرنا ضروری ہوگا، لیکن نفاس والی عورت کے محض استعمال کی وجہ سے کسی چیز کو ناپاک یا منحوس سمجھنا، اس سے بدشگونی لینا یا محض اس بنا پر اس کے استعمال سے اجتناب کرنا کہ اسے نفاس والی عورت نے استعمال کیا ہے، درست نہیں۔ اسی طرح کسی قابلِ استعمال چیز کو صرف نفاس والی عورت کے استعمال کی وجہ سے ضائع کرنا بھی جائز نہیں، کیونکہ بلاوجہ مال ضائع کرنا اسراف ہے اور اسراف شرعاً منع و ناجائز ہے۔

امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”چُوڑ یاں، چارپائی، مکان سب پاک ہیں فقط وہی چیز ناپاک ہوگی جسے خون لگ جائے گا بغیر اس کے ان چیزوں کو ناپاک سمجھ لینا ہندوؤں کا مسئلہ ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 4، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”نِفاس میں عورت کو زچہ خانے سے نکلنا جائز ہے، اس کو ساتھ کھلانے یا اس کا جھوٹا کھانے میں حَرَج نہیں۔ ہندوستان میں جو بعض جگہ ان کے برتن تک الگ کر دیتی ہیں، بلکہ ان برتنوں کو مثل نجس کے جانتی ہیں، یہ ہندؤوں کی رسمیں ہیں، ایسی بے ہُودہ رسموں سے اِحْتِیاط لازم ۔ (بہارِ شریعت، جلد 01، حصہ 02، صفحہ 383، 384، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

حضرت بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے: ”أن النبي صلى اللہ عليه و سلم كان لا يتطير من شيء“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی چیز سے بدشگونی نہیں لیتے تھے۔ (سنن أبي داود، کتاب الطب، جلد 4، صفحہ 19، رقم الحدیث: 3920، المكتبة العصرية، بيروت)

نیز حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”لا طیرۃ“ ترجمہ: بد شگونی کوئی چیز نہیں۔ (صحیح بخاری، جلد 7، صفحہ 135، رقم الحدیث 5754، دار طوق النجاۃ)

ایک اور حدیث پاک میں فرمایا: ”لیس منا من تطیر“ ترجمہ: جس نے بد شگونی لی، وہ ہم میں سے نہیں (یعنی ہمارے طریقے پر نہیں)۔ (المعجم الکبیر، جلد 18، صفحہ 162، مطبوعہ قاھرۃ)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”اسراف بلاشبہ ممنوع و ناجائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ دوم، صفحہ 926، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

حاشیہ میں لکھا ہے: ”مسئلہ: اسراف کہ ناجائز و گناہ ہے، صرف دو صورتوں میں ہوتا ہے، ایک یہ کہ کسی گناہ میں صرف و استعمال کریں، دوسرے بیکار محض مال ضائع کریں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 01، حصہ دوم، صفحہ 940، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی

فتوی نمبر: FatwaQA-020

تاریخ اجراء: 21 ربیع الاول 1448ھ/04 ستمبر 2026ء